عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 7,2019 | 1441, رَبيع الثاني 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Mohid_Tahreek آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
رواداری کی حدود
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

فصل سوم

رواداری کی حدود

 

 

"دعوت" اصل میں تو تاثرات کی جنگ ہے..

رواداری کا سوال بھی اسی وجہ سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ جاہلیت معاشرے میں پہلے زندگی کا ایک دھارا بناتی ہے، جو کہ طرح طرح کے ظلم سے پُر ہوتا ہے۔ خواہ اسے باپ دادا کا راستہ کہا جائے یا جاہلی ماحول اور گردو پیش کا اپنا ہی تقاضا، یا جاہلی ابلاغ اور تعلیم کا اثر، یا انسانی اھواءو خواہشات و خرافات یا لوگوں کی عقول اور اموال اور صلاحیتوں کا استحصال۔ جاہلیت پہلے زندگی کا یہ دھارا بناتی ہے۔ پھر اس دھارے کے ساتھ جتنے لوگ رضاکارانہ طور پر __ اور دراصل ایک باقاعدہ سماجی اور ابلاغی دباؤ کے تحت __ چلنا چاہیں ان کو ساتھ چلاتی ہے۔ البتہ جو نہ چلنا چاہیں ان سے رواداری کا تقاضا کرتی ہے!

سماج کا اثر بے انتہا زور آور ہوتا ہے۔ ایک غیر معمولی عزیمت اور قوت ارادی کے بغیر، جو کہ توحید ہی کی دین ہو سکتی ہے، اور ایک غایت درجے کی دانشمندی اختیار کئے بنا، جو کہ سنت و منجِ سلف میں بصیرت پا کر مل سکتی ہے، اس کی مزاحمت ناممکن رہتی ہے۔ تاثرات پہاڑ سے بھاری ہوتے ہیں۔ اچھے اچھے لوگ بسا اوقات اس پہاڑ سے ٹکرانے کے خلاف شرعی دلائل پیش کرتے دیکھے گئے ہیں! اس پہاڑ کو ہلانا جن کی نگاہ میں ناممکن ہوتا ہے ان کیلئے خود تھوڑا سا ہل جانا اور اس پہاڑ سے ذرا کترا کر گزرنا مسئلے کا آسان اور طبعی حل ہوتا ہے۔ جاہلیت جس رواداری کی متقاضی ہوتی ہے اس سے مراد دراصل یہی ہوتی ہے کہ آدمی یہاں اپنے کام سے کام رکھے!

جاہلی دھارے کے ساتھ چلنے سے انکار کرنا ایک دشوار کام ہے اور ابتدا میں تو ایک خاص نظریاتی پختگی کو پہنچے ہوئے لوگ ہی یہ جرات کر سکتے ہیں۔ چنانچہ رواداری ایک طرح کا خراج ہے۔ ہر جاہلی معاشرہ اسی ٹیکس پر چلتا ہے۔ یہ خراج معاشرے کے ایک عام فرد پر جاہلیت اپنا کم از کم حق جانتی ہے۔ اس حق کو وہ ہر ایک سے زبردستی بھی لیتی ہے اور گو یہ محض ایک منہ ملاحظہ ہے مگر ایک فرد کیلئے اس سے جان چھڑانا جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔

دوسری طرف اللہ کا حق ہے۔ پیدا کرنے والے کا تقاضا ہے۔ تخلیق کا مقصد ہے۔ نجات کا سوال ہے۔ وجود کی غایت ہے۔ اطاعت، عبادت، پرستش، تعظیم، تقدیس، کبریائی، بندگی، ڈر، خوف، محبت، عقیدت، گرویدگی صرف اس ذات کی جو واقعتاً اور درحقیقت اِس پر حق رکھتی اور جس نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ کے راستے کو ہدایت اور راستی کی سند دی اور جس کا کم از کم حق یہ ہے کہ اس سے متعارض اور متصادم راستوں کو نہ صرف غلط مانا جائے بلکہ برملا طور پر باطل کہا جائے۔

حق اور باطل کے درمیان رواداری اسی وجہ سے باعثِ نزاع بن جاتی ہے۔ جاہلیت کے ہاں غلط اور صحیح کی اپنی تقسیم ہے اور اسلام کے ہاں اپنی۔ دونوں میں صاف تعارض ہے۔ جو ایک کے ہاں صحیح ہے وہ دوسرے کے ہاں غلط ہے۔ ان دونوں کے’صحیح‘ اور ’غلط‘ میں بعض جگہوں پر اگر اشتراک پایا جاتا ہے تو بہت ہی اہم اور بنیادی مسائل میں صاف تعارض ہے۔ ایک سے رواداری دوسرے سے انحراف ہے۔ اب یہاں رواداری کا لفظ بے معنی اور غیر متعلق irrelevent ہو جاتا ہے۔ یہاں تو سوال یہ ہو گا کہ رواداری کس سے ہو اور انحراف کس سے؟ دونوں کے ساتھ سازگاری ممکن نہیں۔ جاہلیت کے اپنے تقاضے ہیں جو اسلام سے متعارض ہیں۔ دوسری جانب اسلام کے اپنے تقاضے ہیں جو جاہلیت سے صاف متصادم ہیں۔ دونوں کا یہ تعارض اس قدر واضح اور اس قدر جذری اور بنیادی ہے کہ ایک کا رہنا دوسرے کا جانا ہے۔ ایک کو اپنی اصل حالت پہ چھوڑ دینا دوسرے میں جذری ترمیم کر دینا ہے اور اس کو اس کی اصل حالت پر رہنے نہ دینا۔ دو متعارض عقیدوں کی جنگ ہو تو آپ دونوں کے حق میں فیصلہ کر ہی نہیں سکتے۔ بیک وقت دونوں سے نباہ ممکن نہیں۔ ایک کو اصل مان کر دوسرے میں ہر وہ ترمیم کر دینا پڑے گی جو اس ایک کا تقاضا ہو۔

دو "باطل" نظریات میں بھی اگر تصادم ہو تو رواداری کا سوال عموماً اس طرف سے اٹھتا ہے جو لوگوں کی اکثریت پر غالب اور متسلط ہو۔ کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی ضرورت اس نظریے کو زیادہ ہونی چاہیے جو اکثریت کی حمایت نہیں رکھتا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ رواداری کی صدا عموماً اسی طرف سے بلند کی جاتی ہے جو حالتِ موجودہ status quo کو باقی اور بحال رکھنے پر مصر ہو۔ چنانچہ اس صدا پر لبیک کہنے کا آپ سے آپ مطلب یہ ہوگا کہ اسی نظریے کی سیادت پر راضی برضا رہا جائے جو پہلے سے قائم ہے۔

البتہ حالتِ موجودہ status quo کے داعی طبقے جس رواداری کے متقاضی ہوتے ہیں وہ ایک خاص قسم کی یکطرفہ رواداری ہوتی ہے۔ اس سے مراد ہوتی ہے حصہ بقدر جثہ یعنی جتنا کوئی طبقہ معاشرہ میں زیادہ بڑا یا زیادہ بااثر ہے اتنا ہی اس کو غلط کہنے سے احتیاط برتی جائے اور جتنا کوئی طبقہ چھوٹا یا بے اثر ہے اتنا ہی اس کو معاشرتی رحجانات کے ساتھ راوداری اپنانے کی تاکید کی جائے!

دو متعارض نظریات "باطل" بھی ہوں تو ان میں یہ کھینچا تانی ناگزیر ہوتی ہے۔ ورنہ حالتِ موجودہ برقرار ہتی ہے۔ پھر جب معاملہ "حق" اور "باطل" کا ہو اور جبکہ "جاہلیت" معاشرتی رحجانات پہ حاوی ہو وہاں حق کی جانب سے حالتِ موجودہ کے ساتھ نظریاتی رواداری اپنا رکھنے کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ جس باطل کی سیادت معاشرے میں قائم ہے اسی کی سیادت باقی رہے۔

رہا یہ کہ کچھ تبدیل کیا جائے تو اس کیلئے یہ تکلیف بہرحال کرنا پڑے گی کہ ہزاروں لاکھوں لوگ جس بات کو صحیح سمجھتے ہیں اسے غلط کہنے کی انہونی حرکت کر ڈالی جائے اور اس کے بدلے میں ہر طرف سے عتاب مول لیاجائے۔ انسانی جذبات کا احترام بے حد ضروری ہے مگر حق کی حرمت اس سے بڑی ہے۔ "حق" کی اتباع، جیسا کہ پیچھے بیان ہوا، "انسان"کی اصیل ترین خاصیت ہے۔

پس نظریات اور عقائد کی جنگ میں ایک کی بقا دوسرے کی زندگی کی قیمت پر ہوتی ہے۔ اس میں حرج کی کوئی بات ہے اور نہ یہ رواداری کے خلاف ہے۔ ایک نظریہ رہے گا تواس سے متصادم دوسرا نظریہ آپ سے آپ نہیں رہے گا۔رواداری کے منافی کوئی بات ہے تو وہ یہ کہ لوگوں کو بندوق کی نوک پرکلمہ پڑھوایا جائے اورباطل سے برگشتہ کرنے کیلئے لوگوں کے ساتھ زبردستی کی جائے۔ رہا یہ کہ ایک باطل نظریے یا ایک جاہلی طرز زندگی کو ذہنوں کی دنیا میں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اسلام سے متصادم امور کو، خاص طور پر ایک مسلم معاشرے سے، ختم کرنے پر آمادۂ عمل ہوا جائے تو یہ رواداری کے ہرگز منافی نہیں۔ کم از کم رواداری کے اسلامی تصور کے منافی نہیں۔

نظریات میں تصادم جب ایک واقعہ ہے تو پھر کسی ایک ذہن میں یا کسی ایک معاشرے کے اندر ایک نظریے کا پنپنا دوسرے کے ختم یا مسخ ہونے کی قیمت پر ہوگا۔ جاہلی نظریات وعقائد اور جاہلی طرز زندگی کے ساتھ اگر آپ یہ مہربانی کرنا چاہیں گے کہ انہیں اپنے حال پر رہنے دیا جائے تو وہ اسلام کے مسخ ہونے کی قیمت پر ہوگا اور اگر اسلام کو اس کی اصل حقیقت کے ساتھ لے کر چلنا چاہیں گے تو وہ جاہلیت کے مسخ اور قطع و برید ہونے کی قیمت پر ہوگا۔ آپ کو کوئی ایک قیمت دیناہوگی۔ آپ کے پاس کوئی چناؤ ہے تو صرف یہ کہ آپ کونسی قیمت دینا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس چناؤ کے بہت سے راستے نہیں۔ ایک سے مہربانی خودبخود دوسرے سے زیادتی ہوگی۔ آپ کو صرف یہ دیکھنا ہے کہ مہربانی کس کے ساتھ ہو اور زیادتی کس کے ساتھ۔ خیر اور شر، حق اور باطل، توحید اور شرک دونوں میں خدا نے آپ ہی کچھ ایسا تعارض رکھ دیا ہے کہ اس کا ازالہ کر دینا آپ کے بس کی بات نہیں۔ دونوں کے ساتھ مہربان ہونا آپ کیلئے ممکن نہیں۔ دونوں کو رہنے دینا رواداری ہے اورنہ انصاف۔ 
ہاں اشخاص اور نظریات میں فرق ضروری ہے..

باطل یا شر کی راہ پر کوئی شخص ہے تو اس شخص کے ساتھ اچھائی کرنے میں کوئی برائی نہیں۔ مگر خود اس باطل اور شر پر ہی آپ مہربان ہوں اور اس کو ہی زندہ رہنے کا حق دیں، اس کی کوئی بھی تک نہیں۔ باطل کے ساتھ نیکی خود بخود حق کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ خدا ترسی اوررحمدلی اور رواداری انسانوں کے ساتھ ہے خواہ وہ کتنے ہی غلط راستے پر کیوں نہ ہوں نہ کہ نظریات اور عقائد کے ساتھ!

عقائد، نظریات، افکار، تہذیبیں، ثقافتیں اور طرز ہائے حیات اگر باطل ہیں تو ان کی موت ہو جانا عین حق اور انصاف کا تقاضا ہے۔ خدا چاہتا تو خود ان کی موت کروا دیتا بلکہ پیدا ہی نہ کرتا اور یا پھر فرشتوں سے ان کی موت کرواتا مگر اس نے ہی زمین پر اپنے بندوں کی آزمائش کیلئے ان کو پیدا کیا اور اس نے ہی اپنے بندوں کو یہ مشن دیا کہ وہ باطل کے خاتمہ اور حق کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہوں۔ شرک کو مسترد کر دیں اور توحید کی راہ اختیار کریں۔

 

اور ہم تم کو خیر اور شر کی ابتلا سے آزماتے ہیں۔ آخر لوٹنا تم کو ہماری ہی طرف ہے۔

وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ(الانبیاء:35)

 

کتابوں کا نزول اور نبیوں کی بعثت اسی لئے ہے کہ وہ شر اور باطل جو خدا نے اپنی مرضی سے اور اپنی کسی حکمت کے پیش نظر پیدا کیا ہے.. خدا کی وحی اور اس کی شریعت کی مدد سے اور شریعت و وحی کی اتباع کی راہ سے اس شر اور باطل کو ختم کیا جائے اور اس کی جگہ _ ذہنوں اور دلوں کی دُنیا میں اورمعاشرے کی سرزمین پر _ خیر اور حق کا احقاق کیا جائے۔

 

مگر ہم تو باطل پر حق کی ضرب لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے (البتہ) تم جو وصف بتاتے ہو وہ تمہارے لئے باعث بربادی ہے

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ(الانبیاء:18)

 

نیکی، احسان، نرمی اور لطف انسانوں کے ساتھ کرنے کا حکم ہے (وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا.. ) خواہ وہ انسان باطل پر کیوں نہ ہوں مگر خود یہ باطل کسی نرمی، کسی نیکی، کسی لطف اور کسی رُو رعایت کا مستحق نہیں ہوتا۔ چنانچہ رواداری کا محل انسان ہیں بے شک وہ کسی بھی دین پر ہوں البتہ باطل کے ساتھ رواداری حق کا استحصال ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ باطل کے ساتھ نیکی کا ارادہ جب آپ کے دل میں پرورش پاتا ہے تو حق کے ساتھ اس سے پہلے آپ زیادتی کر چکے ہوتے ہیں۔

غلط کو غلط کہنا اورباطل کو باطل جاننے پر مصر رہنا عقل کا تقاضا ہے اور ہمارے دین کا حکم۔ باطل کو باطل جاننا ایمان کا کمترین درجہ ہے۔

وَلَیْسَ وَرَاءَ ذَلِکَ مِنْ الْاِیمَانِ حَبَّۃ خَرْدَلٍ(1)

یہ نہیں تو رائی برابر ایمان نہیں رہتا۔

 

********

 

نظریات، عقائد، طرز ہائے معاشرت حق ہوں یا باطل فضا میں نہیں پائے جاتے۔ نہ ہی فضا میں پائے جا سکتے ہیں۔ ان کو انسانی ذہنوں اورانسانی معاشروں میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ یہاں سے اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک نظریے کوہٹا کر دوسرے نظریے کو بسانے کا واقعہ انسانی شعور کے اندر ہی رونما ہونا ہوتا ہے۔ ایک عقیدے کی موت اور اس کی جگہ دوسرے عقیدے کا احیاءانسانی قلب وذہن اور انسانی معاشرے کے اندر ہی رُو پزیر ہوتا ہے۔ حق اورباطل کا یہ معرکہ بلاشبہ افکار ونظریات اور عقائد ورحجانات ہی کے مابین ہونا ہوتا ہے مگر میدان جنگِ بہرحال انسانی ذہن وشعور اور انسانی معاشرہ ہی بنتا ہے۔ جنگ کے اثرات ظاہر ہے ماحول اور گرد وپیش پر پڑ کر رہتے ہیں۔ میدان جنگ کا کچھ نہ کچھ نقصان بہرحال ہوتا ہے۔ یہ ایک آزمائش ہے۔ خدا کی طرف سے ہے۔ اور ناگزیر ہے۔ خدا نے یہ دُنیا پیدا ہی کچھ اس طرح کی ہے۔ یہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ جنگ کی اس سرزمین کا نقصان اور اس میں توڑ پھوڑ کم سے کم ہو۔ انسانی جذبات کا مجروح ہونا کم سے کم ہو۔ انسانی قلب وشعور میں باطل کو مغلوب اور حق کو غالب کرنے کا عمل کم سے کم نقصان اٹھا کر اور زیادہ سے زیادہ خوش اسلوبی سے اور باحسن انداز انجام پائے۔ البتہ کسی تکلیف کے ڈر سے علاج ترک بہرحال نہ کیا جائے۔ حکمت در اصل اسی صلاحیت کو پانے کا نام ہے۔

 

اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ بے شک تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے کون اُس کے راستے سے بھٹکتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کون ہدایت یافتہ ہیں۔

ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ(125 - النحل)

اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبی، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ(33) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (34) وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ  (35 - حم السجدۃ)

اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہ جہل حد سے گزر کر اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے۔ ہم نے تو اس طرح ہر گروہ کیلئے اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔

وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (108 - الأنعام)

 

باطل کے خاتمہ کے اس مشن میں انسان کو بچانے کی ازحد کوشش کرنا ہمیں ہمارے اپنے ہی دین کا سبق ہے۔ آپ اس کو رواداری کہیں یا کچھ اور، مگر ہمیں اس کی بھرپور ہدایت ہوئی ہے۔ انسان کو.. یعنی انسان کے جذبات واحساسات کو، انسان کی عزت وآبرو، نام ونسب، سماجی مرتبہ، جان ومال، رشتے اور کنبے، قوم اور قبیلے، ملک اور معاشرے.. ہر چیز کو بھرپور تحفظ دیا جانا ہے۔ یوں دعوت اس بات کی کوشش ہے کہ انسان کو کم از کم گزند پہنچے مگر باطل کو کوئی ترس کھائے بغیر ختم کیا جائے۔

توحید کو انسانی شعور میں گہرا اتارنے اور انسانی معاشروں میں ایک زندہ حقیقت کا روپ دینے کے اس عمل میں انسان کو ہر پہلو سے تحفظ دینا اسلامی دعوت کا ایک واضح ترین مسلّمہ ہے۔ یہ محض کوئی سیاسی منشور نہیں بلکہ یہ اس عمل کا خود اپنا ہی تقاضا ہے۔ انسان کے ساتھ یہ برتاؤ خود اس عمل کے بھی شایان شان ہے۔ خود اس عمل کا پنپنا اور اس کا ثمر آور ہونا انسان کی عزت نفس اور انسانی رشتوں اور سماجی بندھنوں کے تحفظ میں مضمر ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو تکریم اور خوش بختی اور روح کا چین دینے آیا ہے نہ کہ بدبختی سے دوچار کرنے:

 

طہ۔ ہم نے یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کیلئے جو خشیت اختیار کرلے

طه (1) مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى (2)إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى (3) -طه

یہ کہ نہ کرو عبادت مگر ایک اللہ کی. بے شک میں ہوں تمہارے لئے اس کی جانب سے ڈرانے والا اور خوشخبریاں دینے والا" .اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت مانگو اور اس کی جانب پلٹ اؤ تو وہ تم کو وقت مقرر تک خوب سامان زیست دے گا اور ہر صاحب فضل کو فضل بہم پہنچائے گا

أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ(3) - ہود

یہ وہ (لوگ) ہیں جو ان سب رشتوں کو پختہ کرتے ہیں جنہیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اپنے پروردگار کا خوف رکھتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ (21) - الرعد

 

*************

 

یہ ہیں رواداری کی حدود جو ہماری نظرسے کسی وقت اوجھل نہیں ہونی چاہئیں۔ توحید کی جنگ شرک کے ساتھ ہونا.. حق اور باطل کے مابین یہ تنازعہ خدا کا حکم ہے۔ خدا کے اس حکم کو ٹال دینا کسی کا اختیار نہیں۔ اس جنگ کو موقوف کر دینا رواداری نہیں۔ وہ چاہتا تو شرک اور باطل وجود میں ہی نہ آتے اور ہم اس لڑائی سے بچ کر بڑے ہی آرام سے صرف نماز روزہ یا ذکر اذکار یا اسلامی تحقیقات وغیرہ ایسے امور تک محدود رہتے مگر اس نے ہی یہاں اس شر اور باطل کو پیدا کیا اور اس نے ہی پھر اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے اپنے بندوں کو اس کے خاتمے کامشن دیا۔ اب اس کی بندگی ہونے کیلئے _ حتی کہ نماز روزہ اور ذکر واذکار وغیرہ کے معتبر ہونے کیلئے _ شرک سے مخاصمت اور باطل سے عداوت ایک بنیادی شرط ہے اور یہ شرط خود اسی کی طرف سے عائد کردی گئی ہے۔

یہاں سے اب اس معاملے کی ایک اور جہت سامنے آتی ہے۔ اس معرکۂ خیر وشر میں انسان بھی اس لحاظ سے متعلق ہو جاتے ہیں کہ انہی کے ذہنوں کی زمین میں اور انہی کے معاشروں کے اندر یہ جنگ لڑی جانی ہے۔ باطل کو ختم کرنا، پر انسان کو بچا لینا، ازروئے دین فرض ہے الا یہ کہ کوئی انسان از خود اپنے وجود کو باطل کے وجود سے آخری حد تک نتھی کرلے اورخدا کی مخلوق اور خدا کی بندگی کے مابین آڑے آنے میں آخری حد تک جانے پر مصر ہو۔ تب ضرور اسے اگر کوئی ٹھیس پہنچے تو آپ خدا کے ہاں عذر رکھتے ہیں خصوصاً جبکہ بچاؤ کی ہر تدبیر کی جا چکی ہو۔

یہ بہرحال واضح ہونا چاہیے کہ حق اور باطل کا یہ تصادم دراصل انسان کو تکریم دینے کیلئے ہے نہ کہ انسان کو خراب کرنے کیلئے۔ انسان پر حق بھی زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں نہ حق کی تکریم ہے اور نہ انسان کی۔ پوری سمجھ بوجھ اور آزادانہ مرضی سے حق کو قبول کیا جانا حق کے بھی شایان شان ہے اور بنی نوع انسان کے بھی۔ یہ تکریم انسان کو خدا کی جانب سے عطا ہوئی ہے جو کہ اس کا امتحان بھی ہے اور اس کا اعزاز بھی۔

دعوتِ حق کی یہ خوبی اور یہ خاصیت اور یہ اعزاز خود ہی اس بات کیلئے کافی ہے کہ اس محنت کے حجم اور نوعیت کا اندازہ کر لیا جائے جو اس راستے میں کرائی جانا ہے۔ لوگوں کو کوئی بات دل سے منوانا ایک کٹھن کام ہے گو اس میں اصل عنصر اس حق کی خود اپنی ہی صداقت اور دوسری جانب انسان کے اپنے ہی اندر قبولِ حق کی ایک فطری صلاحیت ہے مگر ان دونوں کو برآمد کرنا اور پھر انکا ایک دوسرے سے اتصال کروانا اور انکے مابین جاہلیت کے پیدا کردہ فاصلے دور کروانا داعیان حق ہی کا کام ہے اور اس مقصد کو بروئے کارلانے کیلئے تمام تر ذرائع اختیار کرنا اور اس مشن کی تکمیل کیلئے اپنے دور کے شایان شان وسائل اپنانا ان کا ایک اہم ترین فرض۔

 

**********

 

اسلام اور دعوت توحید کے حوالے سے رواداری کا پھر ایک اور پہلو بھی واضح ہو جانا چاہیے۔ اس کا تعلق آخری رسالت کے موضوع سے ہے..

اسلام ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جو خدا کے ہاں سے نازل ہوئی ہے۔ پس یہ ایک متعین حقیقت ہے۔ اس میں ردوبدل کر دینے کا کوئی بھی شخص مجاز نہیں۔ پہلی رسالتیں جب اپنی اصل حالت میں دستیاب نہ رہیں تب یہ آخری رسالت بھیجی گئی تاکہ لوگ پورے یقین اور وثوق سے عین وہ بات جان سکیں جو خدا کے ہاں سے ان کے لئے نازل ہوئی اور جس پر ایمان لانا اور عمل پیرا ہونا ان سے ازروئے شریعت مطلوب ہے۔ اسلامی عقیدہ اور اسلامی تصور حیات کی یہ ایک اہم ترین خصوصیت ہے کہ اس میں خدا کی وحی انسانی اھواءو خواہشات کے ساتھ خلط ہونے کے ہر شائبے سے پاک ہے۔ اس دین کی یہ خاصیت کہ یہ ہر ملاوٹ اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پاک ہے اس کے آخری رسالت ہونے کی ایک زبردست دلیل ہے۔ اس کی یہ خاصیت خدا کی طرف سے ہے مگر اس کے تحفظ کا ذریعہ ہر دور کے موحد حاملین حق ہی بنے ہیں۔ چنانچہ اسلام کو ہر دور کی انسانی اھواءو خواہشات سے پاک اور خالص رکھنا عین وہ کام ہے جو اس آخری رسالت کے واقعتاً شایان شان ہونا چاہیے۔ دنیا کا کوئی بہترین گروہ ہو سکتا ہے تو وہی لوگ جو اپنے دور میں خالص اسلام کا تحفظ کرنے کو کھڑے ہوں اور جو اپنے زمانے میں سوچ اور عمل کے ہر اس فیشن کی راہ روکنے کو آگے بڑھیں جو کہ اسلام نہیں مگر اسلام کی سند پانا چاہے۔

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: علمائے اہلسنت ابدال ہیں۔ یعنی اس وقت انبیاءکا بدل ہیں۔ رسولوں کے قائم مقام ہیں اور آسمانی ہدایت کے امین(2)۔ انبیاءکی وراثت سب سے بڑا اعزاز ہے جو کہ اس امت کے اہل حق کو حاصل ہے۔

ہر دور میں انسانی اھواءو خواہشات کو یہ تقاضا ہوتا رہا ہے کہ وہ چیزیں اور باتیں جو اسلام نہیں ان کو اسلام کی سند دلائی جائے اور کچھ ایسی باتیں جو اسلام ہیں ان کو اسلام کے حوالے سے بیان نہ کیا جائے۔ اس بات کو لوگ زمانے کے ساتھ چلنے کا عنوان دیتے ہیں اور ایسا نہ کرنے کو جمود اور قدامت پسندی اور تحجر اور نہ جانے کیا کیا۔ گویا اسلام کو زمانے کے ساتھ چلنا ہے نہ کہ زمانے کو اسلام کے ساتھ! اسلام اگر کہیں انکے کہنے پر زمانے کے ساتھ چلنے لگتا تو اسلام اس قدر زمانے دیکھ آیا ہے اور اس قدر زمانے اس پر ابھی اور آنے ہیں کہ یہ کچھ سے کچھ ہو جاتا مگر اسلام آج بھی وہ ٹھوس حقیقت ہے کہ جو آج سے چودہ صدیاں پیشتر تھی اور قیامت تک اس کو ویسا ہی رہنا ہے!

یہ ہرگز کوئی آسان بات نہیں۔ اسلام کو اس کے اصل پر باقی رکھنے پر ہر دور کے اہل حق کی بے انتہا محنت ہوئی ہے اور زمانے سے ان کو اس پر بہت کچھ سننا اور سہنا پڑا ہے۔

اسلام خدا کی شریعت ہے اور خدا کا تقاضا۔ خدا اپنے بندوں سے کیا تقاضا کرے، یہ فیصلہ اسے کرنا ہے۔ ہر دور کے انسانوں کو اس کے تقاضوں پر پورا اترنا ہے اور اس کو کسی کے تقاضوں پر پورا اترنے کی کوئی ضرورت درپیش نہیں۔ قوت اور اختیار اس کے ہاتھ میں ہے۔ جنت اور جہنم اس کے پاس ہے۔ مطلق علم وہ رکھتا ہے اور حق اور عدل اس کی صفت:

 

اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ مگر ہم تو ان کے پاس ان کا پیغام لائے ہیں سو وہ اپنے اس پیغام ہی سے منہ موڑے ہوئے ہیں

وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ(71 - المؤمنون)

 

کوئی اس اسلام کو، جیسا کہ یہ ہے اور جیسا کہ یہ اللہ کے ہاں سے نازل ہوا ہے، قبول نہیں کرنا چاہتا تو دُنیا کی زندگی زندگی اس کو اس کی پوری آزادی ہے۔ اس کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کو کرنا ہے ہمیں نہیں۔ اس تک خدا کا یہ تقاضا بلا کم وکاست پہنچا دینا البتہ ہمارا کام ہے اس سے آگے وہ جانے اور خدا جانے ہمارا کام اس پر ختم ہو جاتا ہے۔ کسی پر زبردستی کرنا اسلام کا حکم نہیں۔ رواداری کا یہ مفہوم اسلام میں بہت واضح ہے۔ اس کو جیسا کہ یہ ہے اور جیسا کہ یہ اللہ کے ہاں سے نازل ہوا ہے، من وعن بیان کرنا اور لوگوں تک پہنچانا اور اس کے بتائے ہوئے غلط کو غلط اور درست کو درست کہنا اور اس کے ٹھہرائے ہوئے حق کو حق اورباطل کو باطل کہنا البتہ بے انتہا ضروری ہے چاہے کسی کو یہ رواداری نظر آئے یا نہ۔

پیچھے ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ _ کوشش کی حد تک _ انسان کو کوئی گزند پہنچائے بغیر باطل کو انسانی ذہنوں اور انسانی معاشروں میں مغلوب کر دینا اور اس کی جگہ حق کا بول بالا کرنا ازروئے اسلام فرض ہے اور اسلام کے تصور رواداری کے خلاف نہیں۔ کیونکہ باطل کا رہنا حق کے نہ رہنے کی قیمت پر ہوگا اور حق پر ایمان لایا جانا باطل کو چھوڑنے اور مسترد کرنے کی شرط پر۔ لہٰذا انسان کو تو حق قبول کرنے یا نہ کرنے کی پوری آزادی دی جانا ہے مگر باطل کیلئے _ بطور نظریہ اور بطور تصور حیات اور بطور تہذیب اور بطور طرز معاشرت _ زندگی کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ باطل پر رہنے والوں کو غلط اور گمراہ بہرحال مانا جائے گا اور ان کو خدا کے عذاب اور پکڑ سے بھی لازماً ڈرایا جائے گا۔ حق اور باطل دونوں کیلئے ذہنوں اور معاشروں میں رہنے کا حق یکساں طور پر تسلیم کرنا رواداری کی کوئی قسم نہیں اور اگر یہ رواداری کا کوئی تصور ہے تو اسلام کے قطعاً منافی ہے۔

یہ بات تو ہم پیچھے واضح کر آئے ہیں مگر یہاں رواداری کا ایک اور تصور بھی دیکھنے میں آیا ہے اور یہ اس سے بھی عجیب تر ہے جسے ابھی ہم نے اسلام کے تصور رواداری کے منافی قرار دیا ہے..

آج اسلام سے صرف اتنا ہی تقاضا نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کے غلط کو غلط کہنے میں ذرا نرمی اور رواداری سے کام لے بلکہ اسلام سے یہ بھی تقاضا ہے کہ خود یہ اپنے اندر بھی کچھ ترمیمات کی اجازت دے اور اگر یہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا تو اس کا یہ رویہ رواداری کے خلاف جانا جائے گا!

اسلام سے اب یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کی مجبوریوں کو دیکھ کر، لوگوں کے اھواءو خواہشات و ظنون کے احترام میں اور لوگوں کے انحرافات کیلئے گنجائش پیدا کرتے ہوئے لوگوں کی ہر بات کو خلافِ شریعت قرار نہ دینے لگ جایا کرے! مثلاً بعض لوگ شرک کا کوئی کام کرتے ہیں جس کا اسلام کی رُو سے شرک ہونا چاہے کتنا ہی واضح ہو مگر اب جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد _ جو کہ اسلام کی نام لیوا ہے _ کسی وجہ سے یہ کام کرنے ہی لگ گئی ہے اور بڑی دیر سے یہ ہوتا آرہا ہے (امت پر زوال کا عمل بھی بڑی دیر سے ہی شروع ہوا ہے!) لہٰذا یہ رواداری کے منافی ہے کہ اسے اب اسلام کے حوالے سے شرک اور ہلاکت گردانا جائے! رائے شماری کے اس دور میں اسلام اگر لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کے جذبات و احساسات کا خیال نہیں رکھتا اور انکے کسی شرکیہ فعل کو خلافِ اسلام کہنے پر ہی مصر ہے تو یہ رواداری کے خلاف ہے!!!

فلاں کام کرنے سے آدمی کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے، فلاں چیز صریحاً حرام ہے، فلاں رویہ فسق اور فجور ہے، فلاں کام بدعت ہے اور دین میں اضافہ، فلاں نظام شرک کا نظام ہے.. ان باتوں کی تبلیغ سے اب چونکہ معاشرے میں بہت سے لوگوں پر صاف زد آتی ہے، لوگوں کے جذبات شدید مجروح ہو سکتے ہیں، لوگوں کے بڑے ان کی نگاہ میں غلط قرار پاتے ہیں، بعض قومی شخصیات کا تاثر خراب ہو سکتا ہے لہٰذا یہ سب کچھ اگر شریعت کے خلاف بھی ہے تو ان کا شرعی حکم بیان کیا جانا اب موقوف ہونا چاہیے۔ بلکہ ان سب چیزوں کا یہ حکم شریعت میں ہونا ہی نہیں چاہیے۔ بلکہ یہ ہے ہی نہیں شریعت سے یہ سب باتیں یونہی منسوب کر دی گئی ہیں اور انتہا پسندوں کی کج فہمی ہے۔ اسلام کب یہ کہتا ہے کہ ایک جدی پشتی مسلمان محض غیر اللہ کو سجدہ کر آنے سے یا محض کسی مردے کو حاجت روائی کیلئے پکار لینے سے مشرک ہو جاتا ہے یا محض غیر اللہ کا قانون چلا لینے سے مسلمان ماں باپ کا ایک فرزند کفر کا مرتکب ہو جایا کرتا ہے یا یہ کہ اسلام میں سود کوئی اتنا ہی حرام ہے اور یہ کہ سود کو قانون کا باقاعدہ جواز دینا خدا کا ہم سر ہونے کے مترادف ہے وغیرہ وغیرہ.. یہ اسلام کی ایک بے جا اور انتہا پسندانہ اور قدامت پسندانہ تفسیر ہے۔ اس میں اب ترمیم ہونی چاہیے اسلام کی صرف وہی تعبیر معتبر ہوگی جو قومی زندگی کے موافق ہو!!!

کسی بھی عقیدے اور نظریے کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ثبوت یا عدم ثبوت کی بابت اپنے ہی مراجع پر انحصار کرے۔ اس کو آپ صحیح بھی کہہ سکتے ہیں اور غلط بھی۔ اسے جاری کرنے یا ختم کرنے کا مطالبہ آپ کر سکتے ہیں۔ اس کو قبول یا رد کرنے کا آپ کو اختیار ہے۔ اس سے اتفاق اور اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ کہ اس کی تفسیر آپ خود کرنے لگیں اور خود اس کے اپنے اصولوں اور اس کے اپنے مراجع its own standard references کو یہ حق نہ دیں کہ وہ اپنی تفسیر آپ کریں، یہ بلاشبہ ایک انہونا مطالبہ ہے۔

اسلام کیا ہے اور کیا نہیں ہے، یہ طے کرنا اللہ کی کتاب کا حق ہے یا اس کے رسول کی سنت کا۔ آپ اس کو، جیسا کہ وہ ہے، قبول بھی کر سکتے ہیں اور مسترد بھی، کہ ہر دو صورت اس کے نتائج کا سامنا آپ کو خدا کے ہاں جا کر ہی کرنا ہوگا۔ مگر اسلام سے آپ یہ تقاضا نہیں کر سکتے کہ اسلام کیا ہو اور کیا نہ ہو۔ 
مگر لوگوں کا اسلام سے آج کیا تقاضا ہے؟

ایک بڑی تعداد اسلام کی نام لیوا ہے۔ یہ امت اب اقوام کی صورت میں پائی جانے لگی ہے۔ لوگوں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ قومی تقاضے ایک طرف ہیں۔ بدعات اور خرافات نسل در نسل بہت سے لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کی متعدد شکلیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں رواج پا گئی ہیں۔ شرک کا نظام تقریباً ہر ملک میں قائم ہے۔ اس سب کو اسلام کی سند چاہیے! اب اگر ان سب انحرافات کو اسلام کی سند نہیں ملتی.. ان سب انحرافات کو اگر اسلام ہی کے منافی قرار دے دیا جاتا ہے جسے کہ یہ باقاعدہ طور پراپنا مذہب مانتے ہیں تو اس سے ایک بڑی سماجی مشکل پیدا ہو جائے گی۔ اسلام جب سب کا مذہب ہے تو پھر سب کیلئے اپنے اپنے عقائد اور نظریات کے ساتھ اس میں برابر کی گنجائش ہونی چاہیے کسی ایک گروہ کی اور وہ بھی ایک قلیل تعداد کی اجارہ داری اس پر آخر کیوں ہو!!! یہاں قومیت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ سیکولرزم پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ابھی کل کمیونزم اور سوشلزم پر یقین رکھنے والے اتنے لوگ تھے۔ صحابہ کا نام تک احترام سے لینا گناہ سمجھنے والے بھی کچھ نہ کچھ ہیں۔ قبروں کو پوجنے اور مزاروں کا طواف کرنے والے پائے جاتے ہیں۔جمہوریت کے معتقد یہاں اتنے ہیں۔ بدیشی تہذیب جو کوئی ڈیڑھ صدی سے لا لا کر اپنے یہاں ڈھیر کی جا رہی ہے ایک بڑی تعداد کے ہاں گھر کر چکی ہے۔ یہ سب جب مسلمان ہیں تو ان سب کے طریقوں اور عقیدوں کیلئے اسلام میں گنجائش نکلنی چاہیے۔ ورنہ یہ رواداری کے خلاف ہوگا۔ یوں بھی کسی کو کیا حق کہ کسی کے عمل یا عقیدہ کو اسلام کے منافی قرار دے!!!

یعنی یہ حق اب "کسی" کا ہو گیا ہے کہ وہ ایک چیز کے اسلام کے موافق یا منافی ہونے کا فیصلہ کرے!!! یہی وجہ ہے کہ حکمران، سیاستدان اور سرکاری افسر تک اب اس پر مشق کرتے ہیں اور ہر کوئی اسلام پر اظہارِ خیال ظاہر کرتا ہے!

رواداری کے اس تصور کی رو سے اب بہت سے پڑھے لکھوں کے ہاں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ کوئی آیت یا حدیث کسی چیز کو واضح ترین لفظوں میں شرک اور گمراہی کہے تو بھی معاشرے کے اندر اس کو شرک اور تباہی کا سبب قرار دینے سے گریز ہی کیا جائے۔ حدیث کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو خیر لوگ اب اپنے اپنے حسبِ ذوق مسلک رکھنے لگے ہیں البتہ آیت کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے گا۔ آیت کے ساتھ بھی رواداری اور اس شرک یا اس انحراف کے ساتھ بھی رواداری جس پر اس آیت کی صاف زد پڑتی ہو! دونوں کی بابت سکوت اختیار کیا جائے! دنیا بھی بچی اور آخرت بھی!اور سب سے زیادہ قابل مذمت وہ شخص ہے جو کسی آیت کے واضح مفہوم پر اصرار کرنے لگے۔ یہ تو بالکل ہی گردن زدنی ہے!

قرآن حق بیان کرنے والی کتاب ہے اور قیامت تک اس کو ویسا ہی رہنا ہے۔ اصول، عقائد، نظریات،افکار، اقدار، طرز ہائے زندگی، اعمال، اخلاق، رویے.. سب پر قرآن کو بات کرنی ہے۔ کیا حق ہے اور کیا باطل، قرآن کو سب بتانا ہے۔ قرآن مسلمانوں کی کوئی قومی کتاب تو ہے نہیں کہ آپ اس میں مسلمانوں کے ہر طبقے اور ہر گروہ کیلئے گنجائش ڈھونڈیں اور ہر ایک کو برحق ہونے کی اس سے سند دلائیں۔ سب کو اس میں برابر حصہ ملے، اس کی گنجائش آپ پارلیمنٹ میں تلاش کیجئے خدا کی کتاب میں نہیں۔ یہ تو ایک آفاقی کتاب ہے۔ ذکر اور نصیحت ہے۔ فرقان ہے۔ حق کو کھول کھول کر بیان کرنے والی دستاویز ہے۔ بہت سی باتوں کو یہ غلط کہے گی اس پر ایمان ہے تو ان کو غلط ہی کہنا پڑے گا خواہ وہ باتیں یا وہ کام مسلمان کریں یا کافر۔ بہت سے عقائد، نظریات، افکار، نظام اور رویے اس کی رو سے مسترد ہوں گے ان کو ہمیں مسترد ہی کرنا پڑے گا خواہ وہ کافروں کے ہاں پائے جاتے ہوں یا مسلمانوں کے۔ بہت سے عقائد، نظریات، افکار، نظام اور رویے اور طرز عمل اس کی رو سے حق قرار پائیں گے ان کو ہمیں حق ہی ماننا پڑے گا خواہ اس کے داعی آٹے میں نمک کے برابر کیوں نہ ہوں۔ بہت سے کام اس کی رو سے فرض ہوں گے اس پر ایمان ہے تو ہمیں وہ بہرحال کرنا ہوں گے یا کم از کم بھی ان کی فرضیت کو تسلیم کرنا پڑے گا خواہ لوگوں کو وہ کتنے ہی ناگوار گزریں۔ بہت سے کاموں سے یہ ہمیں روکے گی ان سے ہمیں رکنا ہی پڑے گا خواہ پورا جہان وہ کام کرتا ہو۔ زمانے کو دیکھنے کی بجائے ہمیں زمانے کے مالک کی طرف دیکھنا ہو گا اور اس کی کتاب پڑھنا اور اسی کے رسول کی بات سننا ہوگی۔

قرآن کا موضوع اقوام ہیں نہ اشخاص۔ جماعتیں ہیں نہ دھڑے۔ نام ہیں نہ لیبل۔ ملک ہیں نہ نسلیں۔ لہٰذا کسی کیلئے اس دین میں گنجائش پانے یا نہ پانے کا سوال ہی بے معنی ہے۔ اس دین سے تو سوال یہ ہونا چاہیے کہ کس عقیدے اور کس طرز عمل کی اس میں گنجائش ہے اور کس کی نہیں۔ پھر جس پر بھی اس کی زد پڑے۔ پھر جو بھی اس کی رُو سے برحق ثابت ہو۔ اصول، نظریات، افکار، اقدار، اخلاق، اعمال، طرز ہائے زندگی وبندگی.. ان میں سے کس کو خدا کے ہاں سے حق ہونے کی سند ملتی ہے اور کس کو نہیں، اس بات کو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر چھوڑ دینا ہے اور اس عمل سے جو بھی نتیجہ برآمد ہو اس کو پوری سعادت مندی سے قبول کرنا ہے۔ قرآن کو معاذ اللہ مسلمانوں کی قومی کتاب ہونا ہوتا تو اس میں عقائد ونظریات اور اعمال واخلاق کی بابت حق وباطل کا بیان ہی کیوں ہوتا؟ جبکہ اس کا کل موضوع ہی یہ ہے۔ اس اسلام کو، جیسا یہ ہے اور جیسا یہ خدا کے ہاں سے نازل ہوا ہے، من وعن اور بلا کم وکاست ماننا اورمنوانا.. اس کے ٹھہرائے ہوئے حق کو کسی بھی معاشرتی رحجان کی پرواہ کئے بغیر حق کہنا اور اس کے ٹھہرائے ہوئے باطل کو صاف باطل کہنا ہرگز کسی رواداری کے منافی نہیں۔

غرض رواداری کی اور بھی کئی فرض کر لی گئی صورتیں ناجائز اور قابل مذمت ہیں مگر رواداری کی سب سے بُری اور قابل مذمت صورت وہ ہوگی جو اپنے دور کے تقاضوں کے حسب حال خود "اسلام" ہی میں ترمیم تجویز کر ڈالے اور لوگوں کی کسی بڑی یا چھوٹی تعداد کی فکری یا عقائدی، یا نظریاتی، یا اخلاقی، یا سماجی حالت کو اپنے حال پر رہنے دینے کیلئے اسلام سے تقاضا کرے کہ وہ اپنے اندر کچھ گنجائش پیدا کرے۔ یعنی لوگ نہیں بدلتے تو تھوڑا سا اسلام بدل جائے! یا کم از کم ویسا لگے جسے لوگ سنبھال سکیں! لوگوں سے اسلام کے تقاضوں کے مطابق بدل جانے کا مطالبہ کر دینا تو ایک غیر سماجی رویہ ہو البتہ اسلام سے اس حد تک بدل جانے کا تقاضا کرنا جس حد تک لوگوں پر اس کا اعتراض ختم ہوجائے اور لوگوں کیلئے اس میں گنجائش نکل آئے عین رواداری ہو! اسلام اور لوگوں کے مابین سازگاری لے آنے کا یہ نسخہ اگر رواداری کہلاتا ہے تو یہ رواداری کی وہ قسم ہوگی جو خدا کے ہاں مبغوض اور مذموم ہے۔ پہلی امتوں کی لٹیا کسی بات نے ڈبوئی تو وہ عین یہی بات ہے:

 

(اے بنی اسرائیل) حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ جانتے بوجھتے ہوئے حق کو چھپاؤ۔

وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (42 - البقرۃ)

پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دنا کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (خیر ہے) ہمیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کی طرف بجز حق کے کسی اور بات کی نسبت نہ کریں؟ جبکہ یہ خود پڑھ چکے ہیں جو جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت والا گھر تو خدا ترس لوگوں کیلئے ہی بہتر ہے۔ کیا تم یہ بات نہیں سمجھتے؟ ہاں جو لوگ کتاب سے چمٹے رہے اور جنہوں نے نماز قائم کئے رکھی، یقینا ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے

فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُواْ الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَـذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مُّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لاَّ يِقُولُواْ عَلَى اللّهِ إِلاَّ الْحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِيهِ وَالدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(169)وَالَّذِينَ يُمَسَّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ إِنَّا لاَ نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ (170) -الأعراف

 

رواداری ہی کا تقاضا ہے کہ اسلام اپنی حقیقت کے ساتھ اور اپنے تمام تر تقاضوں سمیت لوگوں کے سامنے رکھ دیا جائے پھر لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں، ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا جائے۔ رہا یہ کہ اسلام کی رو سے کوئی چیزباطل یا شرک ہے تو لوگوں کے خیال سے اس کو شرک یا باطل نہ کہا جائے.. کوئی چیز نواقضِ اسلام (جن امور سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے) میں شمار ہوتی ہے مثلاً غیر اللہ کو سجدہ یا غیر اللہ سے دُعا، یا غیر اللہ کے نظام کوقانون کا تقدس دینا وغیرہ، تو اس کو نواقض اسلام کی فہرست سے خارج کردیا جائے تاکہ لوگ اس بات سے آزردہ نہ ہوں.. کوئی چیز مانند سود وفحاشی و بے حیائی کی ثقافت اگر اسلام میں واضح ترین انداز میں حرام ہے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس میں پڑی دیکھ کر یا اس کا سرکاری سطح پر انتظام ہوتا دیکھ کر اس کو حرام قرار نہ دیا جائے یا چلیں اس کی حرمت کی شدت ہی کچھ کم کر دی جائے.. تو اس کا نام رواداری ہے یا کچھ اور، ہم اس کے مجاز نہیں۔ بلکہ یہ خدا کے حق میں ہمارا ایک بڑا جرم ہو گا، اگر ہم اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ خدا کے دین میں یہ ہماری جانب سے ایک ایسا تجاوز ہوگا جس پر ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ ہمیں ایک بڑے عذاب کے دن سے ڈر جانا چاہیے:

 

جب انہیں ہماری صاف صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے، کہتے ہیں کہ اس کے بجائے کچھ اور قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے ان سے کہو: میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی تبدیلی کرلوں۔ میں تو بس اس وحی کا پابند ہوں جو میری جانب بھیجی جاتی ہے۔ میں تو، اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں، تو مجھے ایک ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ کہو: اگر خدا چاہتا تو میں تمہیں یہ قرآن سناتا ہی نہ اور خدا تمہیں اس کی خبر تک نہ کرتا۔ آخر اس سے پہلے میں تمہارے درمیان گزار ہی توچکا ہوں۔ پھر کیا تم سمجھتے نہیں؟ آخر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا قرار دے۔ یقینا ایسے مجرموں کی اصلاً فلاح نہ ہوگی

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاء نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ  (15)قُل لَّوْ شَاء اللّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(16) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ(17).... یونس

 

تاآنکہ ہماری بات کو غلط مفہوم نہ پہنایا جائے.... ان دو باتوں میں ہمارے نزدیک فرق ضروری ہے: امت کے اندر اگر کچھ لوگ انحراف کا شکار ہیں تو ان لوگوں کو برداشت کرنا اس اصلاحی عمل کا عین تقاضا ہے جس کی ہم یہاں تجویز دینے جا رہے ہیں۔ ناقابل برداشت ہمارے لئے لوگوں کا وجود نہیں جو کسی انحراف پر پائے جائیں گو اپنے ان بھائیوں کو تعلیم دینا اور ان کی اصلاح کرنا امت کے سمجھداروں کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ ناقابل برداشت کوئی چیز ہے تو وہ ہے انحراف بذات خود نہ کہ اس انحراف کا شکار ہونے والے لوگ۔ جس چیز کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں وہ ہے انحراف، ابتداع، شرک، کافرانہ نظاموں اور تہذیبوں کی اتباع اور اُمت میں ان مہلکات و موبقات کی درآمد۔ اس پر خاموش رہنا اگر رواداری ہے اور رواداری کا یہ مذہب اگر اختیار کر لیا جاتا ہے تو اس آخری رسالت کا کیا امتیاز پھر آپ نے باقی رہنے دیا ہے!؟

یہ آخری رسالت ہے۔ زمین پر آسمان کی آخری امانت ہے۔ یہ محض ورقوں میں ہی نہیں موحدین کے سینوں میں بھی محفوظ کی گئی ہے۔ بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ (العنکبوت: (49(3) یہ محض کتابوں کے اندر نہیں ذہنوں اور رویوں میں رہنے اور معاشروں میں بسنے کیلئے اتاری گئی ہے۔ اس میں رد و بدل نہ اوراق کی دنیا میں روا ہے نہ قلوب کی دنیامیں اور نہ عمل کی دنیا میں۔ اس میں اگر کچھ ردوبدل ہوتا ہے تو پھر اہل زمین کے پاس کیا باقی رہ جاتا ہے؟ دُنیا کی بقا کی تب کیا ضمانت رہ جاتی ہے؟ اس رسالت اور اس پر قائم رہنے والوں کے بعد کسی چیز کا آنا باقی ہے تو وہ قیامت ہے۔ اس بات کی جلدی کرنے کا کیا کوئی بھی دانشمند متحمل ہے!؟؟

 

*******

 

مداہنت رواداری کی کوئی قسم نہیں....

 

یہ تو چاہتے ہیں کچھ مداہنت تم کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔

وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (القلم: 9)

عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں اس سے مراد ہے: تم ان کیلئے معاملہ کچھ ڈھیلا کردو تو پھر یہ بھی تمہارے لئے ڈھیل پیدا کر لیں۔ (تفسیر ابن کثیر) (4)

عن ابن عباس رضی اللہ عنه قوله: ودوالوتدھن فیدھنون یقول: لَو تُرَخِّصُ لھم فَیرَخِّصونَ

کچھ اور مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد ہے: کچھ تم انکے لئے ڈھیل نکالو تو پھر یہ تمہارے لئے ڈھیل پیدا کریں۔ یا یہ کہ تم اپنے دین میں کچھ نرمی لے اؤ تو یہ بھی اپنے دین میں کچھ نرمی لے آئیں۔ (تفسیر طبری)(5)

وقال آخرون: بل معنی ذلک لو ترخص لھم فیرخصون او تلین دینک فیلینون دینھم

ابن عربی کہتے ہیں: مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں قریب قریب دس اقوال بیان کئے ہیں اور ان سب کا سہارا لغت اور معانی پر ہے۔ ان میں سب سے بہتر قول ان مفسرین کا ہے جو کہتے ہیں کہ مراد ہے: یہ چاہتے ہیں کہ آپ غلط بیانی سے کاملیں تو پھر یہ بھی غلط بیانی کرنے لگیں۔ آپ کفر کی راہ اختیار

(قال) ابن العربی: ذکر المفسرون فیھا نحو عشرہ اقوال کلھا دعاوی علی اللغه والمعنی۔ امثلھا قولھم: ودوالو تکذب فیکذبون۔ ودوالو تکفر فیکفرون

کر لیں تو یہ بھی کفر کی راہ اختیار کریں۔ مگر میں (امام قرطبی) کہتا ہوں کہ بہ تقاضائے لغت ومعانی یہ سب کے سب اقوال ہی انشاءاللہ صحیح ہیں۔ کیونکہ ادھان (مداہنت) کا مطلب ہے ڈھیل پیدا کر لینا اور سازگاری چاہنا۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہے: مخالف کے ساتھ لحاظ ملاحظہ کا رویہ اختیار کرنا اور میلان باہمی چاہنا۔ ایک دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد ہے: کلام میں ایک دوسرے سے قربت پیداکرنا اور بات میں ملائمت لے آنا۔ (تفسیر قرطبی) (6)

قلت: کلھا انشاءاللہ صحیحه علی مقتضی اللغه والمعنی، فان الادهان: اللین والمصانعه، وقیل: مجامله العدو ممایلته، وقیل: مقاربه فی الکلام والتلیین فی القول

 

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں سورۂ قلم کی اس آیت کی رو سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مداہنت سے خبردار کیا جاتا ہے اور ممانعت بھی کر دی جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ حق کی دعوت اور شرک وباطل کے خاتمہ کے اس مشن میں لوگوں کو قریب لے آنے کی غرض سے وقتی طور پر بھی مسئلۂ باعث نزاع کو نرم نہ کردیں اور حق کو حق اور باطل کو باطل کے طور پر منوانے کے معاملے میں کوئی لاگ لپیٹ اور مفاہمت خواہانہ انداز compromising attitudeاختیار نہ کریں۔

اندازہ کر لیجئے مداہنت اختیار کرنے سے یہ ممانعت ان لوگوں (صحابہ) کو ہو رہی ہے جو بہرحال انسانوں کو باطل سے برگشتہ کرکے خدا کی راہ پر لے آنے کے مشن پر ہیں اور دُنیا میں جن کا نصب العین جاہلیت کاخاتمہ ہے۔ ان لوگوں کو بھی "مداہنت" کی اجازت نہیں۔ پھر ان حضرات کے بارے میں کیا خیال ہے جو لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑنا چاہتے ہیں اور اس پر اسلام سے "نرمی" اختیار کر لینے کے متقاضی ہیں!

بنا بریں یہ بات کہ دین کے حوالے سے بیان کیا جانے والا فلاں مسئلہ سخت ہے اور اس کو نرم کر دیا جاناچاہیے، اصولاً نہ تو صحیح ہے اور نہ کسی توجہ کی مستحق۔ ہمارے پاس خدا کی طرف سے ہدایت نہ آچکی ہوتی تو پھر ضرور ہم اپنی اپنی جگہ اندازے لگاتے اور اپنا اپنا اظہار رائے کرتے کہ کونسی بات کتنی سخت ہونی چاہیے اور کونسی بات کتنی نرم۔ ہمارے پاس جو ہدایت آئی ہے وہ اس مسئلہ ہی کا تو حل ہے کہ ہم ایک واضح بنیاد پر ہوں اور اندازوں اور ٹامک ٹوئیوں اور اپنے اپنے ذوق اور مزاج کی بنیاد پر کسی کو صحیح اور کسی کو غلط کہنے کی کوفت سے بچ رہیں۔ ہم وحی کی تلاوت اور احادیث کی روایت کرنے والوں کے سامنے کوئی سوال اٹھنا چاہیے تو وہ صرف یہ کہ کونسی بات دین میں آئی ہے اور کونسی نہیں آئی۔ دین سے جو بات مستند طور پر ثابت ہے بس وہ حق ہے، قطع نظر اس سے کہ کسی کو وہ نرم لگتی ہے یا سخت۔ اور جو بات دین سے ثابت نہیں وہ باطل ہے قطع نظر اس سے کہ وہ سخت ہے یا نرم۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ کوئی بات دین میں آئی ہے یا نہیں نہ کہ یہ دیکھنا کہ دین کی کسی بات سے کونسا طبقہ نالاں ہو سکتا ہے اور کونسا خوش۔

لوگوں کی یا لوگوں کے کسی طبقے کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا رواداری کی کوئی قسم نہیں جبکہ اللہ اور اس کے رسول نے کسی بات کا فیصلہ کر دیا ہو۔ ہاں جس بات میں دین نے اجازت اور اختیار دے دیا ہو اس میں ضرور لوگوں کی پسند اور راحت اور رحجان کا خیال رکھنا چاہیے بلکہ وہاں پر اپنی منوانا اور بس اسی کو دین کہنا "کلیسا کا دین" ہو سکتا ہے۔ حنیفیت سمحہ نہیں۔

 

مجھے نہ تو یہود کے انداز دینداری کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور نہ نصرانی مذہبیت کے ساتھ۔ مجھے اس موحدانہ طرز بندگی کے ساتھ بھیجا گیا ہے جس میں ایک وسعت اور آسائش ہے۔

اِنِّی لَمْ أبْعَثْ بِالْیَہُودِیَّة وَلَا بِالنَّصْرَانِیَّة وَلَکِنِّی بُعِثْتُ بِالْحَنِیفِیَّة السَّمْحَة (7)

 

جہاں دین لوگوں کیلئے گنجائش پیدا کرے اور جہاں شریعت خاموشی اختیار کرے وہاں لوگوں کیلئے بھرپور گنجائش اور آسانی پیدا کرنا اور وہاں انتہا پسندوں کو سختی و شدت اور غلو سے روکنا اور وہاں لوگوں کو مشکل میں پڑنے سے بچانا اسلامی عقیدے اور اسلامی شریعت اور اسلامی تہذیب کی ایک اہم ترین خصوصیت ہے، جیسا کہ پچھلی فصل میں گزرا، بے شک ہمارے وہ حضرات جو "فروع" میں افراط کرتے ہیں اور جو کہ "مسائل" کو "اصولِ دین" اور "اصولِ دین" کو "مسائل" میں بدل کر رکھ دینے کا منہج رکھتے ہیں کتنا ہی ہماری اس بات کو نا پسند کریں۔

 

*********

 

ابہام سے بچنے کیلئے، اور تاآنکہ ہماری بات کا غلط مطلب نہ لیاجائے، ایک چیز کی وضاحت نہایت اختصار کے ساتھ ہم یہیں کر دینا چاہیں گے۔ اگرچہ اس کا زیادہ مفصل ذکر ہم کسی اور مقام پر کریں گے۔

پیچھے ابھی ہم یہ بات کر آئے ہیں کہ لوگوں کے منہ ملاحظے کے خیال سے شرک کو شرک نہ کہنا اور کفر کو کفر کہنے سے اجتناب کرنا اور بدعت کو بدعت اور باطل کو باطل کہنے میں معاشرے سے دبنا اور کسی سماجی اثر کے تحت غلط کو غلط بولنے سے جھجک محسوس کرنا.. رواداری کاباطل اور غیر اسلامی تصور ہے اور اس پر کچھ دلائل بھی ہم وہیں ذکر کر آئے ہیں۔

البتہ ہماری اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ تعلیم اور تنبیہ میں قولِ لین اختیار کرنا ہی غلط ہے اور نہ یہ کہ اس کو بھی ہم رواداری کے اسلامی تصور کے منافی قرار دے رہے ہیں..

ہرگز ضروری نہیں کہ دعوت اور تعلیم میں بات شروع ہی اس سے کی جائے کہ فلاں بات کفر ہے اور فلاں چیز شرک ہے اور فلاں کام کرنے والا سیدھا جہنم میں جائے گا۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں صاف گوئی اور وضاحت بیانی سے کام لینے کا یہ نہ مطلب ہے اور نہ تقاضا۔ یہ بات کہنے سے ہمارا بھی ہرگز یہ مقصد نہیں۔
لوگوں پر دھڑا دھڑ کفر اور شرک کے فتوے لگانا خصوصاً جبکہ وہ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہوں بغیر یہ دیکھے کہ ان پر حجت کہاں تک قائم ہو پائی ہے اور کہاں تک نہیں، جس کا کہ فیصلہ کسی متعین شخص کے بارے میں اہل علم ہی کر سکتے ہیں، اور پھر خاص طور پر لوگوں پر حکم لگانے کا کام اہل علم کی بجائے عوام الناس کے ہاتھ میں دے دینا.. غلط ہے اور بلاشبہ باطل ہے۔ بیانِ حق کو واجب کہنے سے ہرگز ہرگز ہماری یہ مراد نہیں۔ دین توحید کی قطعاً یہ درست ترجمانی نہیں خواہ غلو کے راستے پر چلنے والے اس کو واجب کیوں نہ کہتے ہوں۔

اس معاملے میں، بلکہ اصول دین کے ہر معاملے میں، ہم "اصول اہلسنت"(8) کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں اور اصول اہلسنت میں ہمیں کسی پر قیام حجت سے پہلے حکم لگا دینے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ پھر ایسے لوگوں کو یہ حق دینے کی تو سرے سے کوئی گنجائش ملتی ہی نہیں کہ جو علم دین میں ابھی مبتدی بھی نہ ہوں وہ لوگوں کو مشرک کہنے یا نہ کہنے کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

حتی کہ معاملہ کسی پر شرک یا کفر کا حکم لگانے کا ہی نہیں کسی شخص کو متعین کرکے اس کو گناہگار یا فاسق یا بدعتی یا گمراہ قرار دینے کا بھی یہی معاملہ ہے۔ لازم ہے کہ جس پر حکم لگایا جائے اس پر پہلے حجت قائم ہو چکی ہونی چاہیے اور جو فتوی لگائے، اس کا شمار امت کے معتبر اہل علم میں ہوتا ہو۔

البتہ یہ کہنا کہ فلاں کام شرک ہے، فلاں قول یا فلاں فعل یا فلاں رویہ کفر ہے، فلاں چیز گناہ ہے یا فسق ہے، یا فلاں بات بدعت ہے _ جبکہ اس پر دین سے دلیل ملتی ہو اور اُمت کے معتبر اہل علم سے اس کی تائید ہوتی ہو _ بالکل ایک درست بات ہے بلکہ واجب ہے۔ اس کو پھیلانا، اس کی تعلیم دینا اور حسب استطاعت و بطریقِ احسن اس کو لوگوں تک پہنچانا ہر شخص پر فرض ہے اور جب ایک بات دین کے مصادر سے اور صحابہ وسلف کے فہم کی رو سے ثابت ہو چکی ہے تو پھر اس کا مُبلِّغ بن جانا حسب توفیق ہر شخص کا فرض ہے خواہ وہ عالم ہے یا عامی۔ حق کو حق اورباطل کو باطل کہنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔

یہی نہیں بلکہ کسی چیز کا شرک اور کفر ہونا یا بدعت یا حرام ہونا جب دین کے مصادر سے ثابت ہوگیا ہو اور اُمت کے معتبر اہل علم سے اس کی تائید ہو گئی ہو تو پھر اس کا صرف پہنچانا ہی ہر شخص پر فرض نہیں ہو جاتا بلکہ لوگوں کو اس سے روکنا، خبردار کرنا، بار بار تنبیہہ کرنا، اپنی اس سے ناگواری کا اظہار کرنا بلکہ اگر فائدہ ہوتا ہو تو اس پر خفگی کا برملا اظہار کرنا اور اس پر جہنم کے عذاب اور خدا کی پکڑ سے ڈرانا _ جہاں تک کسی کا دائرۂ اثر ہو اور جہاں تک کسی کابس چلتا ہو _ ہر شخص پر حق ہے۔ اس میں عالم اور عامی کا کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ عالم کا فرض بڑا ہے اور عامی کا فرض اس کی نسبت چھوٹا۔

ایک عامی کا انفرادی فرض ضرور اپنے دائرۂ اثر تک محدود رہے گا مگر اس کا ایک عمومی فرض یہ بھی رہے گا کہ وہ ایک پوری تن دہی کے ساتھ اپنی آواز مجموعی معنی میں معاشرے کے اندر اس آواز میں شامل کرے جو یہاں شرک اور ابتداع کے خلاف اور حق کے قیام کے لئے اٹھائی جا رہی ہو۔

رہا یہ کہ تعلیم اور دعوت کے اس عمل میں اور لوگوں کو خدا کا حق بتانے میں مناسب ترین اور خوبصورت ترین اورمؤثر ترین انداز اختیار کیا جائے اور بات کو آغاز سے لے کر انجام تک خوشگوار ترین رکھنے کی ازحد کوشش ہو اور مخاطب کو بات سمجھنے کیلئے پورا وقت دیا جائے اور اس کی اہلیت کو سامنے رکھ کر اس کے ساتھ بات میں مناسب تدریج اختیار کی جائے.. ترغیب اور ترہیب، انذاز اور تبشیر کے معاملے میں ہر آدمی کے مناسب حال حکمت عملی اختیار کی جائے.. کب کسی کو دعوت نہ دے سکتا ہو تو آدمی خاموش رہے اور کب کسی کو بات پہنچانا آدمی پر واجب ہو جاتاہے، وغیرہ وغیرہ.. تو ان سب موضوعات کا اپنا اپنا مقام ہے اوراجمالاً ان سب رویوں اور صورتوں کی ہی اپنے اپنے موقعہ پر گنجائش ہے اور ضرورت بھی۔ بلکہ دعوت کے احکام، آداب اور شروط جنہیں "فقہِ دعوت" کے ذیل میں اہل علم کے ہاں بیان کیا جاتا ہے ان کا حسب استطاعت علم لینا ہر اس شخص پر لازم ہے جو دعوت اور تعلیم کے اس عمل کا حصہ بننا چاہتا ہو کیونکہ "فقہِ دعوت" سے ناواقف رہ کر عین ممکن ہے آدمی دعوت کے فائدے سے زیادہ دعوت کا نقصان کر رہا ہو باوجود اس کے کہ اپنے تئیں وہ محنت بھی بہت کر رہا ہو۔

اس بات کی بھی پوری گنجائش ہے کہ آدمی جہاں حق بتانے کی استطاعت یا اہلیت نہ رکھتا ہو اور جہاں جس وقت باطل کا بطلان بیان کرنے کی اس کو حالات اجازت نہ دیتے ہوں.. یعنی کسی معاملے میں شریعت کا حکم بتانے سے خاموش رہنا بات کرنے کی نسبت راجح اور مناسب تر ہو وہاں، اور صرف اسی حد تک، سکوت اختیار کرلینا اور دنیاوی معاملات میں وہاں بھی لوگوں سے اچھا برتاؤ رکھنا.. اس دین کا اپنا ہی تقاضا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ یہ سب موضوعات ابھی تشنہءوضاحت ہیں مگر ہم معذرت خواہ ہیں ان پر تفصیل کے ساتھ کسی اور سلسلۂ مضامین میں ہی بات کی جا سکے گی۔

سردست ہمیں جو کہنا ہے وہ صرف یہ کہ بیانِ حق اورازالۂ باطل کو جب ہم واجب کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہوتا کہ یہ کام ہر شخص پر ہرجگہ ہرحال میں فرض ہے۔ بلاشبہ بہت سے انسان ایسے ہو سکتے ہیں جن پر کسی خاص حلقے میں ہی دعوت اور تعلیم کا یہ فرض لاگو ہوتا ہو اور اس خاص حلقے کے باہر ان پر دعوت کا خصوصی فرض عائد نہ ہوتا ہو بلکہ لوگوں کے ساتھ عام معمول کی زندگی گزارنا اور معمول کے عام سماجی اور انسانی تعلقات رکھنا ہی وہاں ان سے مطلوب ہو۔ پھر بہت سے مواقع ایسے ہو سکتے ہیں جہاں ایک ایسے انسان کیلئے بھی، جو بیان حق کی ویسے تو استطاعت بھی رکھتاہو اور اہلیت بھی، سکوت اختیار کرنا بات کرنے کی نسبت عملاً اولی و ارجح ہو اور بات کرنے کیلئے اس کو کسی اورموقعہ کی تلاش کرنی ہو پھر حتی کہ جہاں بات کی جانا اور دعوت دی جانا ضروری ہو وہاں بھی بہترین اور دلنشین سے دلنشین انداز اپنانا، مؤثر ترین حکمت عملی اختیار کرنا اور حق کی جس بات کو پہلے کہاجانا ہو اس کو پہلے کہنا اور جسے موخر کہاجانا ہو اس کو موخر رکھنا اور ہر ذہن کے حسب حال بات کرنا.. یہ بھی ہمارے دین کا تقاضا ہے۔

چنانچہ موضوع بحث یہ نہیں کہ ہر آدمی ہر وقت لوگوں سے حق وباطل کے مسئلے پر الجھے۔ یہ نہ ہم نے کہا ہے اور نہ یہ دین کا تقاضا ہے۔ کلام اس بات پر ہے کہ حق اور باطل کا فرق جو کہ خدا نے ٹھہرا دیا ہے اس کو ملیامیٹ کر دینے کی کیونکر کسی کو اجازت ہو۔ توحید اور شرک کے مابین فرق کو حاشیائی کردینے کی کیونکر کوئی گنجائش ہو۔ رہا یہ کہ دعوت کا فرض کس پر ہے اور کس پرنہیں اور کس وقت ہے اور کس وقت نہیں بالکل ایک الگ بات ہے اور ایک علیحدہ موضوع۔

البتہ یہ کہ حق کو ڈھیل کی جانب مائل کیا جائے، باطل کی کسی بات کے ذرا کم سنگین ہونے کا تاثر دیاجائے.. لوگوں کے عرف و اصطلاح کے لحاظ میں دین کی کسی سخت بات کو نرم ہونے کیلئے کہا جائے.. یہ انداز فکر کہ لوگوں کی معاشرتی ضرورت کے تحت شرک کو اب شرک کہا جانا موقوف ہو یا یہ کہ شرک ہوتا ہو تو بھی اس کو اختلافی مسئلہ کے روپ میں لیا جائے نہ کہ ایمان کیلئے خطرہ.. یا یہ تاثر قائم کرنا کہ آج کے اس دور میں ان باتوں کو لے بیٹھنا کہ کس بات سے ایمان چلا جاتا ہے اور کس بات کو (جانتے بوجھتے ہوئے) کر لینے سے آدمی کفر کا مرتکب ہوسکتا ہے، سب پرانی باتی ہیں آج کے دور میں ان باتوں کی گنجائش کہاں! کوئی شرک کرتا ہے تو اس بات کا کفر اسلام سے کیا تعلق!؟ یا ترک توحید کو کفر قرار دے کر اور اسلام سے انحراف بتا کر کسی طبقے کے جذبات مجروح کرنے کو رواداری کے خلاف جاننا.. تو یہ ضرور وہ جرم ہے جس سے ہر شخص کو خبردار رہنا ہے۔ نہ اس کا حق کسی عالم کو ہے اور نہ عامی کو۔ نہ کسی دانشور کو اور نہ ان پڑھ کو۔ اسلام سے رواداری کا ایسا تقاضا کرنا ظلم کی بدترین صورت ہے۔ اس کو جرم کہہ کر ہم اگر کوئی جسارت کر رہے ہیں تو اس پر اپنے ہر اس معزز قاری سے معذرت خواہ ہیں جس کے ہماری اس بات سے جذبات مجروح ہوئے ہوں۔ یہ حق کا تقاضا نہ ہوتا تو ہرگز ہم یہ بات نہ کہتے۔ حق کی حرمت بہر حال ہر چیز سے بڑی ہے۔ یہ معذرت ہم نے اپنے لئے چاہی ہے نہ کہ "حق" کیلئے۔ 
شرک اور توحید کے مسئلے کی اہمیت کم کرنا اور اس کو ثانوی حیثیت دینا ایک ناقابل تصور زیادتی ہے اور اسلام کی حقیقت کے معاشرے میں وجود پانے کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ۔ اس آخری بات کی کچھ وضاحت ہم ذرا آگے چل کر کریں گے۔

 

**********

 

یہاں ایک چھوٹی سی وضاحت اور بھی۔ ”دعوت“ کو ”سب سے بڑا فرض“ کے طور پر لینے والے احباب خصوصی توجہ فرمائیں....

ہمارے وہ احباب جو ”تعبیر کی غلطی“ کے حوالے سے ”دین“ کی ایک خاص تفسیر کرتے ہیں یعنی ” خدا کے ساتھ ایک قلبی تعلق جوڑنا اور باقی ہر چیز کو اُسی کی نسبت سے لے کر آنا“ .... جس کے باعث وہ خدا کی بابت خوبصورت پیرائے کہنے اور سوچنے کو ہی انبیاءکے مشن کا نقطۂ اساس باور کراتے ہیں.... ہمارے یہ حضرات اسلام کیلئے عمل میں لائے جانے والے موجود الوقت کثیر طریقوں کو رد کرتے ہوئے ”دعوت“ کی فرضیت پر ہی قریب قریب سارا زور دے دیتے ہیں۔ گو ہمارا ان پر اصل ملاحظہ ان کی ”تعبیرِ دین“ پر ہی ہے یوں بھی ”دین“ کی تفسیر میں رہ جانے والا نقص ”دعوت“ کے اندر آپ سے آپ بولے گا، اور اس حوالے سے ہماری اس کتاب کی پہلی فصل دیکھ لی جانامفید ہو سکتا ہے، پھر بھی دعوت کو سب سے بڑے فریضے کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے ایک غلطیِ مضمون کی وضاحت کردی جانا ضروری معلوم ہوتا ہے:

دعوت یعنی لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرنا یقینا اسلام کا ایک بڑا فرض ہے اور دعوت کے فرض کی اہمیت کم کرانا ہرگز ہمارا مقصود نہیں۔ مگر جیسا کہ ہم نے پیچھے کہا بہت سے لوگوں کو بہت سی صورتوں میں یا بہت سے مواقع پر یا بہت سے حالات میں اس فرض سے شرعاً چھوٹ مل سکتی ہے اور اس صورت میں ان پر خدا کی طرف سے کوئی عتاب نہ ہوگا۔

یعنی "دعوت" اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود اسلام کا "اصل فرض" نہیں۔

البتہ وہ بات جس سے کسی کو کسی صورت میں کسی موقعہ پر اور کسی قسم کے حالات میں کبھی کوئی چھوٹ نہیں ملتی وہ ہے ذہن وشعور کی دُنیامیں حق کا احقاق کیا جانا اورباطل کا ابطال۔ وہ ہے عبادتِ غیر اللہ سے بغض اور مخاصمت اور عداوت۔ وہ ہے فکر و احساس کی دنیا میں اللہ کی حدوں کو بدستور ان کی جگہ پر ہی رکھنا۔ شرک کو شرک جاننا اور ہلاکت وتباہی وذلت کا سبب بھی۔ غیر اللہ کی بندگی کو کفر جاننا۔ عبادت اور پرستش پر ایک اللہ وحدہ لاشریک کا حق ماننا اور اس کو اپنے اور دوسروں کے مابین اصل باعثِ نزاع جاننا۔ غیر اللہ کی عبادت اور تعظیم اور پرستش کی سب شکلوں کو صریح باطل اور خدا کے عذاب کا مستوجب جاننا۔ رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت اور شریعت کو حق اور اس سے متصادم ہر بات، ہر رسم، ہر عرف، ہر قانون، ہرآئین، ہر ضابطے اور ہر طریقے کو صریح باطل اور اس سے براءت اور عداوت اور مخاصمت کو فرض کے طور پر لینا.... قطع نظر اس سے کہ اس سے عداوت اور مخاصمت کرنے میں کسی فرد یا تحریک کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔ مختصر یہ کہ حق کا احقاق ہو اور باطل کا بطلان۔

اس فرض سے کسی کو کسی حالت میں کوئی چھوٹ نہیں۔ یہ فرض دعوت اور تبلیغ سے بھی بڑا ہے اور دین کے ہر اور اجتماعی فرض سے بھی۔ نہ صرف بڑا ہے بلکہ ان سب فرائض پر ترتیب اور اہمیت اور اولویت میں بھی مقدم ہے۔

"دعوت" کا فرض بڑی حد تک استطاعت اور اہلیت سے مشروط ہے اور اس کی بہرحال حدود اور قیود ہیں جن سے باہر ایک آدمی پر دعوت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ "دعوت" زیادہ سے زیادہ ایک فرضِ کفایہ ہے مگر وہ چیز جو ہر شخص پر ہر حال میں فرض ہے اور سوائے ایک مرفوع القلم کے کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں وہ یہی ہے کہ غیر اللہ کی بندگی کو باطل کہے۔ اس سے بیر رکھے۔ اس کو جہنم کا مستوجب سمجھے۔ باطل معبودوں کا کفر اور انکار کرے۔ ان کی پرستش اور ان کی خدائی کو حد درجہ مذموم جانے۔ بندگی کرانے کا حق رکھنے میں خدا کو تنہا اور یکتا جانے۔ تعظیم اور کبریائی اور گرویدگی، سجود اور رکوع، خوف اور خشیت، محبت اور انابت، دُعا اور التجاء، اطاعت اور انقیاد.. سب پر ایک اللہ وحدہ لاشریک کاحق جانے اور اس کایہ حق دینے پر دل وجان سے آمادہ ہو۔

یہ فرض پورے کا پورا مطلوب ہے، اس کے حصے نہیں ہوسکتے۔

رہا یہ کہ آدمی بس یہ تو کرے کہ خدا کا خوف دل میں بٹھائے، بس خدا کی محبت کا دم بھرے، خدا سے مناجات کرے، خدا کی تعظیم، اطاعت، انقیاد، رکوع، سجود، دُعا اور التجاءسب کچھ ہو _ جس پر کہ کوئی بھی معترض نہیں ہوگا _ تو بلاشبہ یہ اسلام ہے مگر یہ نامکمل اسلام ہے۔ اس پر آپ خود عمل پیرا ہیں اور ساتھ اوروں کو اس کی "دعوت" دینے لگتے ہیں تو بلاشبہ یہ اسلام کی دعوت ہے مگر یہ نامکمل اسلام کی دعوت ہے۔ اسلام کا یہ تصور آپ کو بہت بھلا لگتا ہے اور لوگوں کو بھی اسلام کی یہ دعوت بہت پسند آتی ہے تو یہ آپ کا اور لوگوں کا مسئلہ ہے مگر وہ اسلام جو خدا کے ہاں سے نازل ہوا ہے اس کا ایک بہت اہم حصہ آپ کے اسلام کے اس تصور سے اور اسلام کی اس دعوت سے یقینا حذف ہو گیا ہے۔

اسلام کی بابت خود اپنا "تصور" درست اور مکمل رکھنا دوسروں کو "دعوت" دینے کی نسبت کہیں ضروری ہے۔ دعوت کامرتبہ بہرحال اس کے بعد آتا ہے۔

تعظیم، اطاعت، انقیاد، رکوع، سجود، دُعا اور التجاءبلا شبہہ خدا کا حق ہے، خدا کے اس حق کا اثبات ضروری ہے اور پھر اس کی جانب دعوت بھی ضروری ہے مگر اس سے پہلے جو بات ضروری ہے وہ یہ کہ تعظیم، اطاعت، انقیاد، رکوع وسجود اور دُعا والتجا پر غیر اللہ کے حق کا انکار کیا جائے اور اگر یہ عمل کہیں غیر اللہ کیلئے ہوتا ہے تو اس کو باطل کہا جائے اور اس سے بیر رکھا جائے۔ نفی پہلے ہے اور اثبات بعد میں۔ "عبادت" پر "غیر اللہ کے حق کا انکار" پہلے ہے اور "اللہ وحدہ لا شریک کے حق کا اقرار" بعد میں۔ آپ کیلئے اس کی "دعوت" دینا مشکل ہے نہ دیجئے مگر دین کی یہ "ترتیب بلحاظِ اہمیت و اولویت" مت بدلئے۔ دین کا یہ "تصور" غلط نہ ہونے دیجئے۔ ہر بات کو اس کی جگہ پر رکھیے۔ باطل کا بطلان اور حق کا احقاق، کسی چیز کو حذف نہ کیجئے۔ اس پر آپ لوگوں کے ردعمل کے متحمل نہیں، آپ لوگوں سے اس کو ماننے پر اصرار مت کیجئے۔ مگر خود اسی پر ایمان رکھیے اور اسی پر خدا سے ملنے کی خواہش رکھیے۔ تب زیادہ سے زیادہ آپ کا کوئی قصور ہوگا تو اس کو "دعوت" میں کوتاہی کہا جائے گا۔ یہ اگر جرم بھی ہو تو اتنا بڑا نہیں جتنا کہ دین کے تصور میں تبدیلی لے آنا اور دین کی خود اپنی ہی ترتیب میں تقدیم اور تاخیر کا مرتکب ہونا۔

نفی اور اثبات کی یہ ترتیب خود لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے کلمہ میں واضح کر دی گئی ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ اسلام کی جامع ترین تعبیر ہے۔ اسلام کے صرف مثبت پہلو پر ہی بات کرکے اور محض اللہ سے مناجات کا لطف اور سجدہ ورکوع کا حسن بیان کرتے رہ کر رسول اللہ ﷺ بھی معاشرے میں ایک بڑی پذیرائی پا سکتے تھے اور اپنی ایک بڑی مخالفت کو تھم جانے اور دشمنوں کو پسپا ہو جانے پر مجبور کر سکتے تھے بلکہ اس بات کو یقینی بنا سکتے تھے کہ آپ کی سرے سے کوئی دشمنی نہ ہو، جیسا کہ ہمارے یہ حضرات اپنے دور میں اس نسخہ کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا لیتے ہیں۔ مگر مسئلہ تو، جیسا کہ ہم نے کہا، تصورِ دین کا ہے اور یہی وہ بات ہے جو ہر دور میں دینِ توحید کیلئے دشمنی کھڑی کردیا کرتی ہے.... جو چیز ان کے بیان میں آنے سے رہ جاتی ہے وہ یہ کہ اللہ کو کئے جانے والے سجدہ ورکوع کا "حسن" بیان کرنےکا ہی رسول اللہ ﷺ کو حکم نہ تھا، اس سے پہلے غیر اللہ کو کئے جانے والے سجدہ ورکوع کا "قبح" بیان کرنے کا بھی آپ کو حکم تھا۔ یعنی نہ صرف غیر اللہ کو ہونے والے سجدے کا قبح بیان کرنا، بلکہ اللہ کو ہونے والے سجدے سے ”پہلے“ یہ قبح بیان کرنا۔ یہی وہ بات تھی جس سے وہ بہت سے لوگ جو _ خدا کا ایک مثبت اندازمیں حق بیان کیا جانے پر اور سجدہ و رکوع کی دلنشینی بتانے پر اور خدا سے محبت کے خوبصورت پیرائے نشر کئے جانے پر _ ضرور آپ کے قریب آجاتے، "باطل معبودوں کی مذمت" سن کر آپ سے دور ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں "اللہ کی بندگی کی مٹھاس" لینا اس بات سے مشروط کر دیا گیا تھا کہ لوگ "غیر اللہ کی پوجا وپرستش کا عیب سننے کی کڑواہٹ" برداشت کریں۔ "طاغوتوں" اور "باطل خداؤں" کا "انکار" رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا بنیادی اورلازمی حصہ تھا.. یہ محض کوئی ’شوق‘ ا اور ’جذبہ‘ کا معاملہ نہ تھا، آپ اس کے مامور تھے۔

اسلام کے ان حقائق میں کسی ردوبدل یا تقدیم و تاخیر یا حذف کی اجازت دینا چنانچہ نہ تو "رواداری" ہے نہ "دعوت کی ضرورت" اور نہ لوگوں کیلئے اسلام پر جینا آسان کردینے کا تقاضا۔ یہ زمانہ فہمی اور روشن خیالی کی بھی کوئی قسم نہیں۔

 

*********

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز