عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 17,2019 | 1440, ذوالحجة 15
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Dawaat_Ka_Minhaj آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
”بنیادی جمعیت“ جو معاشرے پر اثر انداز ہو- حصہ سوم
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

”بنیادی جمعیت“

جو معاشرے پر اثر انداز ہو-حصہ سوم

 

اب آئیے ذرا یہ دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ہدف کیا تھا؟ یعنی اس قدر عظیم الشان محنت جو آپ نے اپنے اصحابؓ کی تربیت اور تیاری پر صرف فرمائی، اس سے آپ ہدف کیا حاصل کرنا چاہتے تھے؟ کیا یہ اتنی محنت محض اس لئے تھی کہ اصحابؓ آپ کے مخلص حواری بن جائیں؟ کیا محض یہ مقصد تھا کہ صحابہؓ پکے سچے مومن بن جائیں؟ بلاشبہ یہ ایک غایت درجہ کا نیک مقصد ہے اور اس پر محنت کرنا بنتا ہے۔ مگر! کیا اتنی ساری محنت!؟

رسول اللہ ﷺ نے جتنی محنت صرف کی اس کا ایک حصہ بھی اس مذکورہ بالا ہدف کو حاصل کرنے کیلئے کافی ہو سکتا تھا بلکہ اس حد تک باحسن انداز ہو سکتا تھا جس کا کہ کوئی رسول اپنی امت کیلئے خواہشمند ہو۔ اس کیلئے وہ محنت بھی کافی تھی جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے حواریوں کی تربیت میں میں صرف کی تھی جو کہ آپ ؑکے گردا گرد اکٹھے ہو گئے تھے اور آپ ؑکے مخلص پیروکار بنے اور پھر آپ ؑکے بعد آپ ؑکے دین کی نشر واشاعت میں جت گئے جبکہ وہ رافت اور رحمت اور زہد واخلاق میں ایک زبردست مثال تھے ۔

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاء رِضْوَانِ اللَّهِ(الحدید: 27)

ان کے بعد پے درپے ہم نے اپنے رسول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسیٰ بن مریم کو مبعوث کیا اور اس کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رھبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکال لی

مگر محمد ﷺ کا ہدف اپنے سے پہلے رسولوں کی طرح اہل ایمان کی محض ایک جماعت تیار کر دینا نہ تھا۔ آپ کا ہدف اس سے کہیں بڑا اور کہیں زیادہ جلیل القدر تھا۔ آپ کا مقصد ایک ایسی مضبوط جمعیت کی تیاری تھا جو زمین پر خیر امۃ اخرجت للناس کی صورت دھار لے۔

وہ فرق جو محمد ﷺ سے پہلے کے کسی بھی رسول کی تیار کردہ اہل ایمان کی جمعیت اور رسول اللہﷺ کے ہاتھوں تیار ہونے والی اہل ایمان کی جمعیت کے مابین ہے.... یہ فرق پوشیدہ ہے دراصل ان ذمہ داریوں کے اندر جن کا خدا نے ان پہلوں کو مکلف کیا تھا اور ان ذمہ داریوں کے اندر جو خدا نے اس امت پر عائد کی ہیں۔ یہ فرق اس کردار کے اندر پوشیدہ ہے جو زمین میں ان پہلے والوں سے مطلوب تھا اور جو اس امت سے مطلوب ہے۔

جہاں تک پہلی مومن جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کی بابت اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے:

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (البینۃ: 5)

اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کیلئے خالص کرکے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہی نہایت صحیح ودرست دین ہے

جہاں تک رسول اللہ ﷺ کی جماعت کا معاملہ ہے تو ان پر عین یہی ذمہ داری بھی عائد ہے، یعنی یہ کہ یہ دین اور بندگی کو خدائے وحدہ لاشریک کیلئے خالص اور مختص کرتے ہوئے خدا کی عبادت کریں اور ہر طرف سے یکسو ہو کر خدا کی جانب رخ کرلیں اور یہ کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں وغیرہ.... مگر اس سے بڑھ کر ان کو ایک اور بات کا بھی پابند بنایا ہے اور یہ بس اسی امت کے ساتھ خاص ہے:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ (آل عمران: 110)

تم وہ بہترین امت ہو جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کیلئے میدان عمل میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(البقرۃ: 143)

اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”امت وسط“ بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو

پہلی امتوں کو برپا کیا گیا تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں اور خود اپنی ذات میں اللہ پر ایمان کی راہ پہ کاربند وثابت قدم رہیں۔ مگر اس امت کو انسانیت کیلئے برپا کیا گیا ہے۔ اس کو ایک ایسا نمونہ بننا ہے جسے دیکھ کر ساری کی ساری بشریت سیدھے راستے کا پتہ پائے۔ کتنا بڑا فرق ہے کہ ایک شخص کو محض اپنی ذات کے اندر اور اپنی قوم کے ایک محدود دائرے میں نیک اور پاکباز بن کر رہنا ہے جبکہ ایک دوسرے شخص کو جہان میں نمونہ بن کر دکھانا ہے۔ صرف اپنی قوم کے اندر نہیں بلکہ پوری انسانیت کی سطح پر۔ اس کو زمین کے ہر خطے پر اثر انداز ہونا ہے۔

بلاشبہ دونوں کی اساس ایک ہے۔ یعنی خدائے وحدہ لاشریک کی خالص اور بلاشرکت غیرے بندگی۔ مگر وہ فرق ان دونوں میں اس لحاظ سے بہرحال قائم ہے کہ ان دونوں کو اس مشن میں کہاں پہنچنا ہے۔ اساس بلاشبہ ایک ہے مگر ایک کی بنیاد اٹھائی جانی ہے کہ اس پر ایک چھوٹے مجمع کی اور محدود گنجائش کی عمارت کھڑی کی جائے اور ایک دوسری کی بنیاد اٹھائی جانی ہے کہ اس پر ایک عظیم الشان اور ایک فلک بوس عمارت کھڑی کی جانا ہے۔ دونوں کی بنیاد اٹھانے میں عمدگی سے کام لیا جانا ہے۔ دونوں کی بنیاد اٹھانے پر محنت اور مشقت ہونی ہے مگر کہاں وہ بنیاد اور کہاں یہ بنیاد۔ کہاں وہ محنت اور کہاں یہ محنت۔ کہاں وہ عمدگی جو وہاں مطلوب ہے اور کہاں وہ عمدگی اور مضبوطی کا معیار جو یہاں مطلوب ہے! ....

یہ فرق سب سے پہلے ہمیں خدا کی کتاب کے اندر ہی واضح طور پر نظر آتا ہے۔

ہر امت کو ہی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ مگر کوئی آسمانی کتاب ایسی نہیں جس میں اس مسئلہ یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کو اتنا زیادہ پھیلایا گیا ہو اور پھر اس قدر اس پر زور دیا گیا ہو جتنا کہ ہم خدا کی آخری کتاب میں دیکھتے ہیں۔ ہر امت کا ہی معاملہ یہ رہا ہے کہ اس سے جن فرائض کو ادا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ان فرائض کو اس جوہری قضیہ (اللہ اور آخرت پر ایمان) کے ساتھ براہ راست جوڑا گیا کیونکہ یہی ہر چیز کی بنیاد ہے اور یہی ہر چیز کا مصدر ومنبع۔ مگر جس طریقے سے دین کے سب فرائض اور اعمال کو اس آخری رسالت کے اندر اس جوہری قضیہ (اللہ اور آخرت پر ایمان) کے ساتھ جوڑا گیا، باوجود اس کے کہ اس امت پر عائد کردہ ذمہ داریاں کہیں زیادہ وسیع تر اور زندگی کے جوانب پر محیط تر ہیں، اور جس شدت سے فرائض کو ایمان سے برآمد کرنے کی تاکید ہوئی ہے وہ کہیں کسی اور رسالت میں نہیں پائی گئی۔ (4)

پھر قرآن کے اس اندازِ ہدایت کے عین متوازی ہم رسول اللہ ﷺ کی اس سنت اور منہج کو دیکھتے ہیں جس پر آپ نے اصحابؓ کی تربیت فرمائی۔ خواہ یہ آپ کے منہج کا وہ پہلو ہو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان پہ انسان کی تمام تر توجہ اور محنت کو مرکوز کراتا ہے اور خواہ یہ آپ کے منہج کا وہ پہلو ہو جو اسلام کے تمام تر اعتقادی اور سلوکی فرائض کو اس جوہری قضیہ (ایمان بللہ والیوم الأخر) کے ساتھ جوڑتا اور اسی سے برآمد کراتا ہے۔

مکی دور میں ابھی وہ احکام اور وہ ہدایات اور تعلیمات نازل ہوئی ہی نہیں تھیں جو مومن جماعت کی سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی زندگی کو چلانے کیلئے بعد ازاں نازل کی گئیں۔ یہ سارا مکی دور رسول اللہﷺ کی دعوتی اور تربیتی زندگی میں مختص ہی اس بات کیلئے کر دیا جاتا ہے کہ انسانی نفوس کے اندر عقیدہ کے بیج بہت گہرے کرکے بو دیں اور یوں ان نفوس کو ان تقاضوں کیلئے تیار کر دیں جو اس عقیدہ سے آگے چل کر جنم لیں گے اور جن کی بابت خدا کو علم تھا کہ ان کا وقت آنے والا ہے ....

اب ہم ان اہل ایمان کی بابت بھی کچھ بات کریں گے جو اس حقیقت پر ایمان لائے تھے کہ ”نہیں کوئی بندگی وپرستش کے لائق خدائے وحدہ لاشریک کے سوا، اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں“ اور جو کہ بعث ونشوز اور حساب وجزا پر ایمان لائے تھے .... کیونکہ یہی وہ بنیادی جمعیت تھی جو رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں تیار ہوئی تھی اور جو کہ ہماری اس فصل کا اصل موضوع ہے .... البتہ اس گفتگو کے دوران ہمیں ہرگز اس بات سے توجہ نہ ہٹانی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ اس قضیہ کو پیش کرنے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے میں کس قدر تھکے ہوں گے۔ چاہے یہ آپ کی وہ محنت ہو جو آپ کو قریش کے ان طاغوتوں کے بالمقابل کرنا پڑی جو ہر دم اس دعوت کے خلاف گھات لگائے رہتے تھے اور ہر ہر طرح سے اس کے خلاف برسر جنگ رہے اور چاہے یہ آپ کا وہ مجاہدہ ہو جو آپ نے عوام کے بالمقابل جو کہ اس وجہ سے آپ کی دعوت کے خلاف برسر جنگ تھے کہ یہ ان کے موروثی عقائد اور ان کے باپ دادا کے راستے کے خاتمہ کی دعوت تھی اور پھر اس لئے بھی کہ وہ ان طاغوتوں کی زنجیرِ غلامی میں جکڑے ہوئے تھے چاہے ان میں سے کسی کو اس بات کا ادراک ہو یا نہ ہو اور چاہے کوئی اس غلامی کو بخوشی قبول کرتا ہو یا نہ۔

یہ مرحلہ، جس کی ہم بات کر رہے ہیں، آپ کی زندگی میں کچھ اس طرح گزرتا ہے کہ لا الہ الا للہ کے تقاضوں میں سے کچھ خاص تقاضوں پر تمام تر زور صرف کر دیا جاتا ہے اور پوری توجہ مرکوز کر دی جاتی ہے....

جہاں تک اس لا الہ الا للہ کی زبان سے ادائیگی کا معاملہ ہے تو وہ اس مرحلہ میں اس دعوت پر ایمان کی ایک ظاہر اور واضح علامت تھی۔ کیونکہ ابھی اس مرحلے میں شہادتین کو زبان سے ادا کر دینا سوائے ایک ایسے شحص کے جو اس پر واقعتا اور دل سے ایمان لا چکا ہو، کسی کے بس کی بات تھی ہی نہیں۔ اس کا برتہ صرف وہی شخص رکھتا تھا جو رسول اللہ ﷺ کے روبرو ہدیۂ ایمان پیش کرکے اپنے آپ کو خطرات کے سپرد کر سکے اور اپنی جان کو چاروں طرف سے پیش آنے والی اذیت رسانی کی نذر کر سکے۔ جبکہ جاہلیت ہر طرف اس دعوت کے خلاف اعلان جنگ رکھتی تھی اور اس کے خلاف دشمنی اور عداوت کا بازار گرم کر چکی تھی۔ سو اگرچہ لا الہ الا للہ کا اقرار کر لینا اس وقت تک ایمان کی ایک قطعی اور یقینی علامت تھی کیونکہ اس اقرار کی قیمت ادا کئے بنا اس وقت کوئی چارہ نہ تھا اور سوائے ایک ایسے شخص کے جو اس قیمت کے ادا کر دینے پر پوری طرح تیار ہو چکا ہو اور لا الہ الا للہ کی حقیقت کو دل سے قبول کر چکا ہو کوئی شخص اس کلمہ کا زبان سے اقرار کر ہی نہ سکتا تھا مگر پھر بھی کیا رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو کافی جانا کہ ان لوگوں نے اس لا الہ الا للہ کی ’دل سے تصدیق کر دی ہے اور زبان سے اقرار کر لیا ہے!؟؟

اگر رسول اللہ ﷺ بس اس بات کو کافی جان لیتے تو کیا وہ ٹھوس اور مستحکم جمعیت وجود میں آتی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کا پورا رُخ ہی تبدیل کردیا؟؟؟

یہ بات کافی تھی تو آخر آپ کی دارالارقم میں ان کے ساتھ مجلسیں کیا ہوئیں؟ یہ صحبت وملاقات جو کئی سال چلی پھر کیا ہوئی؟ گھنٹوں کے گھنٹے آپ کا ان کے ساتھ گزار دینا پھر کیا تھا؟ کیا صرف ’یہ‘ بتانے کیلئے ان کو لا الہ الا للہ پر ایمان لے آنا چاہیے، جبکہ وہ ایمان لا کر ہی تو آپ کی صحبت میں بیٹھنے لگے تھے!؟ کیا ان سے لا الہ الا للہ کا ’زبان سے اقرار ‘کروانے کیلئے، جبکہ اس کا زبان سے اقرار کر کے ہی تو وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے!؟ یہ سب محنت، یہ سب صحبت تو لا الہ الا للہ کے تقاضوں پر ان کو تربیت دینے کیلئے اور لا الہ الا للہ کے نقشے پر ان نفوس کو تشکیل دینے کیلئے تھی جبکہ اس سارے کام میں عملی نمونہ خود آپ کی اپنی ذات اور شخصیت تھی۔

اس مرحلے میں بطور خاص، اور دعوت کے ہر مرحلے میں بطور عموم، اس لا الہ الا للہ کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا حق کے معاملے میں اذیت ملنے پر صبر کرنا تھا۔ اس حقیقت کو قبول کرنا تھا کہ عقیدۂ حق کو جب آدمی قبول کر لے تو پھر اس کی راہ میں سب کچھ برداشت کرنا اس عقیدہ کا ہی ایک تقاضا ہے .... تو پھر کیا محض ایمان لے آنا اور لا الہ الا للہ کی ’دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار‘ کر لینا خودبخود انسان کو صابر بنا دیتا ہے یوں کہ اس عقیدہ کی راہ میں جو بھی اذیت آئے، آدمی اس پر صبر واستقامت کا ثبوت دے اور اس دعوت کو قبول کرنے کی جتنی بھی بڑی قیمت جان یا مال کی صورت میں دینی پڑے آدمی دے دے؟ کیا یہ کام لا الہ الا للہ کی’ تصدیق اور اقرار‘ سے آپ سے آپ ہونے لگتا ہے یا اس کیلئے ایک بہت ہی خاص انداز اور خاص نوعیت کی ’محنت‘ کرانا پڑتی ہے تاکہ انسان نفسیاتی اور شعوری طور پر وہ پختگی حاصل کرلے جو اسے ہر قسم کے دباؤ کا سامنا کرنے کی طاقت دے، بغیر اس کے کہ اس دباؤ کی شدت اور بوجھ سے انسان بے بس ہو جائے یا سرے سے راستہ چھوڑ جائے؟ اور پھر یہ بات وہ کہاں سے سیکھیں گے؟ کیا بس یہ کہہ دینے سے کہ ’صبر کرو‘سب جذبات قابو میں آجائیں گے، عزیمتیں جوان ہو جائیں گی اور دُنیا اپنی تمام تر کشش وجاذبیت کے باوجود آدمی کی نگاہ میں حقیر و بے قیمت ہو جائے گی اور انسان اس سے کسی عظیم تر ہدف پر ہی نگاہ جما رکھے گا اور اس کی خاطر ہر قسم کی اذیت برداشت کرنے پر تیار ہو جائے گا مگر حق کے معاملے میں اپنے کردار پر کوئی آنچ نہ آنے دے گا؟؟؟ بخدا نہیں۔ بے حد ضرورت ہے کہ اس کی باقاعدہ تعلیم ہو۔ تلقین ہو۔ تربیت ہو۔ ٹریننگ دی جائے۔ شخصیتوں کو بنایا سنوارا جائے اور باقاعدہ نگہداشت کا انتظام کیا جائے .... محض کلمات کے ساتھ نہیں بلکہ عملی نمونہ کے ذریعے جسے وہ اپنے سامنے مجسم طور پر دیکھیں، جس میں ان کو وہ سب کچھ دکھائی دے جس کی ان کو دعوت دی جا رہی ہے اور اس نمونہ کا ایک اعلیٰ معیار ہو۔ تب وہ اس سے سیکھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں ....

چنانچہ سید الرسل ﷺ کو اس ظلم و اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے پہاڑ ہوں تو وہ بھی ہل جائیں....

جھٹلائے جانے کی اذیت، جبکہ ایک صادق اور امین کو صاف جھوٹا کہہ دیا جائے تو یہ کس قدر شاق گزرتا ہے .... مذاق اور استہزاءکی اذیت اور جبکہ حق پر ایمان رکھنے والے کو ٹھٹھہ اور مذاق ہو تو یہ کس قدر اذیت ناک ہے جبکہ وہ جانتا ہو کہ جس چیز پروہ ایمان رکھتا ہے حق دراصل وہی ہے۔ خیر بھی وہی ہے۔ ہدایت بھی وہی ہے اور نجات اور فلاح بھی اسی میں ہے اور یہ کہ ٹھٹھہ اور استہزاءکرنے والے پرلے درجے کے جاہل اور گمراہ ہیں.... یہ سب کتنی بڑی اذیت ہے۔ پھر آپ کو مخالفانہ پراپیگنڈہ کی اذیت دی جاتی ہے۔ ہر طرف بدنام کردیا جاتا ہے۔ اچھوت بنا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لوگوں کیلئے ایک ہوّا بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ لوگ چاہیں بھی تو کسی کو آپ کی آواز میں آواز ملانے کی آزادی نہیں۔ حتی کہ بات سننے کی اجازت نہیں۔ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر پاس سے گزرتے ہیں۔ جسمانی طور پر اذیت دی جاتی ہے۔ نفسیاتی طور پر مجروح کیا جاتا ہے۔ پتھر پڑنے تک نوبت آتی ہے۔ یہاں تک کہ خون بہہ کر پیروں تک پہنچتا ہے، راستے میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں جیسا کہ ابولہب اور اس کی بیوی کرتے رہے۔ سجدے میں پڑے ہوئے سر پر غلاظت لا کر دھر دی جاتی ہے جبکہ آپ اپنے رب کا ذکر کرنے میں مصروف ہیں .... غرض اذیت کی ہزاروں صورتیں ہیں جو آپ پر حملہ آور ہوتی ہیں۔

یہ سب کچھ آپ کو حق کے ساتھ تمسک میں اور بھی پختہ کر دیتا ہے۔ حق پر آپ اور بھی بڑھ کر اصرار کرنے لگتے ہیں .... پھر دوسری طرف لالچ دیے جاتے ہیں۔ دل فریب پیشکشیں ہوتی ہیں۔ انسان کو دُنیا میں جس کسی بات کی چاہت ہو سکتی ہے، وہ لاحاضر کی جاتی ہے۔ اقتدار وبادشاہت، دولت وسرمایہ، جاہ وحشمت، چودھراہٹ۔ مگر وہ اپنے چچا کو پیشکش لانے والوں کیلئے جواب دے دیتے ہیں ”بخدا اے چچا۔ یہ لوگ کبھی سورج لا کر میرے دائیں ہاتھ پہ دھر دیں اور چاند میرے بائیں ہاتھ میں تھما دیں، اس امید پر کہ میں اس مشن سے باز آجاؤں تو بھی میں اس کو چھوڑنے والا نہیں چاہے میں اس کو سرے پہنچانے میں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں“۔ (5)

یوں اس طریقے سے رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کو ایک سبق پڑھاتے ہیں۔ یہ سبق محض کلمات کے ساتھ نہیں۔ گو کہ کلمات بھی سبق اور تعلیم دینے میں مطلوب ہوتے ہیں۔ دراصل یہ ایک عملی سلوک ہے جو کہ کلمات کی عملی شرح کا کام دیتا ہے اور یوں ’کلمات‘ کو ’عملی حقائق‘ میں بدل دیتا ہے۔ جس کی بدولت یہ عملی حقائق دنیائے واقع میں نظر آنے لگتے ہیں۔

لا الہ الا للہ کے اس وقت کے تقاضوں میں ___ بلکہ ہر وقت کے تقاضوں میں ___ یہ بات تھی کہ آدمی دل کو خدا کی محبت سے بھر لے۔ خدا کی عظمت و کبریائی کو ہر دم نگاہ میں رکھے۔ خدا سے جڑا رہے۔ خدا کی جانب رخ کئے رکھے اور اپنے ہر رویہ وسلوک کے اندر خدا کے تصور اور شعور کو جلی کرے۔ تو کیا ایسا ممکن تھا کہ آدمی زبان سے اس لا الہ الا للہ کا اقرار کرلے اور ’تصدیق‘ کےفریضہ سے عہدہ برآ ہو جائے تو بس اتنا ہو جانے سے آپ سے آپ ہی آدمی کے اندر یہ شعور اور احساس گھر کر لے اور اس کے رویہ وسلوک میں خدا کا ہمہ وقتی تصور بولنے لگے؟ یا پھر اس کیلئے تعلیم اور تلقین اور یاد دہانی اور تربیت کی ضرورت تھی؟

نفوس کو یہ رخ دینا اور دلوں میں یہ چیز پیدا کرنا مربی اعظم ﷺ کے سوا کس کا کام ہو سکتا تھا؟ یہ عمل بھی صرف الفاظ کا ضرورت مند نہیں بلکہ یہ ایک عملی کردار تھا کہ جس کو اصحابؓ چھوئیں۔ محسوس کریں اور سیکھیں۔ آپ کو ہر لحظہ خدا کے ذکر میں مشغول پائیں۔ خدا کی جانب متوجہ پائیں۔ آپ کو ہر لحظہ خدا کی رحمت پہ نظر جمائے ہوئے دیکھیں۔ خدا کے آگے عاجز اور منکسر، تائب، دُعائیں کرتے ہوئے اور خدا کو پکارتے ہوئے، انابت کا نمونہ بنے ہوئے آپ کو وہ ہر وقت دیکھیں۔

لا الہ الا للہ کے اس وقت کے تقاضوں میں ___ بلکہ ہر وقت کے تقاضوں میں ___ یہ بات تھی کہ خدا کی قضاءاور قدر پر ایمان پیدا کیا جائے۔ اس بات پر ایمان پختہ کیا جائے کہ بس وہی ہے جو ہر معاملے کی تدبیر کرتا ہے۔ وہی ہے جو فیصلے کرتا ہے۔ جو چاہے کر گزرتا ہے۔ زمام امور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اکیلا وہی رزق دیتا ہے۔ تنہا وہی نفع نقصان کا مالک ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز کا مالک وہی ہے۔ ہر واقعہ اسی کا رہین اشارہ ہے۔ کائنات کے اندر اور انسانوں کے سب معاملات میں اسی کا تصرف چلتا ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی چیز رونما نہیں ہوتی۔ جب تک وہ نہ چاہے کچھ نہیں ہوتا اور جو وہ چاہے وہ ہو کر رہتا ہے۔

تو کیا محض لا الہ الا للہ کی تصدیق کر دینا اور اس کا بس زبان سے اقرار کر لینا اس بات کیلئے کافی تھا کہ اتنا ہونے سے آپ سے آپ ہی قضا وقدر پر ایمان دلوں میں جنم پا لے اور نفوس کے اندر گہرا اتر جائے؟ یا پھر اس کیلئے تعلیم اور تلقین کی ضرورت تھی اور نفوس کو ایک رخ دینے اور رویہ و سلوک کو خاص انداز سے تربیت دینے کی احتیاج تھی؟ اور کیا اس بات کو دلوں میں راسخ کرنے کیلئے اتنا کافی تھا کہ آپ ایک تقریر یا چند تقاریر فرما دیں یا کوئی درس دے دیں یا کسی سلسلہ دروس کو کافی جانیں؟ یہ کوئی ’نظریہ‘ نہیں جس کو درسی انداز میں پڑھایا جائے یا حفظ کرایا جائے اور پھر اس میں آدمی کا درسی انداز میں ٹیسٹ لیا جائے۔ یہ تو عملی سبق ہے اور عملی امتحان۔ یہ مرغوبات نفس سے ہر لمحہ کا ٹکراؤ ہے۔ شہواتِ نفس سے ہر وقت کی مڈبھیڑ ہے۔ نفس کے وسوسوں کے خلاف ہر لمحہ مزاحمت ہے۔ یہ زندگی کے ہر مشکل مقام سے ایمان اور استقامت کے ساتھ گزرنا ہے۔ زندگی کے تلخ وترش سے ایمانی اسباق لینا ہے۔ اس میں سبق یاد کرنا تو ہے مگر یہ صرف دماغی کام نہیں یہ وجدان کی شرکت بھی چاہتا ہے، شعور کی بھی۔ یہ اعصاب کا بھی امتحان ہے۔ یہ اعضاءکا بھی عمل ہے۔ یہ روح کو بھی مشغول کرتا ہے اور نفس کو بھی تسخیر کرتا ہے۔ غرض انسان کی کل ہستی ہی اس ایمان کا سبق یاد کرتی ہے۔

پیشتر ازیں، میں اپنی کسی کتاب (6) میں کہہ چکا ہوں:

”اگر آپ کسی انسان سے پوچھیں: تمہیں رزق دینے والا کون ہے؟ تو وہ جھٹ سے بولے گا: خدا کی ذات! گویا یہ ایک بدیہی بات ہے مگر خدانخواستہ جب اس پر کبھی رزق کی تنگی ہو یا یوں کہیے جب اس کے رزق کا نقصان ہوتا ہوا نظر آئے، تب وہ کیا کہتا ہے؟ فلاں نے میری روزی چھین لی، یا یہ کہ ’فلاں میری روزی چھیننے کے درپے ہے‘! اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اس سے ثابت یہی ہوتا ہے کہ جو بات اس نے جھٹ سے کر دی تھی اور جو ہم کو ’سامنے کی بات‘ لگتی تھی اس کو ’حقیقت‘ بن جانے کیلئے وقت چاہیے تھا اور ایک شدید محنت بھی۔ یا یوں کہیے جو چیز عقلی اور ذہنی طور پر ایک بدیہی حقیقت نظر آئے اس کو وجدان بننے کیلئے کئی مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ ذہن میں اترنے کے باوجود دل میں گھرنے کیلئے ایک حقیقت کو وقت چاہیے اور محنت بھی۔ پھر اس دل میں اتری ہوئی حقیقت کو رویہ وسلوک میں ڈھلنے پر تو اور بھی محنت ہوتی ہے۔ زبان سے مان لی جانے والی چیز احساسات کے اندر بھی بسنے لگے اور وہ احساسات پھر ایک رویہ اور کردار کو جنم دیں، بلاشبہ یہ ایک محنت طلب کام ہے“۔

سورۃ بقرہ کی ایک آیت پڑھتے ہوئے ایک بار میری توجہ معاً ایک بات پر مرکوز ہو کر رہ گئی۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ وَفِي ذَلِكُم بَلاء مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ (البقرہ: 49)

”یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی۔ انہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ وہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی“۔

دو باتیں یکجا کر دی گئیں: بنی اسرائیل پر ’بدترین عذاب‘ آل فرعون کی جانب سے روا رکھا جاتا ہے (آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ) مگر ’ابتلا‘ یہ خدا کی جانب سے ہے (وَفِي ذَلِكُم بَلاء مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ )!

جب کسی انسان پر کوئی انسان ظلم وستم ڈھائے تو کیا ’جھٹ سے‘ یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ یہ ابتلا خدا کی جانب سے ہے؟ ذہن فوری طور پر اسی شخص کی جانب جاتا ہے جس کے ہاتھ میں کوڑا نظر آئے۔ بڑی محنت کے بعد جا کر انسان کو یہ بات سمجھانے اور ذہن نشین کرانے میں کہیں کامیابی ہوتی ہے کہ بظاہر تو یہ اسی شخص کا فعل ہے مگر اس کے پیچھے خدا کی فاعلیت ہے۔ سو یہ فعل کسی انسان کی جانب سے ہے مگر ابتلا خدا کی جانب سے۔ پھر جب وہ اس بات کو پا لیتا ہے اور یہ بات اس کے قلب وشعور میں جاگزیں ہو جاتی ہے تب وہ اس ابتلاءکو دور کرانے کیلئے کس کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور کس سے درخواست کرتا ہے؟ یہی وہ درس ہے جو ہمیں ایمان کی اس حقیقت سے لینا اور یاد کرانا ہوتا ہے!

اس کا یہ مطلب نہیں کہ مومن جب خدا کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور تبدیلیِ حالت کیلئے خدا سے درخواست کرتا ہے تو وہ ’اسباب‘ کو نظر انداز کر دیتا ہے مگر اب وہ ’اسباب‘ پہ سہارا نہیں کرتا اور نہ وہ یہ سوچتا ہے کہ اسباب میں آپ سے آپ کچھ کر دینے کی خاصیت ہے۔ اب وہ یقین رکھتا ہے کہ اسباب خواہ وہ ہوں جو وہ خود اختیار کرتا ہے یا اسباب وہ ہوں جو اس کے خلاف اختیار کئے جاتے ہیں سب خدا کے اشاروں کے پابند ہیں۔ خدا کی مقرر کی ہوئی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ تب اس کا تمام تر رخ اس ذات کی جانب رہتا ہے جو فیصلے کا اصل مالک ہے جس کے اذن سے ہی کوئی حادثہ جنم لے سکتا ہے اور جس کے حکم سے ہی کوئی شخص حرکت کر سکتا ہے .... اور وہ ذات اللہ ہے جو ہر چیز پہ انتہائی دسترس رکھنے والا ہے۔

لا الہ الا للہ کے اُس وقت کے تضاضوں میں ___ بلکہ ہر وقت کے تقاضوں میں ___ یہ بات تھی کہ آدمی خدا واسطے کی اخوت رکھے۔ کسی سے محبت رکھے تو خدا واسطے کی محبت ہو۔ بغض رکھے تو خدا واسطے کا بغض ہو۔ دوستی ہو تو خدا واسطے کی۔ براءت ہو تو خدا واسطے کی (الولاءوالبراءفی للہ) .... اب یہ سب باتیں اس عرب ماحول کے لحاظ سے، بلکہ قدیم اور جدید ہر جاہلی ماحول کے لحاظ سے، کچھ ایسی باتیں تھیں جو کہیں سننے میں آئیں اور نہ دیکھنے میں۔ یہ ماحول او ررسم کے بالکل برخلاف چلنا تھا ....

جہاں تک عرب جاہلیت کی بات ہے تو اس کے اندر خونی رشتہ ہی وہ اصل رشتہ تھا جو کہ توانا اور دیرپا جانا جائے۔ اس کے سوا ہر رشتہ یا تو کمزور ولاغر تھا اور یا پھر سرے سے غیر موجود ....

اپنی اس آج کی جاہلیت میں پرانی جاہلیت کے اس محدود ’رشتۂ قرابتِ خون‘ کی جگہ ’قوم‘ اور ’وطن‘ کے رشتے نے لے لی جو کہ آج کی جاہلیت کی نظر میں تفاخر کی بنیاد ہے اور جس کی عصبیت آج ویسے ہی پائی جاتی ہے جیسی عصبیت پرانی عرب جاہلیت کے اندر خون اور قبیلہ وبرادری کیلئے پائی جاتی تھی .... پس اگر کوئی اختلاف آیا ہے تو وہ ’حجم‘ میں آیا ہے نہ کہ ’جوہر‘ میں!

جہاں تک محبت اور بغض کا تعلق ہے تو وہ پرانی عرب جاہلیت ہو یا کسی بھی اور دور کی جاہلیت، اس کی بنیاد انسان کے مفادات ہیں اور زیادہ تر یہ مادی اور عارضی مفادات ہوتے ہیں .... یا پھر ایک اور جہت سے، اس کی بنیاد انسان کی اَنا ہوتی ہے: ’میں‘، ’میری بڑائی‘، ’میری دولت‘، ’میرا اقتدار‘، ’میری قوم‘ اور ’میں‘ اگر کوئی لیڈر ہوں تو ’میرے پیچھے چلنے والے‘ اور ’میں‘ اگر کوئی عام شخص ہوں تو ’میرے بڑے‘ اور ’میرے لیڈر‘.... !

پھر جہاں تک (ولاءوبراء) دوستی ودشمنی کا تعلق ہے تو اس کا معاملہ بھی محبت اور بغض جیسا ہی ہے۔ اس کا بھی کوئی مستقل اصول نہیں سوائے ان مفادات کے جو آج یہاں پائے جا سکتے ہیں تو کل وہاں .... سو اس کی صورتیں بدلتی ہی رہیں گی۔ یہ کہیں ایک جگہ پر رک جانے والا معاملہ نہیں۔ آج جو دوستی ہے کل وہ دشمنی میں بدل سکتی ہے۔ آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ کسی کے اصول بدل جائیں گے یا قدروں اور معیاروں میں کوئی تبدیلی آئے گی بلکہ اس وجہ سے کہ مفادات کوئی اور صورت دھار سکتے ہیں۔ ’مفادات‘ کا کیا ہے آج کہیں ہیں تو کل کہیں اور ہوں۔ ’وفاداریوں‘ کو ان کے ساتھ ہی جگہ بدلنی ہوگی .... جاہلیتیں سب کی سب، ہر جگہ اور ہر دور کی جاہلیتیں اس معاملے میں ایک سی ہیں!

تو کیا محض لا الہ الا للہ کی تصدیق کر دینا اور اس کا بس زبان سے اقرار کر لینا اس بات کیلئے کافی تھا کہ ایک اتنی بڑی تبدیلی قلب وذہن کے اندر جنم لے لے اور جاہلیت کا پورا نظام، جاہلیت کی رسم اور ریت، جاہلی سیاست، جاہلی معیشت، جاہلی اجتماعیت، جاہلی سوچ اور جاہلی رویے .... غرض جاہلیت کی پوری عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے شعور کی دُنیا میں وہ سب جاہلی بنیاد دھڑام سے گر جائے؟ یا پھر اس کیلئے تعلیم وتلقین کی ضرورت تھی اور نفوس کو ایک خاص رخ دینے اور رویہ وسلوک کی ایک خاص انداز میں صورت گری کرنے کی احتیاج تھی؟

بے شک لا الہ الا للہ انسانی نفس کو ایک بڑی تبدیلی کیلئے تیار کر دیتا ہے اور اس کو تبدیلی کی راہ پر بھی ڈال دیتا ہے .... پھر بھی اس لا الہ الا للہ کی بنیاد پر جنم پانے والی نئی قدریں، نئے معیار، نئے پیمانے، نئے حقائق، نئے رشتے اور نئی زندگی، سب کچھ ایک لحظہ کے اندر وجود میں نہیں آجاتا۔ سب کچھ آپ سے نہیں ہوجاتا.... باوجود اس کے کہ وہ ایمان ہی کا لحظہ ہوتا ہے۔ نئی عمارت بہرحال ایک ایک اینٹ کرکے بنتی ہے تاآنکہ وہ ایک خاص حد تک استوار ہو جائے ....

یہ کام بہرحال ’تربیت‘ کا متقاضی ہے۔

اور یہ وہ کام ہے جو مربی اعظم ﷺ نے باحسن انداز انجام دیا۔ ایک تسلسل کے ساتھ لگاتار محنت کرکے، توجہ کے ساتھ، ہوشمندی کے ساتھ، ہمہ وقت نگرانی، پوری پوری نگہداشت، ترغیب، تحریص، جائزہ، احتساب .... یہاں تک کہ آپ اس کام کو اس اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ تب خدا واسطے کی اخوت نفوس کے اندر خونی رشتوں پر برتری لے جانے لگی۔ محبت اور بغض کو ارضی مفادات سے کوئی سروکار نہ رہا۔ جہاں ایک طرف مفادات اور انا کا پلڑا ہوتا اور دوسری جانب خدا واسطے کے رشتے اور خدا واسطے کی وفاداری کا سوال اٹھتا، وہاں ’خدا واسطے‘ کا پلڑا ہی جھک جاتا۔ دوستی ودشمنی ایمانی قدروں کے ساتھ ہی مستقل طور پر وابستہ ہوتی.... یوں نفس کو ان سب معنوں میں اللہ کیلئے خالص کر دیا گیا۔

لا الہ الا للہ کے اس وقت کے تقاضوں میں ___ بلکہ ہر وقت کے تقاضوں میں ___ کچھ اعلیٰ اخلاقی قدریں بھی آتی تھیں۔

لا الہ الا للہ کے تقاضوں میں کچھ تو وہ اخلاقی قدریں تھیں جو عرب ماحول کے اندر پائی تو جاتی تھیں مگر جاہلیت نے ان کو خراب کرکے کچھ اور رخ دے دیا تھا اور جس کے باعث وہ اصل معنی میں مکارم اخلاق نہ رہے تھے .... مثلاً دلیری اور بہادری جو کہ عربوں کے ہاں پائی جاتی تھی مگر جاہلیت نے اس کو جاہلی حمیت میں تبدیل کر دیا تھا جیسا کہ سورۃ فتح (7) میں اس کا ذکر ہوا .... یا جیسے مثلاً جود وسخاوت تھی جو عربوں میں بے پناہ پائی جاتی تھی اور جس کو جاہلیت نے مکارم اخلاق کی بجائے کچھ اور رخ دے دیا تھا، اور اس جود وسخاوت کو مال لٹا کر دھوم پانے کی چاہت میں تبدیل کردیا تھا، جیسا کہ اس کا سورہ البقرہ (8) میں ذکر ہوا ہے اور جس کی کہ تصحیح کرنے کی ضرورت تھی کہ کرم وسخاوت اپنی اصل فطری روش پہ آجائے اور خالصتاً ایک اخلاقی قدر بن جائے اور تاکہ کرم اور سخاوت بھی خدا واسطے کا ہو جائے۔

جبکہ لا الہ الا للہ کے تقاضوں میں کچھ اخلاقی قدریں وہ تھیں جو عرب جاہلیت میں کہیں نہیں پائی جاتی تھیں اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ وہ دُنیا کی کسی جاہلیت میں پائی جائیں۔ مثلاً انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے پر ظلم سے روکنا اور انسانی زندگی کو جنگل کے قانون کی بجائے عدل اور قسط پر قائم کرنا اور انسان کا، اس کے رنگ یا اس کی قومیت یا اس کی زبان یا اس کے وطن یا اس کی سماجی حیثیت یا اس کی سیاسی اور معاشی اوقات سے قطع نظر، محض بطور انسان ہی احترام کرنا (9).... جو کہ ممکن ہی نہیں جب تک کہ نفس اللہ کیلئے تجرد حاصل نہ کر لے۔

یہاں ہمارے پیش نظر یہ نہیں کہ ہم لا الہ الا للہ کے سب تقاضوں کا کوئی علی سبیل الحصر ذکر کریں۔ حتی کہ لا الہ الا للہ کے ان تقاضوں کا احاطہ بھی یہاں ہمارے ہاں پیش نظر نہیں جو مکی دور میں سامنے لائے گئے۔ یہاں ہمارے اس بات کرنے کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ یہ کلمہ، جب سے یہ خدا کے ہاں سے نازل ہوا ہے، کبھی بھی محض تصدیق کرنے اور زبان سے اقرار کرنے کا نام نہ تھا جیسا کہ ارجائی فکر لوگوں کو باور کراتا ہے .... اور یہ کہ محض تصدیق کرنا اور زبان سے اقرار کرنا، حتی کہ اُس وقت بھی جب زبان سے لا الہ الا للہ بول دینا دل گردے کا کام تھا اور اس کا اعلان کر دینا دُنیا بھر کے خطرات کو دعوت عام دینا تھا اور اس پر صرف وہی شخص تیار ہوتا تھا جو واقعتا اس پر ایمان لا چکا ہو، لا الہ الا للہ کا یہ اقرار اور تصدیق آپ سے آپ اُس وقت بھی انسان سے وہ کارنامے نہ کرواتی تھی جو کہ اس لا الہ الا للہ کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں تربیت پا کر آدمی سے رونما ہونے لگتے تھے۔

وہ سب کچھ جو مسلمانوں کی اس مٹھی بھر جماعت نے مکی دور میں کر دکھایا تب ہی ممکن ہوا جب وہ اس لا الہ الا للہ پر اس کے تقاضوں سمیت ایمان لائے اور پھر ان تقاضوں پہ تربیت پانے پر سرگرم ہوئے اور پھر دُنیائے واقع میں اس کو عمل کی حقیقت میں بدل دینے پر تیار ہوئے ....

اس گفتگو سے ہمارے پیش نظر یہ ثابت کرنا بھی نہیں کہ لا الہ الا للہ کے تقاضوں پر اس مسلم جماعت کی تربیت کر دینا ہی وہ منفرد ترین کام تھا جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کے مکی دور میں انجام دیا۔ لا الہ الا للہ کے تقاضوں پر ایک مسلم جماعت کی تربیت اور تیاری تو ہر اس داعی اور مربی سے مطلوب ہے جو کسی بھی بقعۂ ارض میں یا تاریخ کے کسی بھی دور میں اسلام کی دعوت کو کھڑا کرنے کے کام کو ہاتھ ڈالتا ہے۔ یہ تو ہر قیادت سے ہمیشہ ہی مطلوب ہے۔ دراصل وہ منفرد ترین کام جو رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میں بالفعل انجام دیا، یہ تربیت کی وہ حیرت انگیز حد تک بلند سطح تھی جس تک رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو پہنچا دیا تھا۔ لا الہ الا للہ کے تقاضوں پر ایک انسانی جماعت کی اس درجہ کی تربیت رسول اللہ ﷺ ہی کا کام تھا.... تربیت کی وہ سطح جس میں واقعیت اور مثالیت ایک ہو گئی تھی۔ جس میں مندوبات اور مستحبات نفوس کے اندر فرائض اور واجبات کا درجہ اختیار کر گئے تھے۔ نیکیاں جو محض مستحب تھیں اور خدا ورسول ان کو اس کا پابند تک نہ کرتے تھے یہ آپ سے آپ اس کے پابند ہو جاتے تھے .... یہ یوم آخرت پر ایمان کی وہ بلند سطح تھی جس پر وہ پہنچ گئے تھے یوں کہ گویا ان کا ہر لمحہ اِس جہان میں نہیں بلکہ اُس جہان میں گزرتا تھا۔ عالم آخرت کے آنے میں ان کے ہاں ’صدیاں‘ باقی نہ رہی تھیں۔ یہ ہے وہ اصل امتیاز جو اسلام کی اس نسلِ اول نے اس مربی اعظم ﷺ کے ہاتھوں تربیت پا کر قائم کر لیا تھا۔ یہ محض لا الہ الا للہ کے تقاضوں کی پابندی نہ تھی، جو کہ ہر دور کے داعیوں سے ہی مطلوب ہوا کرتی ہے بلکہ یہ اس لا الہ الا للہ کے تقاضوں کی پابندی میں ایک منفرد ترین سطح تک پہنچنا تھا۔

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

لا الہ الا للہ کے یہ تقاضے پھر رفتہ رفتہ وسعت اختیار کرنے لگے۔ ان میں اب نفسِ انسانی اور حیاتِ انسانی کے نئے نئے جوانب شامل کر دیئے جانے لگے۔ جن کو ایک ایک کرکے وہ علیم وخبیر وحی کے پیغامات کی صورت میں اتار رہا تھا۔ اس کے علم اور حکمت کا جب اور جیسا تقاضا ہوتا ویسی ہی وحی اترتی اور اہل ایمان لا الہ الا للہ کے ایک کے بعد ایک تقاضے کے پابند ہوتے چلے گئے۔ جونہی کسی نئے تقاضے کا اضافہ ہوتا پہلے تقاضے ایک صاحب ایمان کو صاحب ایمان رہنے کیلئے کافی نہ رہتے۔

امام ابوعبید القاسم بن سلام (157ھ ۔ 224ھ) اپنی کتاب الایمان(10) کے صفحہ 54 ومابعد فرماتے ہیں:

”ہم نے جب اس مسئلہ کو بعثتِ نبوی اور تنزیلِ خداوندی کی جانب لوٹایا تو یہی پایا کہ خدا نے ایمان کی اساس اس بات کو بنایا کہ آدمی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت وبندگی کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ پس نبی ﷺ مکہ کے اندر ایک عشرہ سے زائد قیام کے دوران اسی شہادت کو ادا کر دینے کی دعوت دیتے رہے۔ تب ابھی ”ایمان“ جو بندوں پر فرض تھا اس ”شہادت“ کو ادا کر دینے کے سوا کچھ نہ تھا۔ پس جس نے اس پر لبیک کہا وہ مومن ٹھہرا۔ اس کے علاوہ ابھی دین کے اندر وہ کسی بات کا پابند نہ تھا۔ نہ ابھی اس پر زکوٰۃ فرض تھی نہ روزے اور نہ دوسرے شرعی احکام۔ لوگوں پر اُس وقت جو یہ تخفیف تھی، جیسا کہ علماءبتلاتے ہیں، خدا کی جانب سے بندوں پر نرمی اور مہربانی تھی۔ کیونکہ وہ ابھی ابھی جاہلیت کو اور جاہلی گم گشتہ راہی کو چھوڑ کر اسلام میں آئے تھے۔ اگر وہ فوراً ان کو سب کے سب فرائض کا پابند کر دیتا تو ان کے دل اس سے فرار اختیار کرنے لگتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا زبان سے اقرار کیا جانے کو ہی وہ ”ایمان“ جانا جو کہ ان سے تاحال مطلوب تھا۔ مکہ کی زندگی زندگی وہ اسی حال پر رہے۔ مدینہ کے اندر بھی ڈیڑھ سال کے لگ بھگ عرصہ یہی معاملہ رہا۔ پھر جب اسلام کے اندر وہ خوب انابت اختیار کر گئے اور اس میں انکی رغبت بڑھی تب اللہ تعالیٰ نے ان پر کچھ مزید ”ایمان“ فرض کر دیا اور وہ یہ کہ ان کو بیت المقدس کی بجائے اب کعبہ کی طرف کرکے نماز پڑھنا تھا .... پس اگر وہ کعبہ کی جانب تحویلِ قبلہ کر دیا جانے کے بعد ایک دن بھی کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھنے سے انکاری ہوتے اور ”ایمان‘ ‘کی اُسی پچھلی حالت کو اپنے لئے کافی جانتے جس کی بنا پر اس سے پہلے وہ مومن کہلانے کا حق رکھتے رہے تھے .... اور اُسی قبلہ پر مصر رہتے جس کی جانب ان کی پڑھی ہوئی نماز اس سے پہلے قبول ہو جاتی رہی تھی تو اب وہ ان کو ہرگز ہرگز کفایت نہ کرتا بلکہ ایسا کرنے سے ان کا وہ پہلا اقرار ہی کالعدم ٹھہرتا۔ وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے وہ جو اطاعت کرتے رہے تھے وہ اِس اطاعت سے کوئی بڑھ کر’ ’ایمان“ کہلانے کی حقدار نہ تھی جوکہ ان کو اب کرنا تھی۔ اب جب انہوں نے فریضۂ نماز کو بھی ویسے ہی قبول کیا جیسے کہ اس سے پہلے اقرارِ شہادت کے فریضہ کو قبول کرکے مسلمان ٹھہرے تھے تو اب یہ دونوں ہی باتیں ان کیلئے وہ ”ایمان“ کہلاتا تھا جو کہ اب تک ان پر فرض ہوا تھا۔ یعنی ”فریضۂ اقرار“ کے ساتھ اب ”فریضۂ نماز“ کو بھی شامل کردیا گیا تھا .... اب وہ کچھ عرصہ اس حالت پر رہے۔ پھر جب نماز میں ان کو جس طرف کو کہا گیا وہ ادھر ہی کو اور بلاتاخیر رخ کر لینے پہ آمادہ ہوئے اور دلوں میں اس پر شرح صدر پایا تب اللہ نے ان کے ”ایمان“ میں زکوٰۃ کا فرض شامل کر دیا۔ اب ایمان کے پہلے سے موجود فرائض کے ساتھ زکوٰۃ آشامل ہوئی۔ جیسا کہ ارشاد ہوا: وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ (البقرۃ: 83، 110) اور فرمایا: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا (التوبۃ: 103) اب اگر وہ زکوٰۃ کو بس زبان سے قبول کرتے اور عملاً صرف نماز پڑھتے مگر زکوٰۃ نہ دیتے تو یہ بات ان کے پچھلے کئے پر بھی پانی پھیر دیتی اور یہ ان کے اقرارِ شہادت اور اقامتِ صلوٰۃ ہر دو کو کالعدم کر دیتی جیسا کہ اس سے پہلے ان کا نماز پڑھنے سے انکاری ہونا ، ان کے اقرارِ شہادت کے منافی ہوتا۔ اس کی ایک زبردست دلیل ابوبکر صدیق ؓ کا مہاجرین اور انصار کی معیت میں زکوٰۃ نہ دینے کے مسئلے پر عربوں کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ ابوبکرؓ کا ان سے یہ جہاد کرنا ویسا ہی تھا جیسا رسول اللہ ﷺ کا اہل شرک کے خلاف جہاد کرنا۔ ان دونوں میں کوئی بھی فرق نہ تھا۔ چاہے وہ مانعینِ زکوٰۃ کی قتل وخونریزی ہو۔ چاہے ان کی ذریت کو غلام بنانے کا مسئلہ ہو اور چاہے ان کے مال کو مال غنیمت بنانے کا۔ جبکہ وہ محض مانعین زکوٰۃ تھے نہ کہ منکرین زکوٰۃ۔ پھر ایسا ہی معاملہ اسلام کے باقی احکام و شرائع کا ہوا! .... جب بھی شریعت کا ایک نیا حکم اترتا تو وہ شریعت کے اس سے پہلے کے نازل شدہ احکام کے ساتھ شامل کر دیا جاتا۔ جو پہلے احکام کی حیثیت ہوتی اب وہ اس نئے حکم کی حیثیت ہوتی، ان سب احکام پر عمل پیرا ہونے کو مجموعی طور پر’ ’ایمان“ کا نام دیا جاتا اور ایسا کرنے والوں کو مومن۔ یہ ہے وہ مقام جہاں وہ لوگ مغالطے کا شکار ہوئے جو ایمان کو محض زبان کا قول قرار دیتے ہیں“۔

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

اگر ہم اس ٹھوس بنیادوں کی حامل ایمانی جمعیت پر نگاہ ڈالیں جسے رسول اللہ ﷺ نے تیار کیا تھا اور اس کی اٹھان پر ذرا غور کرلیں تو اس کے بعد پھر اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آخر وہ ہدف کیا تھا جس کی خاطر رسول اعظم ﷺ نے اپنے مکہ کے تیرہ سال اور مدینہ کے دس سال اس قدر عظیم الشان محنت کی اور کس مقصد کیلئے ایسے زبردست اور منفرد ترین انسانی نمونے تیار کئے؟ کیا محض اس لئے کہ آپ اہل ایمان کی ایک جماعت بنا جائیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو نماز قائم کرتی ہو زکوٰۃ دیتی اور خدا کی عبادت گزار ہو!؟

یہ ہدف حاصل کرنے کیلئے اس محنت کا ایک حصہ ہی کافی تھا جو آپ نے مبذول فرمائی تھی۔ بلاشبہ یہ ایک برگزیدہ ہدف ہے اور اس پر محنت کئے جانے کا حق بنتا ہے مگر رسول اعظم ﷺ اس عمل سے اس سے بھی ایک بڑے اور برگزیدہ ہدف کو حاصل کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ پیچھے اس امر کی جانب ہم اشارہ کر آئے ہیں ....

اس جمعیت کا مشن دراصل صرف اتنا نہیں تھا کہ جیسے اس سے پہلے کی مومن جماعتیں اپنی حد تک خدا کی عبادت کر لیتی رہیں ویسے ہی یہ بھی ___ اپنی حد تک ___ خدا کی عبادت گزار بن کر رہے۔ اس کا مشن دراصل یہ تھا کہ یہ توحید کو پوری دُنیا میں پھیلا دے اور انسانیت کو ایک بڑی سطح پر بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی بندگی میں لے آئے، جیسا کہ ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے فارس کے سپہ سالار اور وقت کے ایک طاغوت رستم کے روبرو کھڑے ہو کر کہا تھا .... اب ایک ایسی جماعت بہرحال ایک خاص تیاری چاہتی ہے۔ اس کی تیاری کیلئے صرف اتنی محنت کافی نہیں جو ایک ایسی جمعیت کی تیاری کیلئے درکار ہو جسے اپنی حد تک اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لا کر رہنا ہو اور اپنی حد تک ہی خدا کا عبادت گزار بننا ہو۔

صنعت و تجارت کی دُنیا میں لوگ جانتے ہیں کہ مقامی کھپت کیلئے تیار کیا گیا مال اس مال سے بہت مختلف ہوتا ہے جسے برآمد Exportکیلئے تیار کیا جاتا ہے۔ مقامی کھپت کیلئے تیار کیا گیا مال نسبتاً آسانی سے تیار ہوتا ہے اور اس میں کوئی سا بھی معیار چل جاتا ہے مگر برآمد کیا جانے والا مال عمدگی کی ایک خاص سطح کو پہنچا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس میں کوالٹی کا وہ معیار درکار ہوتا ہے کہ یہ باہر کی مارکیٹ میں اپنے آپ کو منوائے اور ہر دوسرے مال کو پیچھے چھوڑ جائے ....

اگر دنیوی صنعت وتجارت کا یہ حال ہے تو اس تجارت میں اس اصول کا نگاہ میں رہنا بالا ولی ضروری ہے جو ایک برگزیدہ تجارت ہے اور جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ۔تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔(الصف:10۔11)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو

پوری انسانیت کی ہدایت کیلئے جس جمعیت کا وجود میں آنا درکار تھا اس کیلئے لازم تھا کہ وہ منفرد ترین جمعیت ہو۔ وہ اپنی ترکیب میں ہر دوسری جمعیت پر برتری لے گئی ہو۔ وہ محض اپنے رویہ وکردار اور اپنی شخصیت سے اس دین کیلئے چلتے پھرتے انداز میں یہ شہادت دے کہ یہی دین حق ہے اور یہی واجب اتباع ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی دین اور کوئی طرز زندگی، اس کی ٹکر کا نہیں۔ بلکہ اس کے پاسنگ بھی نہیں اور نہ دُنیا میں اس کا کوئی متبادل ہے ....

یہاں ایک ایسا انسانی نمونہ درکار تھا جو پوری کی پوری جاہلیت کا سامنا کر سکے۔ نہ صرف اس کی برابری کر سکے بلکہ اس پر برتری پا لے اور اس کی بنیادوں کو ہلا ڈالے اور اس کی جگہ پر ایک نئی عمارت اٹھا سکے، ایک ایسی عمارت جو صحیح بنیادوں پر اٹھائی گئی ہو اور جس میں ایمان کی ایک نئی حقیقت بسنے لگے .... عین یہی وہ چیز تھی جو رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں انجام پا گئی تھی ....

رسول اللہ ﷺ کی تیار کی ہوئی اس منفرد جمعیت کی ٹکر محض عرب جاہلیت کے ساتھ نہ تھی، بے شک واقعاتی ترتیب کے لحاظ سے یہی وہ پہلی جاہلیت تھی جو اس جمعیت کے راستے میں سب سے پہلے اس کے مدمقابل آئی .... دراصل پوری زمین ہی اس وقت جاہلیت کے اندھیروں میں روپوش تھی چاہے وہ بت پرست جاہلیت ہو، جیسے مثلا آتش کے پجاری، یا جنات کے پوجنے والے یا بتوں کو ماننے والے یا ستاروں کی پرستش کرنے والے یا اور طرح کے طاغوتوں کی بندگی کرنے والے، اور یا پھر وہ تحریف شدہ آسمانی ادیان کے پیروکار ہوں ....

ان ساروں کے مدمقابل ہی یہ نیا دین کھڑا تھا۔ اس ساری جاہلیت کے مدمقابل رسول اللہ ﷺکھڑے تھے اور آپ کے زیرِ سایہ آپ کی وہ جماعت جو آپ سے تربیت پا رہی تھی ....

تو کیا محض ایک مسلم جماعت جو اپنی ذات کی حد تک درست طور پر خدا کی عبادت گزار ہو، کافی تھی کہ وہ اس پوری جاہلیت کے ساتھ ٹکر لے سکے؟ کجا یہ کہ اس کو تبدیل بھی کر دے؟ کجا یہ کہ اس کو ہٹا کر اس کی جگہ صحیح دین بھی قائم کر دے؟!

ہرگز نہیں! ضروری تھا ایک ایسی جماعت کھڑی ہوتی جو ایک غیر معمولی ساخت کی حامل ہوتی اور دُنیا کے اندر ایک نئے انداز کے معاشرے کو جنم دیتی۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی جماعت تھی: ایک مضبوط جمعیت جس کے اوپر تاریخ کی ایک بہت بڑی بنیاد اٹھائی گئی اور جس نے کہ اپنے وجود سے زمین کی کایا پلٹ دی۔
کتبِ سیرت ہمارے لئے اس مضبوط ایمانی جمعیت کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتی ہیں اور اس بلند معیار کی بھی نشاندہی کرتی ہیں جس پر وہ لوگ پہنچ گئے تھے .... یہاں اگرچہ ہمارا موضوع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی سوانح بیان کرنا نہیں جبکہ کتب سیرت بآسانی دستیاب ہیں۔ یہاں ہمارا موضوع صحابہ میں سے کچھ خاص متعین شخصیات پر گفتگو کرنا بھی نہیں باوجود اس کے کہ ان شخصیات کو اور ان کے کردار کو جب بھی موضوع بحث لایا جاتا ہے تو نفوس کو ایک نشاط ملتا ہے اور ان شخصیات کی عظمت کی دلوں پر دھاک بیٹھتی ہے۔ یہاں ہمارے پیش نظر صرف ان صفات کا علم لینا ہے جو اس منفرد انسانی جمعیت کی بنیادوں میں پڑی تھیں .... جس سے اصل مقصد یہ ہے کہ اس پر غور وفکر کیا جائے اور اپنے لئے فکر وعمل کی ایک تصویر بنائی جائے۔

اس کے باوجود کچھ نمونے تو ایسے ہیں جو مجھے مجبور کئے جاتے ہیں کہ ان کی جانب کچھ اشارہ کر ہی دیا جائے۔ یہ سب تصویریں، جن کے یہ چند نمونے ہیں، ان سے متاثر ہوئے بغیر آدمی رہ ہی نہیں سکتا۔ یہ تصویریں صحابہ میں سے بڑی بڑی شخصیات کی بھی نہیں بلکہ بعض نمونے تو ان میں سے ایسے ہیں جو ایسے اشخاص سے تعلق رکھتے ہیں جن کا تاریخ نے چند سطروں سے زیادہ ذکر نہیں کیا۔ بعض کے نام تک ذکر نہیں کئے۔ مگر یہ تابناک تصویریں ہیں، ان پہ کچھ دیر رک جانے میں حرج نہیں۔

٭ یہ ایک عورت ہے۔ اس پر غشی کا دورہ پڑتا ہے۔ جس کے دوران یہ برہنہ ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر شکایت کرتی ہے اور دُعا کی درخواست کہ غشی سے شفا پائے۔ رسول اللہ ﷺ اس سے فرماتے ہیں: ”تم چاہو تو میں تمہارے لئے دُعا کر دیتا ہوں، اور چاہو تو صبر کرو اور جنت پاؤ“ یہ عرض کرتی ہے: ”یا رسول اللہ ﷺ میں صبر ہی کروں گی بس دُعا کر دیجئے کہ میں برہنہ نہ ہوں“ آپ اس کیلئے دُعا کرتے ہیں جس کے بعد وہ برہنہ نہیں ہوتی“۔

٭ یہ ایک گھرانہ ہے۔ فاقے سے بُرا حال ہے۔ آخر شوہر ایک دن بیوی سے کہتا ہے: رسول اللہﷺ کے پاس سے ضرورت مند خالی نہیں آتے۔ کیا ہم بھی رسول اللہ ﷺ کو اپنا ماجرا نہ سنائیں۔ آپ کے پاس کچھ ہوگا تو ہم کو بھی مرحمت فرمائیں گے۔ عورت بولتی ہے: ”تم چاہتے ہو کہ خدا کا شکوہ رسول کے ہاں جا کر کرو“ تب بیوی بھی صبر کئے رہتی ہے اور شوہر بھی۔

٭ حضرت عمرؓ رعایا کا احوال جاننے کیلئے رات کے وقت گشت کیلئے نکلتے ہیں۔ کہیں سے بچوں کے رونے کی آواز سنتے ہیں۔ آواز کے پیچھے چلتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں ایک عورت ہے جو چولہے پہ ہنڈیا دھرے بیٹھی ہے۔ پاس بچے بیٹھے روئے جا رہے ہیں۔ عمرؓ پوچھتے ہیں: ”یہ بچے کیوں روتے ہیں؟“ عورت جواب دیتی ہے: ”بھوکے ہیں“۔ عمرؓ سوال کرتے ہیں: ”یہ ہنڈیا میں کیا دھرا ہے؟“ عورت کہتی ہے: ”پتھر ڈال رکھے ہیں انہی کو ہلاتی جاتی ہوں کہ یہ بہل جائیں آخر تو سو ہی جائیں گے۔ گھر میں پکانے کو کچھ نہیں ہے۔ عمرؓ کو ہمارا خیال ہی نہیں“۔ عورت نہیں جانتی کہ وہ عمرؓ ہی سے بات کر رہی ہے۔ عمرؓ کہتے ہیں: ”بھلا عمر کو تمہارے ماجرے کی کیا خبر؟“ عورت جواب دیتی ہے: ”تو پھر اس نے مسلمانوں کی امارت سنبھالی ہی کیوں؟“ عمرؓ رو پڑتے ہیں۔ بیت المال میں جاتے ہیں۔ ساتھ میں خادم ہے۔ روغن اور آٹا اٹھاتے ہیں اور عورت کے گھر کی جانب رخ کرتے ہیں۔ خادم اصرار کئے جاتا ہے ”امیر المؤمنین یہ مجھے اٹھانے دیجئے“ عمرؓ نہیں مانتے۔ جواب دیتے ہیں ”تو کیا قیامت کو میرا بوجھ تم اُٹھاؤ گے؟“ عورت کے ہاں پہنچ کر کھانا پکانے لگتے ہیں۔ آٹا ہنڈیا میں ڈالتے ہیں اور روغن سے بھونتے ہیں“۔ بار بار آگ میں پھونکنے کیلئے جھکتے ہیں دھواں ہے کہ آپؓ کی گھنی داڑھی کے آرپار ہو رہا ہے .... وقت کا خلیفہ آدھی دُنیا کا حکمران جب تک تسلی نہیں کر لیتا کہ بچے سیر ہو کر سو گئے واپس نہیں لوٹتا!

٭ ایک مجاہد جنت اور شہادت کی طلب میں معرکۂ قتال کیلئے نکلتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں چند کھجوریں ہیں۔ اس کو ہاتھ میں پکڑی کھجوریں ختم کرنا دوبھر ہو رہا ہے۔ ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیتا ہے اور گویا ہوتا ہے۔ ان کے ختم ہونے تک میں زندہ رہا تو یہ تو بڑی لمبی زندگی ہے! یہ کہنے کے ساتھ ہی معرکہ میں جا شامل ہوتا ہے اور شہادت جس کیلئے دیوانہ ہو رہا تھا، آخر پا لیتا ہے!

٭ ایک مجاہد معرکۂ قتال کی تیاری کیلئے زرہ بکتر پہنتا ہے۔ اس کا ساتھی اسے متنبہ کرتا ہے: ”تمہاری زرہ بکتر میں گردن کے پاس ایک کڑی ٹوٹی ہے اور وہاں سوراخ ہو گیا ہے“ تب یہ اپنے ساتھی سے مسکراتے ہوئے کہتا ہے: ”ارے واہ! اس اتنی سی جگہ سے پار ہو کر اگر مجھے کوئی تیر لگنا ہے پھر تو میرا خدا کے ہاں بڑا مول ہے“ یہ معرکے میں اترتا ہے۔ عین اسی سوراخ سے تیر گزرتا ہے اور یہ خدا کی راہ میں شہادت پا لیتا ہے ....

ایسی مثالیں صحابہؓ کی زندگی میں ختم ہونے میں نہیں آتیں۔

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

شاید ان صفات کا تعین کرنے کیلئے جن کو بنیاد بنا کر اسلام کی اس پہلی جمعیت کی تیاری عمل میں لائی گئی، بہتر طریقہ یہ ہو کہ ہم ان اوصاف کو جمع کریں جو اللہ نے یا اس کے رسول نے اس منفرد ترین جماعت کے وصف میں بیان فرمائے، یا پھر اللہ اور اس کے رسول کے ان احکامات کاایک جائزہ لیں جو اس جماعت کو دیے گئے اور انہوں نے اس کا پابند ہو کر دکھانے میں اطاعت کا بہترین نمونہ پیش کیا، یا پھر ان ہدایات کو ذہن میں لائیں جو ان اصحاب کو دی گئیں اور وہ ان پر پورے شوق اور لگن سے پورا اترنے پر کاربند ہوئے۔ یہ سب مل کر ہمارے لئے وہ اوصاف ٹھہرتے ہیں جن کو ہم اس منفرد ترین انسانی جمعیت کی تیاری کی بنیاد قرار دیں۔

 

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ۔وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ۔إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ۔فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاء ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ۔وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ۔وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ۔أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ۔الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ (المؤمنون:1-11)

فلاح پا گئے ایمان لانے والے، جو

اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں

جو لغویات سے منہ موڑ رکھتے ہیں

جو زکوٰۃ کے فاعل ہیں

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں

کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملکِ یمین میں ہوں۔ (ہاں ان کی بابت) یہ قابل ملامت نہیں ہیں البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں

جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد وپیمان کا پاس رکھتے ہیں

جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں

یہی وارث ہیں

جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَابِ۔الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَلاَ يِنقُضُونَ الْمِيثَاقَ ۔وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ۔وَالَّذِينَ صَبَرُواْ ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُوْلَئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ۔جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَالمَلاَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ۔سَلاَمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ۔ (الرعد: 19- 24)

بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہو، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟ نصیحت تو دانشمند ہی قبول کیا کرتے ہیں وہ جو اللہ کے ساتھ کیا ہوا اپنا عہد پورا کرتے ہیں اور پہچان کر لینے کے بعد اس کو توڑتے نہیں“ وہ جو ان سب روابط کو، جن کو برقرار رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے، برقرار رکھتے ہیں۔ اپنے رب سے ڈر کر رہتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ محض اپنے رب کا چہرہ پا لینے کی غرض سے صبر کئے رہتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے اعلانیہ اور پوشیدہ خرچ کئے جاتے ہیں، اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں۔ آخرت کا گھر انہی لوگوں کیلئے ہے خلد کے باغات ان ہی کی قیامگاہ ہوں گے۔ یہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اوران کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ فرشتے ہیں کہ ہر ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے کہیں گے! سلامتی ہو تم پر، اس صبر کے بدلے جو تم کرتے رہے، کیا ہی اچھا (بدلہ) ہے اس دار آخرت کا

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ۔أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ۔ (الأنفال:2-4)

بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں

وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں

ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس۔ مغفرت ہے اور بہترین رزق ہے

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (التوبۃ: 71)

مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے مددگار ومعاون ہیں، بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے ہیں۔ نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ بہت جلد رحمت فرمائے گا۔ بے شک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے

لَـكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ جَاهَدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التوبۃ: 88)

لیکن خود رسول اللہ نے اور ان کے ساتھ کے ایمان لانے والوں نے اپنے مال اور جان لگا کر جہاد کیا۔ یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ (الصف: 4)

اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ بہت ہی پسند ہیں جو اس کی راہ صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ۔الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ۔أُوْلَـئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ۔ (آل عمران: 133- 136)

اور دوڑ پڑو خدا کی مغفرت کی جانب اور اس جنت کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی چوڑائی رکھتی ہے اور خدا سے ڈر کر رہنے والوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ وہ پرہیز گار کہ خوشحالی ہو یا بدحالی (خدا کی راہ میں) بدستور خرچ کرتے ہیں۔ جو غصے کو پی جاتے ہیں۔ دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے۔ اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے تب وہ اس سے اپنے قصوروں کی معافی مانگنے لگ جاتے ہیں ___ اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہ معاف کر سکتا ہو ___ اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ خوب ہے بدلہ (ایسے) محنت کرنے والوں کا

التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدونَ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ  (التوبۃ: 112)

اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے۔ بندگی میں لگے ہوئے لوگ۔ اس کی تعریف کے گن گانے والے (راہ حق میں) سفر (بھاگ دوڑ) کرنے والے۔ رکوع کرنے والے۔ سجدوں میں پڑے رہنے والے۔ بھلائیوں کا حکم دینے والے۔ بدی سے روکنے والے۔ اللہ کی حدوں کے رکھوالے۔ اے نبی ایسے مومنوں کو خوشخبری دے دو

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا  (الأحزاب: 35)

مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، مطیع وفرماں بردار مرد اور مطیع و فرماں بردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں .... اللہ نے ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر کر رکھا ہے

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا(الفتح: 29)

محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحمدل ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع وسجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کافر ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے

وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ   (الحشر: 9)

اور یہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ اپنی جگہ محتاج کیوں نہ ہوں۔ بات یہ ہے کہ جو بھی اپنے دل کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب وبامراد ہے

وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ۔وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ۔وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ۔وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ۔ وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُوْلَئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ  (الشوریٰ: 37- 41)

جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے دامن بچا کر رکھتے ہیں اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں

جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے، اور ہم نے جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تواس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ۔  پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے، اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

اور جو لوگ اپنے پر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جا سکتی

وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ  (آل عمران: 139)

اور دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی برتر ہو اگر تم مومن ہو

قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ   (یوسف: 108)

کہہ دیجئے: میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں

هُوَ الَّذِيَ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ۔وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔ (الانفال: 62- 63)

وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دورے کے ساتھ جوڑ دیے ہیں۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ   (النساء: 135)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ (تمہارے انصاف اور تمہاری راست گوئی کی) زد تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدۃ: 8)

اے ایمان والو! اللہ کی خاطر راستے پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے

الم۔ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ۔والَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۔أُوْلَـئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ (البقرۃ: 1-5)

الف، لام، میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کیلئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تم پر نازل کیا گیا اور اس پر جو تم سے پہلے نازل کیا گیا۔ اور یہ آخرت کا یقین کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں

المؤمن للمؤمن کا لبنیان یشد بعضہ بعضا (أخرجہ الشیخان)

مومن کا معاملہ مومن کے ساتھ مل کر یوں ہوتا ہے جیسے عمارت، جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے

مثل المؤمنین فی توادھم وتراحمھم کمثل الجسد اِذا اشتکیٰ منہ عضو تداعیٰ لہ سائر الجسد بالسھر والحمی (متفق علیہ)

باہمی مودت اور ایک دوسرے کیلئے دل پسیج جانے کے معاملے میں مومنوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک جسد۔ اس کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو تو سارا جسم ہی تپ اور بے آرامی سہتا ہے

ان للہ قد أذھب عنکم عبیۃ الجاھلیۃ وفخرھا بالأنساب، کلکم لأدم وآدم من تراب (رواہ ابو داؤد والترمذی)

یقینا اللہ نے جاہلی انداز حمیت اور باپ دادا کے نسب پر فخر کرنے کو تم سے دور کر دیا۔ تم سب آدم کا نسب ہو اور آدم کا نسب مٹی۔

لیس الشدید بالصرعۃ، ولکن من یملک نفسہ عندالغضب (أخرجہ الشیخان)

طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے، طاقتور وہ ہے جو طیش کی حالت میں خود پر قابو پالیتا ہو

وتبسمک فی وجہ اخیک صدقۃ  (رواہ الترمذی)

اپنے بھائی کے روبر تمہارا مسکرا دینا بھی صدقہ ہے

ان قامت الساعۃ وبید أحدکم فسیلۃ فلیغرسھا (رواہ احمد)

قیامت آجائے، جبکہ تم سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کی قلم ہو تب بھی اس کو زمین میں ضرور ہی لگا دے

مثل القائم فی حدود للہ، والواقع فیھا، کمثل قوم استھمواعلی سفینۃ وکان بعضہم اعلاھا وبعضہم اسفلھا فکان الذین فی اسفلھا اِذا استقوامرواعلی من فوقھم، فقالوا: لو أنا خرقنا فی نصیبنا خرقا ولم نؤذ من فوقنا! فلو ترکوھم وما أرادواھلکواجمیعاً ولوأخذواعلی ایدیھم نجواونجواجمیعاً (اخرجہ البخاری)ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی حدوں کی رکھوالی کرنے والے ہیں اور ان کی مثال جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کر جاتے ہیں کچھ یوں ہے کہ جیسے کچھ لوگ بحری جہاز پہ سوار ہوں اور قرعے ڈال کر جہاز میں اپنی اپنی جگہوں کا تعین کرلیں۔کچھ لوگوں کے حصہ میں جہاز کی بالائی منزل آئے اور کچھ کے حصہ میں زیریں حصہ۔ زیریں منزل کے لوگوں کو جب بھی پانی کی ضرورت ہو تو ان کو اوپر والوں کے بیچ سے گزر کر جانا پڑے۔ آخر یہ کہتے ہیں: کیوں نہ ہم اپنے حصہ کے جہاز میں ایک سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کیلئے باعث مزاحمت نہ ہوں! اب اگر وہ ان کو جو کرتے ہیں کرنے دیں تو سب مرتے ہیں۔ البتہ اگر وہ ان کو ہاتھ سے روک دیتے ہیں تو وہ بھی بچتے ہیں اور سارے ہی بچتے ہیں

ان للہ کتب الاحسان علی کل شیئ، فاذا اقتلتم فأحسنوا القتلۃ، واذا ذبحتم فأحسنوا الذبحۃ، ولیحد أحدکم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ (رواہ مسلم ولنسائی والترمذی وابوداود وابن ماجۃ)

خدا نے ہر چیز میں احسان فرض ٹھہرا دیا ہے۔ پس جب تم کو قتل بھی کرنا ہو تو قتل کرنے میں نیکی اور رحمدلی سے کام لو۔ جب تم کو (کوئی جانور) ذبح کرنا ہو تو ذبح کرنے میں احسان کا انداز اپناؤ۔ آدمی نے چھری تیز کر رکھی ہو اور ذبح ہونے والی مخلوق کو (مقدور بھر) آرام پہنچائے

الا انی أتقاکم للٰہ وأخشاکم لہ، ولکنی أصوم وأفطر، وأقوم وأنام، وأتزوج النساءفمن رغب عن سنتی فلیس منی(رواہ الشیخان)

 

خبردار میں تم میں سب سے زیادہ خدا کا پرہیز گار ہوں اور سب سے زیادہ خدا کی خشیت کرتا ہوں۔ مگر میں روزہ رکھ بھی لیتا ہوں اور روزہ چھوڑ بھی لیتا ہوں۔ میں رات کو قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں عورتوں سے رشتہ ازدواج میں منسلک بھی ہوں۔ پس جو میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ میں سے نہیں

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

ایسی ہی منفرد صفات کی بنا پر، اور ان صفات کے اعلیٰ ترین درجوں پر پہنچا کر رسول اللہ ﷺ نے اہل ایمان کی وہ بنیادی جمعیت تیار کی تھی۔ تب یہ جمعیت روئے زمین کے واقع میں کیا تبدیلی لے کر آئی؟

ابتدائی طور پر یہ وہ نیوکلیس تھا جس کے گرد جزیرۂ عرب کے اندر ہرطرف مسلمان اکٹھے ہونے لگے۔ موجودہ دور کی زبان استعمال کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ ’کور‘ Core تھی جس کے گرد پھر وقفے وقفے سے ’عوام‘ آملتے رہے اور جن کے بل پر پھر یہ دعوت انسانی وجود کے ہر افق پر پھیل گئی.... گو اس کی ابتدائی تجربہ گاہ اور کامیاب ترین تجربہ گاہ جزیرۃ العرب بنا ....

حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ دعوت جس کو زمینی حقائق کے اندر ایک بنیادی تبدیلی لے کر آنا ہوتی ہے اس کیلئے عوام میں پذیرائی پانا اور عوامی رَو بننا ناگزیر ہوتا ہے۔ مگر ایسی ’عوامی پذیرائی‘ اور ’عوامی رو‘ کو جس چیز کے گرد اکٹھا ہونا ہوتا ہے وہ ایک ایسی قیادت ہے جو اس کو تربیت دینے پر قدرت رکھتی ہو اور پھر اس قیادت کے گرد ایک ایسا نیوکلیس ہے جو اس قیادت اور اس کے افکار کا ایک زبردست عملی انعکاس بن گیا ہو یہاں تک کہ ’عوام‘ کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگا ہو۔ یہاں تک کہ لوگ آپ سے آپ ’قیادت‘ کے گرد بنے ہوئے اس ’نیوکلیس‘ کے گرد جمع ہونے لگیں اور اسی کے رنگ میں رنگے جانے لگیں۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ یہ عوامی اکٹھ تربیت میں اس سطح کو بہرحال نہیں پہنچا ہوگا جس سطح پر ’قیادت‘ نے اس ’بنیادی جمعیت‘ کو ایک خاص محنت، تربیت اورنگہداشت کے نتیجے میں پہنچا لیا ہوگا۔

خود رسول اللہ ﷺ کا تیار کردہ معاشرہ سارے کا سارا اس معیار کو نہیں پہنچا تھا جس تک آپ کی تیار کردہ وہ ایک خاص کھیپ پہنچی ہوئی تھی جس کو کہ آپ نے معاشرے کی قیادت کیلئے تیار کیا تھا۔ چنانچہ اس معاشرے میں جہاں علم اور ایمان کی بے مثال تصویریں پائی جاتی تھیں وہیں وہ لوگ بھی تھے جن کو قرآن نے ’مثاقلین‘ (بوجھل ہو رہنے والے) قرار دیا۔ انہی میں ’مبطئین‘ (جہاد کیلئے نکلنے میں پس و پیش کرنے والے) بھی پائے جاتے تھے۔ ان میں ضعیف الایمان بھی تھے۔ ان ہی میں وہ لوگ بھی تھے جو ہر نئے واقعے سے متاثر ہو جاتے تھے اور ہر نئی فتح یا شکست ان کے رخ پر اثر انداز ہوتی تھی اور جو کہ افواہوں تک سے متاثر ہو جایا کرتے تھے۔ معاشرے کے یہ سب طبقے ابھی منافقین کے علاوہ تھے، چاہے یہ وہ منافقین ہوں جن کا نفاق کھلا تھا اور چاہے وہ منافقین جو اپنے نفاق کو چھپا کر رکھتے تھے۔

 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ  (التوبۃ:38)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کیلئے کہا گیا تو تم زمین کی جانب بوجھل ہو گئے

وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًا۔وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ الله لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُن بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا۔(النساء:72-73)

اور یقینا تم میں بعض ایسے بھی ہیں جو (جہاد کیلئے نکلنے میں)پس وپیش کرتے ہیں، پھر اگر تمہیں کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا اور اگر تمہیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے تو اس طرح گویا تم میں ان میں دوستی تھی ہی نہیں، کہتے ہیں کاش! میں بھی ان کے ہمراہ ہوتا تو بڑی کامیابی کو پہنچتا

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّواْ أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَى وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِيلاً(النساء: 77)

تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو! اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر۔ کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دُنیا کا سرمایہءزندگی تھوڑا ہے اور آخرت ایک خدا ترس انسان کیلئے زیادہ بہتر ہے اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائیگا

وَإِذَا جَاءهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلاَّ قَلِيلاً(النساء: 83)

جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی تو یہ اسے لے کر پھیلانے لگے حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجاتی جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں۔ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے

 

رہے منافقین تو ان کا تو ذکر ہی کیا....

اب اگر یہ سب لوگ رسول اللہ ﷺ کے تعمیر کردہ معاشرے میں پائے جاتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس ان کے درمیان موجود ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلئے ایک کے بعد ایک وحی اترتی ہے جس سے لوگوں کو اپنے احساسات اور رویے تک درست کر لینے میں مدد ملتی ہے تو اس سے واضح ہوا کہ ’عوامی اکٹھ‘ کی بابت یہ ضروری نہیں کہ وہ بھی سارے کا سارا ’معیاری‘ ہو۔ نہ یہ ممکن ہی ہے کہ یہ ’عوامی اکٹھ‘ بھی عین اس چنیدہ جمعیت کے پائے کا ہو جس کو قیادت نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ تیار کیا ہو .... مگر تاریخی حقائق اس بات پر گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس چنیدہ قسم کی جمعیت کو تعلیم اور تربیت دے لی تھی اور خاص اپنی نگرانی میں اور اپنے زیرسرپرستی ان کی تیاری پروان چڑھائی تھی .... وہ جمعیت بلاشبہ اپنے ایمان میں وہ رسوخ اور صدقِ عزیمت میں وہ مقام رکھتی تھی کہ وہ بھاری بھر کم معاشروں کا بوجھ بڑی آسانی سے اٹھا لے اور ان کو لے کر اپنے مقاصد کی جانب رواں دواں ہو لے اور یہ کہ ان معاشروں کے اندر جتنے بھی ”مثاقلون“ (بوجھل ہو رہنے والے) اور ”مبطؤن“ (پست ہمتی دکھانے والے) اور ضعیف الایمان لوگ پائے جائیں یا جتنے بھی ایسے عناصر پائے جائیں جو ہر نئی خبر پہ چونک جانے والے اور ہر نئے واقعے سے متاثر ہونے والے ہوں، حتی کہ معاشرے کے منافق طبقے بھی کیوں نہ پائے جاتے ہوں اور سیدھے سیدھے دشمن بھی کیوںنہ موجود ہوں، یہ سب کو غیر موثر کرکے رکھ دے اور معاشرے کا رخ اپنے ہی اہداف کی جانب رکھے۔

یہ ہے وہ سبق جو ہمیں سیرت کے اس واقعہ سے لینا ہے۔ یعنی ایک مضبوط، راسخ الایمان اور ایک اعلیٰ معیار کی سمجھ بوجھ کی مالک جمعیت کی تیاری۔ کیونکہ ایک ایسی جمعیت پائے جانے کے بغیر عوام کو اگر دعوت کے گرد اکٹھا کر بھی لیا جائے تو معاشروں کو چلایا نہیں جا سکتا۔ ’معاشرے‘ ایک بھاری بھر کم چیز ہیں۔ کشش ثقل ان پر اثر انداز ہو کر رہتی ہے۔ ان کو تھام کر بلندی کی ایک خاص سطح پر برقرار رکھنا ایک خاص عمل چاہتا ہے۔ بھاری بھر کم معاشرے چلیں اور ٹھیک چلتے جائیں اور پیر پیر پر ان کا رخ درست ہوتا رہے اور ہر انحراف کا بروقت اور ساتھ ساتھ تدارک و سدباب ہوتا رہے .... یہ ہرگز معمولی کام نہیں اس کیلئے ایک خاص معیار کی انسانی جمعیت پہلے وجود میں لے آئی جانا ضروری ہے۔

پس ایک گہرے فہم اور ایک اعلیٰ ترین کردار کی مالک انسانی جمعیت کی تیاری ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ ’تعیش‘ کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ ’زائد از ضرورت‘ نہیں۔ یہ وہ چیز نہیں جس کے بغیر بھی ’گزارا‘ ہو جائے۔ معاشروں کو چلانے میں اس کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
غیر متخصص ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز