عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, December 6,2019 | 1441, رَبيع الثاني 8
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Dawaat_Ka_Minhaj آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اسلام کی جو پہلی اٹھان ہوئی اس میں ”تحریکی اُسوہ“ کہاں ہے؟-حصہ دوم
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف
اسلام کی جو پہلی اٹھان ہوئی اس میں
”تحریکی اُسوہ“ کہاں ہے؟-حصہ دوم

 

ہاتھ اُٹھانے کی اجازت اُس وقت ملی جب یہ کام تکمیل پا چکے تھے:

1) لا الہ الا اﷲ کے تنازعہ کا واضح کیا جانا....

2) اقتدار کا جواز رکھنے کا مسئلہ آشکار ہو جانا ....

3) دعوت کے حامل جتھے کی مضبوط معاشرتی بنیادوں پر تیاری ہوئی ہونا....

4) انصار کے آنے کے ساتھ اس جتھے کی توسیع ہونا....

5) اس جتھے کی نہایت اخلاص اور تجرد کی بنیاد پر تربیت ہونا....

اب ذرا دیکھ لیجئے اس وقت اِن امور میں سے کون کون سے کام اور کس حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچ پائے ہیں:

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

1) کیا لا الہ الا اﷲکے مسئلے کی پوری وضاحت ہو چکی؟ عوام کی سطح پر تو خیر بڑی بات ہے کیا خود اسلام کے داعیوں پر بھی یہ لا الہ الا اﷲ کی حقیقت واضح ہے؟

کیا اِسلام کے داعیوں پر آج یہ واضح ہے کہ اللہ کی شریعت کے ماسوا قانون چلانا شرک کی وہ قسم ہے جو آدمی کو دائرۂ ایمان سے خارج کر دیتی ہے؟ اور یہ کہ اس قانون کو ماننا بھی اسی طرح دائرۂ ایمان سے خارج کر دینے والا شرک ہے؟ اور یا پھر معاملہ ایسا ہے کہ اسلام کے داعیوں کے مابین ابھی یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے؟ کچھ اِس کے قائل ہیں اور کچھ اِسے محل نظر جانتے ہیں!!

لوگوں پر فتویٰ لگانے کی بات الگ رکھ دیجئے۔ اس مسئلے پر یہاں گفتگو کی گنجائش ہے اور نہ ضرورت۔ ہم ہمیشہ ہی اس بات کی اہمیت واضح کرتے رہے ہیں کہ لا الہ الا اﷲکی حقیقت بیان کرنے کا کام چھوڑ کر لوگوں پر فتویٰ لگانے میں پڑ جانا اس وقت ہمارے کرنے کا کام نہیں۔

دراصل یہ دونوں الگ الگ مسئلے ہیں۔ یا یوں کہیے یہ دونوں مسئلے الگ الگ رہنے چاہئیں۔ لا الہ الا اﷲکی حقیقت کا بیان اور لوگوں پر فتوی لگانے کا کام۔ ایک مسئلہ خالصتاً تعلیمی اور دعوتی ہے۔ حقائق کے کھلے کھلے بیان سے متعلق ہے....کیونکہ یہ حقائق اسلام کے دوسری بار غربت واجنبیت کا شکار ہو جانے کے باعث لوگوں پر واضح نہیں رہے اور ہم داعیوں کے پاس یہ خدا کی امانت ہے جسے بلاکم وکاست اور کچھ چھپائے بغیر لوگوں تک پہنچا دینا ہم پر فرض ہے اور ان حقائق کے واضح نہ ہونے ہی کے باعث لوگ اِن سے اجنبیت اور بے یقینی کا اظہار کرتے ہیں....جبکہ دوسرا مسئلہ ایک بات کو لوگوں پر لاگو کرنے سے متعلق ہے۔ لوگوں پر حکم لگانے سے پہلے اولاً تو یہ ضروری ہے کہ ان پر حجت قائم کر دی جائے۔ ان پر پوری شرح وبسط کے ساتھ مسئلے کو بیان کر دیا جائے۔ ان کے ذہن میں اس پر کوئی الجھاؤ باقی نہ رہنے دیا جائے، اور ہر ایسے شبہے کا ازالہ کر دیا جائے جس کا پردہ ہو جانے سے حق کا کوئی پہلو چھپا رہ گیا ہو اور جس کے سبب لوگوں سے اِسلام کی حقیقت اوجھل رہنے لگی ہو۔

ہم یہ سوال پھر دہراتے ہیں: کیا اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کوئی اور قانون چلانے کا مسئلہ ___ عوام کی بات جانے دیجئے ___ خود داعیوں پر بھی کیا واضح ہے یا ابھی وہ اس اشکال سے باہر نہیں آسکے کہ عبداللہ بن عباس ؓکے قول: کُفْرٌدُونَ کُفْرٍ (کہ یہ کفر تو ہے مگر وہ کفر نہیں جس سے آدمی دائرہ اِسلام سے خارج ہو جاتا ہے) عبداللہ بن عباسؓ کے اس قول کی رو سے ہمارے ان نظاموں کا حکم بدستور کفر وشرک ہی ہے یا کہیں نرمی کی گنجائش ہے!؟ جس چیز کے بارے میں عبداللہ ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ یہ کُفْرٌدُونَ کُفْرٍہے (یعنی کفر تو ہے مگر وہ کفر نہیں جس سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے) وہ قانون سازی کا عمل نہیں۔ وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کوئی اور قانون چلانا نہیں۔ عبداللہ ابن عباسؓ کی مراد بالکل کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ کوئی قاضی یا حاکم صرف کسی ایک خاص مقدمے میں شریعت کے خلاف فیصلہ صادر کر دیتا ہے، چاہے وہ جہالت سے ایسا کرے، یا کسی تاویل کی وجہ سے، یا کسی مفاد کی ترغیب میں آکر، یا رشوت لے کر یا ہوائے نفس کی بنا پر، تو ایسا شخص کفر کا ارتکاب تو کرتا ہے مگر اس کفر کا ارتکاب نہیں جو اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دے۔ ایسا شخص تو عبداللہ بن عباس ؓکی مراد ہی نہیں جو اپنے اس خلافِ شریعت فیصلے کو ملک کے طول وعرض میں ایک حکم ِعام اور ایک واجب الاتباع قانون کا درجہ بھی دے دے۔

ایک ایسا قاضی یا جج جس کے پاس ایک رنگے ہاتھوں شراب پیتے شخص کو پکڑ کر لایا گیا ہو، اس کا جرم ثابت ہوتا ہو، منہ سے شراب کی بدبو آرہی ہو مگر پھر بھی وہ اُس پر حد نہیں لگاتا کیونکہ وہ اس کے اہل خانہ سے رشوت کھائے بیٹھا ہے، اور اس وجہ سے وہ اس کیس میں کوئی باریکیاں اور نکتے نکال کر بیٹھ جاتا ہے اور یوں کوئی نہ کوئی حجت کرکے مجرم پر شریعت کا حکم لاگو کرنے سے راہ فرار اختیار کر جاتا ہے تو وہ ایک فاسق قاضی تو ہو گا مگر وہ اس فسق کی بنا پر کافر نہیں ہو گا.... ہاں البتہ جس دن وہ یہ کہنے لگے کہ شراب پینا کوئی جرم ہی نہیں یا یہ کہ جرم تو ہے مگر اس پر یہ کوڑوں کی حد نہیں لگے گی بلکہ اسے کوئی اور سزا دی جائیگی تو تب وہ شخص کافر ہی کہلائے گا اور اس کا کفر بھی وہ ہوگا جو اسے ملت سے خارج کر دے۔ کیونکہ اس نے اس فیصلے کی رو سے ایک حکمِ عام اور ایک قانون صادر کیا ہے جو کہ شریعت سے براہ راست متصادم ہے۔ ایسے شخص کے کافر ہونے پر سب کے سب فقہا کا اتفاق ہے۔

جب تاتاریوں نے یاسق (توشۂ چنگیزی) کو قانون کے طور پر چلایا اور یاسق جس کے بارے میں امام ابن کثیر کہتے ہیں:

یاسق (توشہ چنگیزی) کچھ احکام اور قوانین کا مجموعہ ہے۔ اس کے کچھ احکام وقوانین قرآن سے ماخوذ ہیں، کچھ انجیل سے، کچھ تورات سے اور کچھ ایسے ہیں جو چنگیز خان نے خود وضع کئے۔

سورہ مائدہ کی اس آیت:

کیا یہ جاہلیت کا قانون چاہتے ہیں۔ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے اور قانون دینے والا کوئی نہیں ہے

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ۔ (المائدۃ: 50)

 

سورہ مائدہ کی اس آیت کے تحت امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

آیت میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا انکار فرماتا ہے جو اللہ کے حکم وقانون سے خروج کرے جبکہ اللہ کا حکم وقانون خیر ہی خیر ہے اور ہر برائی کا خاتمہ کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر نکیر فرماتا ہے جو اللہ کے حکم وقانون کو چھوڑ کر ان دوسری آراءواصطلاحات کو اپناتا ہے جو انسانوں نے آپس میں اپنے لئے مقرر ٹھہرا لی ہیں اورجن پر اللہ کی شریعت سے کوئی سند نہیں، جیسا کہ اہل جاہلیت بھی اپنی گمراہیوں اور جہالتوں کو بنیاد بنا کر اپنا قانون چلاتے تھے اور جن کا مصدر ان کی اپنی ہی اہواءو آراءہوتی تھیں، اور جیسا کہ یہ تاتاری اپنے شاہی قوانین وفرامین چلاتے ہیں اور جن کا ماخذ ان کے بادشاہ چنگیز خان کا وضع کیا ہوا یاسق (توشہءچنگیزی) ہے اور جو کہ مختلف قانونی احکام کا مجموعہ ہے جو مختلف شریعتوں سے لئے گئے ہیں جن میں یہودیت، نصرانیت اور اسلام اور دوسری شریعتیں سب آتی ہیں.... اور اس کے بہت سے قوانین خود اس کے اپنے ہی فکر و ہویٰ سے لئے گئے ہیں... اور یوں یہ یاسق (توشہءچنگیزی) اس کی اولاد میں ایک قانون اور دستور کا درجہ پا چکا ہے اور اِسے وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو لاگو کرنے پر مقدم رکھتے ہیں.... سو جو شخص ایسا کرتا ہے وہ کافر ہے۔ اس سے قتال واجب ہے تاآنکہ وہ اللہ اور رسول کے قانون کی جانب پھر نہ آئے اور تاآنکہ وہ ہر چھوٹے اور بڑے معاملے میں اللہ اور رسول کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے لگے۔ ( ملاحظہ فرمائیے تفسیر ابن کثیر جلد 2، ص 68)

اب ظاہر ہے کہ امام ابن کثیرؒ کو حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے اس قول کا بہت اچھی طرح علم تھا جس کا ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں۔ مگر امام ابن کثیر کو حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے اس قول کی بنا پر دیکھ لیجئے کوئی بھی اشکال نہ ہوا کیونکہ امام ابن کثیر اپنے علم وفقہ کی بدولت ان دو باتوں کا علمی فرق جانتے ہیں: ایک یہ کہ کسی ایک خاص مقدمے میں ما انزل اﷲ کے برخلاف فیصلہ کر دینا اور دوسرا یہ کہ ما انزل اﷲ کے برخلاف ایک باقاعدہ قانون چلانا۔

اس مسئلے پر شیخ مفتی محمد بن ابراہیم بن عبدالطیف آل الشیخ (7)جن کی غزارتِ علم اور بیانِ حق کی ایک دنیا شہادت دیتی ہے، نے بہت زبردست گفتگو کی ہے۔ چنانچہ مفتی محمد بن ابراہیمؒ تفسیر ابن کثیر کی مذکورہ بالا عبارت درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

دیکھ لیجئے اللہ تعالیٰ نے خلافِ شریعت حکم چلانے والوں پر کیا کیا فرد جرم عائد کی ہے: کفر، ظلم اور فسق۔ ناممکن ہے کہ شریعت کے ماسوا قانون چلانے والے کو اللہ کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو۔ لازماً وہ کافر ہے چاہے وہ کفر عملی کی بنا پر کافر ہو، چاہے کفر اعتقادی کی بنا پر۔ اور جو عبداللہ ابن عباسؓ کا قول اس آیت کی تفسیر میں بروایت طاؤس وغیرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حاکم بغیر ما انزل اﷲکفر کا مرتکب تو ہوتا ہے چاہے یہ وہ اعتقادی کفر ہو جو ملت سے خارج کر دیتا ہے اور چاہے وہ عملی کفر ہو جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جہاں تک پہلی قسم یعنی کفر اعتقادی کا تعلق ہے تو اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں:

کفر اعتقادی کی پہلی صورت:

یہ کہ حاکم بغیر ما انزل اﷲاس بات کا انکار کرے کہ اللہ اور رسول کا حکم ہی برحق ہے۔ عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کا بھی یہی مفہوم ہے، اسی مفہوم کو امام ابن جریرؒ نے اختیار کیا ہے، اور وہ یہ کہ کوئی شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے ایک حکم کا سرے سے انکار ہی کر دے، اس مسئلے پر اہل علم میں کوئی بھی نزاع نہیں۔ چنانچہ اہل علم کے ہاں متفق علیہ اصول ہے کہ جو شخص اصول دین میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے، یا حتی کہ فروع دین میں سے بھی کسی اجماعی مسئلہ کا انکار کر دیتا ہے، یا رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے کسی ایک حرف کا بھی انکار کر دیتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے اور اس کا کفر وہ ہے جس سے وہ ملت سے خارج ہو جائے۔

کفر اعتقادی کی دوسری صورت:

یہ کہ وہ شخص جو اللہ کی شریعت کے ماسوا قانون چلاتا ہے اس بات کا انکار تو نہ کرے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم وقانون ہی برحق ہے، مگر یہ اعتقاد رکھے کہ رسول کے ماسوا کسی کا حکم وقانون رسول کے حکم وقانون سے بہتر یامکمل تر یا لوگوں کے معاملات ومسائل اور وقت کی ضروریات پوری کرنے کے لحاظ سے مناسب اور جامع تر ہے۔ خواہ وہ (شریعت کے ماسوا قانون کو شریعت سے بہتر) مطلق طور پر سمجھے یا جدید حالات اور دور حاضر کے نئے مسائل کے حوالے سے، ایسے شخص کے بارے میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں کہ وہ کافر ہے کیونکہ یہ مخلوق کے بنائے ہوئے احکام کو جو محض ذہن وفکر کی پراگندگی ہے خدائے دانا وقابل صد ستائش پر ترجیح دیتا ہے۔ زمانہ کتنا بھی تبدیل ہوجائے اور حالات واقعات میں کتنا بھی ارتقاءآجائے، اللہ اور رسول کا حکم فی ذاتہ تبدیل نہیں ہوتا، جبکہ انسانی زندگی کا کسی دور میں کوئی چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ بھی ایسا نہیں جس کا بہترین حل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں موجود نہ ہو، خواہ نصِ ظاہری کی صورت میں ہو یا استنباط کی صورت میں یا کسی اور شکل میں، یہ الگ بات کہ کوئی اس کا علم پالیتا ہے اور کوئی نہیں پاتا....

کفر اعتقادی کی تیسری صورت:

کہ وہ یہ تو اعتقاد نہ رکھے کہ کوئی اور قانون اللہ اور رسول کی شریعت سے بہتر ہے، البتہ یہ اعتقاد رکھے کہ وہ اور شریعت یکساں ہیں۔ کفر اعتقادی کی پچھلی دونوں صورتوں کی طرح یہ شخص بھی کافر ہے اور ملت سے خارج۔ کیونکہ یہ اپنے اس اعتقاد کی رو سے مخلوق اور خالق کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے اور اللہ کے اس فرمان سے تعارض اور عناد کا مرتکب ہوتا ہے کہ لیس کمثلہ شیءکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں بلکہ وہ ان اور آیات سے بھی عناد برتتا ہے جن سے اللہ رب العزت کا کمالِ حکمت میں یکتا ہونا اور مخلوق کی مماثلت سے مبرا ہونا ثابت ہے خواہ یہ اللہ کا اپنی ذات میں یکتا ہونا ہو یا صفات میں یا افعال میں ہو یا مخلوق کے معاملات ومسائل کے فیصلے کرنے میں۔

کفر اعتقادی کی چوتھی صورت:

کہ وہ یہ اعتقاد تو نہ رکھے کہ کوئی دوسرا قانون اللہ اور رسول کی شریعت سے بہتر ہے حتی کہ یہ اعتقاد بھی نہ رکھے کہ یہ دونوں یکساں ہیں البتہ یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ اور رسول کی شریعت کے برخلاف قانون چلانے کی گنجائش ہے۔ اس کا بھی وہی حکم ہے جو پچھلی تینوں صورتوں کا ہے۔ کیونکہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کر دینا جائز ہے جبکہ اس کا حرام ہونا دین کی صحیح اور صریح اور قطعی نصوص سے ثابت ہے۔

کفر اعتقادی کی پانچویں صورت:

جو کہ کفر اعتقادی کی باقی سب صورتوں سے زیادہ سنگین اور زیادہ عام ہے اور جو کہ شریعت سے تصادم اور شرعی قوانین کو نظر انداز کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے اور جو کہ اللہ اور رسول سے مقابلہ اور شرعی قوانین کی ہمسری کرنے میں سب سے نمایاں ہے۔ شرعی نظامِ عدل کے بالکل متوازی اس کی اپنی قانون سازی، اپنی تحقیق وآراء، اپنے اصول، اپنے فروع، اپنے قانونی قیاس، اپنے استنباطات، اپنے استدلالات، اپنا نفاذ، اپنے دلائل، اپنے مراجع اور اپنے وثائق اور کتب ہیں۔ چنانچہ جس طرح شرعی عدالتوں کے قانونی مراجع اور علمی حوالے اور وثائق ہوتے ہیں جن کا سب کے سب کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول ہوتا ہے، اسی طرح ان عدالتوں کے بھی اپنے قانونی مراجع اور اپنے علمی حوالے اور وثائق ہیں جن کا، سب کے سب کا، ماخذ قانون ہے جو کہ مختلف شریعتوں اور متعدد قانونی نظاموں کا ایک ملغوبہ ہے مثلاً فرانسیسی قانون، امریکی قانون، برطانوی قانون اور شریعت سے منسوب بعض جدت پسند بدعتیوں کے مذاہب وافکار وغیرہ۔

کفر اعتقادی کی چھٹی صورت:

وہ روایتی رسوم جنہیں قبائلی سردار اور علاقائی جرگوں کے بڑے اپنے فیصلوں کی بنیاد بناتے ہیں جو کہ آباءواجداد سے چلی آئی روایات اور رسومات ہوتی ہیں جنہیں یہ لوگ علاقائی یا قبائلی رواج بھی کہتے ہیں۔

رہی کفر کی دوسری قسم:

جس کا ایک حاکم بغیر ماانزل اﷲ شخص مرتکب ہو سکتا ہے تو یہ وہ قسم ہے جو انسان کو ملت سے خارج نہیں کرتی۔ پیچھے یہ بات گزر چکی کہ آیت وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ”جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں“ کی عبداللہ بن عباسؓ نے جو تفسیر کی ہے اس میں کفر کی یہی قسم آتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہکُفْرٌدُونَ کُفْرٍ یعنی کفر ہے مگر بڑے کفر سے کمتر قسم کا کفر ہے۔ اسی طرح عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول لیس بالکفر الذین تذھبون الیہ ”یہ وہ کفر نہیں جو تم مراد لیتے ہو“.... تو وہ یہی ہے کہ قاضی اپنی کسی خواہشِ نفس کی بنا پر کسی مقدمے میں اللہ کی شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کر دے جبکہ اس کا اعتقاد بدستور یہی رہے کہ حق تو اللہ اور رسول کا حکم ہی ہے اور یہ تسلیم بھی کرے کہ اُس نے غلط کیا ہے اور حق سے پہلو تہی کر بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس فعل کی بنا پر وہ جس کفر کا مرتکب ہوتا ہے گو وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا، پھر بھی اس کا یہ گناہ ایک عظیم ترین معصیت ہے اور زنا، شراب نوشی، چوری اور جھوٹی قسم اٹھانے ایسے کبائر سے زیادہ بڑا گناہ۔ کیونکہ ایک ایسی نافرمانی جسے اللہ اپنی کتاب میں کفر کہہ دے کسی بھی ایسی نافرمانی سے سنگین تر ہے جسے اللہ نے کفر نہیں کہا۔

اللہ سے دُعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس بات پر مجتمع کر دے کہ وہ برضا وتسلیم کتاب اللہ سے اپنے فیصلے کروائیں۔ وہی کارساز مطلق ہے اور وہی اس بات پر قادر۔

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

سو کیا یہ مسئلہ خود داعیوں پر بھی واضح ہے یا معاملہ ایسا ہے کہ جو لوگ اِسلام کی دعوت دینے جا رہے ہیں خود ان میں بھی کچھ ابھی تک اس مسئلے میں اشکالات رکھتے ہیں۔ کبھی کوئی اشکال عبداللہ بن عباسؓ کے قول کی بنا پر ان کے ہاں پیدا ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی اشکال فکرِ ارجاءکے سبب، جو کہ ایمان کو عمل سے الگ کر دینے پر یقین رکھتا ہے اور جس کے ہاں عمل ایمان پر اثر انداز نہیں ہوتا چاہے کوئی عمل لا الہ الا اﷲ کے براہ راست اور صریحاً منافی ہو جس کی ایک مثال اللہ کی شریعت کے ماسوا قانون چلانا ہے!؟

پھر اگر عقیدہ کے ایک ایسے بنیادی مسئلے پر اسلام کے بعض داعیوں تک کے ہاں اشکالات پائے جاتے ہیں تو پھر عوام الناس سے آپ کیا توقع کریں گے؟ کتنی بڑی جدوجہد ہماری منتظر ہے!!! تاآنکہ عقیدے کے اس مسئلے میں عوام الناس کے ذہن سے سب اشکال اور شبہے جاتے رہیں اور تاآنکہ وہ حق کو واضح اور جلی طور پر دیکھنے کے قابل ہوں نہ یہ کہ حق کی بات سن کر وہ تعجب اور حیرت کا اظہار کرنے لگیں۔

یہ ابھی حاکمیت کا ایک مسئلہ ہے جبکہ یہاں صرف یہی ایک مسئلہ نہیں جسے لا الہ الا اﷲ کے بنیادی مفہومات کے ضمن میں عوام الناس پر واضح کرنے اور نکھارنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لا الہ الا اﷲ کے مسئلے کو ذہنوں میں بٹھانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان بہت سی اور گمراہیوں کو بھی ذہنوں سے محو کر دیا جائے، جنہوں نے وطنی، قومی، سماجی اور عدل وانصاف اور مساوات سے متعلق مسائل میں لا الہ الا اﷲکی حقیقت کو دھندلا کر رکھا ہے اور جو کہ دعوتی عمل کے آگے بڑھنے پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسے مسائل کی کمی نہ تھی جنہیں معاشرے میں کھڑا کرکے آپ عوام الناس کا ایک مجمع اکٹھا کر سکتے تھے....

آپ کے دور میں سلطنتِ فارس جزیرہ نمائے عرب کے ایک بڑے حصے پر قابض تھی۔ جزیرۂ عرب کا ایک اور بڑا حصہ رومیوں کے زیر تسلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ عربوں کی قومی حمیت کو جگا سکتے تھے اور اس کے نتیجے میں عوام کے ایک جم غفیر کو اپنے گرد اکٹھا بھی کر سکتے تھے تاآنکہ جب لوگ آپ کے گرد مجتمع ہوجاتے اور آپ کی قیادت پر اعتماد کر لیتے تو آپ ان سے لا الہ الا اﷲ کا اقرار کروا لیتے!

آپ کے دور میں سماجی مسئلہ انتہائی ناگفتہ بہ تھا۔ امیر مالدار انتہائی حد تک مالدار تھے اور غریب نادار بے انتہا غریب۔ کوئی اس بات پر سوچتا تک نہ تھا کہ مالداری کی کوئی حد ہو یا یہ کہ کم از کم غریبوں کو سود کی چکی سے ہی رہائی دلوائی جائے یا امیروں کی حد سے بڑھی ہوئی دولت کا کچھ حصہ غریب ناداروں کو کسی طرح دلوایا جائے تاکہ ان کا معیار زندگی کچھ بلند ہو۔ رسول اللہ ﷺ معاشرے میں بآسانی یہ مسئلہ کھڑا کر سکتے تھے اور اس کے نتیجے میں یہ یقینی تھا کہ غربت کی چکی میں پسے ہوئے محروم طبقے آپ کے اردگرد مجتمع ہوجائیں۔ تب آپ اُن کو ایک مضبوط جتھے کی شکل دے کر قریش کے متکبر سرداروں سے بھڑوا دیتے۔ قریش کے تکبر اور جبروت کو خاک میں ملا دیتے اور اس محاذ آرائی کے جوش میں اپنے ہم رکاب لوگوں سے ___ بڑے آرام کے ساتھ___ لا الہ الا اﷲ کہلوا لیتے!!

اس کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ایسے تھے جنہیں کھڑا کرکے بڑے آرام سے عوام الناس کا ایک بڑا مجمع ساتھ لگایا جا سکتا تھا اور لوگوں میں جوش وجذبے کی ایک روح پھونکی جا سکتی تھی اور ان میں ایک سرگرمی عمل پیدا کر لینے اور ان کی کمان حاصل کر لینے کے بعد اُن کو اسلام کی ڈگر پر لے آیا جا سکتا تھا۔ ایسے سیاسی اور سماجی مسئلے ہمیشہ لوگوں کی توجہ زیادہ لے لیتے ہیں اور لوگوں کو کہیں زیادہ آسانی سے متحرک اور مجتمع کر لیتے ہیں۔ لوگ ایسے انقلابی نعرے بلند کرنے والی ایک بے لوث اور حوصلہ مند قیادت کے پیچھے بڑے آرام سے ہو لیتے ہیں اور ان پر اپنی تمام تر عقیدت نچھاور کرنے اور ایک جذباتی انداز میں اِن کی پیروی کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں۔

مگر رسول اللہ ﷺنے ___وحی کی ہدایات پر چلتے ہوئے__ مکہ کے مرحلۂ تربیت کے دوران کوئی ایسا مسئلہ کھڑا نہ کیا۔ بلکہ ان تمام مسائل کو پس پشت ڈال کر صرف ایک ایسا مسئلہ کھڑا کیا جس کے باعث آپ نے صرف وڈیروں کی نہیں بلکہ عوام کی بھی دشمنی مول لئے رکھی! صرف ’اُسی‘ مسئلے پر بات کی جو عوام اور خواص سب کو آپ کا دشمن بنا دے! پھر اسی مسئلے پر ڈٹ گئے اور آخر وقت تک اور آخری حد تک اسی ایک مسئلے پر مصر رہے تاآنکہ اللہ کی توفیق سے آہستہ آہستہ کچھ دلوں کے کواڑ اس دعوت کیلئے کھلنے لگے اور پھر جو آئے تو وہ مخلوق میں سے ___رسولوں کے بعد___ سب سے برگزیدہ انسان مانے گئے!!!

یہ محض اس لئے نہیں تھا کہ یہ سب کے سب سیاسی اور سماجی مسائل کسی قوم کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ بالکل نہیں۔ اسلام کی اس تحریک نے ان سب مسائل میں سے آخر کون سا مسئلہ حل کئے بغیر چھوڑا؟ مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ سب سے بڑا مسئلہ جو اللہ کے منہج میں بھی اور قوموں کی زندگی میں بھی ام المسائل کہلانے کے لائق ہے وہ لا الہ الا اﷲکا مسئلہ ہے جس پر دنیا سے لے کر آخرت تک ہر جگہ انسانی زندگی کے ایک کامیاب منہج عمل کا تمام تر دار ومدار اور انحصار ہے۔ اور اس لئے بھی کہ ___ اللہ کے منہج میں___ انسانی زندگی کے تمام تر مسائل اس لا الہ الا اﷲ سے ہی برآمد ہونے چاہئیں۔ انسانی زندگی کے تمام تر مسائل اسی لا الہ الا اﷲ سے جڑے رہنے چاہئیں اور یہ کہ انسانی نشاط کے ہر میدان میں صدق نیت، اخلاص اور تجرد لوجہ اللہ کی جو ضرورت ہوا کرتی ہے وہ صرف اور صرف اسی لا الہ الا اﷲ سے پوری ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدائی منہج کو تقاضا ہوا کہ ہر اور مسئلے سے پہلے اسی لا الہ الا اﷲ کی حقیقت کو ذہنوں میں گہرا اتارنے پر ہی اپنے رسول کا تمام تر زور صرف کروا دیا جائے اور یہ کہ اس مرحلے میں، کہ جب دین کے حامل اس بنیادی جتھے کی تیاری عمل میں آرہی تھی، ہر اس شبہے اور اشکال کو دور کر دیا جائے جو اس لا الہ الا اﷲ کی حقیقت پر پردہ کئے ہوئے ہو.... تاکہ اللہ تعالیٰ کی معاشرے میں علی وجہ البصیرت اور خالص ترین عبادت ہونے لگے.... ایسی خالص عبادت جس کا مقصد صرف اللہ وحدہ لاشریک کو خوش کر دینا ہو۔ یوں جب لا الہ الا اﷲ کی یہ حقیقت دلوں میں گھر کر گئی بلکہ یوں کہیے جب دلوں میں اس کے علاوہ کوئی اور حقیقت ہی نہ رہی اور فکر وذہن جب دنیا کے ہر اور مسئلے سے بے فکر وبے نیاز ہو گئے تب کرۂ ارض کے سب مسائل، جو قوموں کی زندگی میں اہم ہوا کرتے ہیں، اس لا الہ الا اﷲ کے ساتھ ایک ایک کرکے جوڑ دیئے گئے کہ اب یہ ڈر باقی نہ رہا تھا کہ ذہنوں میں یہ مسائل کہیں خلط ملط ہو جائیں اور دل کی دنیا میں کوئی چیز اپنی مطلوبہ اہمیت سے بڑھ جائے۔ کیونکہ اس بات کا سب سے زیادہ خدشہ اسی مرحلے میں ہوا کرتا ہے جب اسلام کو لے کر چلنے والی جماعت کی بنا ڈالی جا رہی ہو۔ اگر اسی مرحلے میں مسائل کی ترتیب کسی خلل کا شکار ہو جائے تو پھر دنیوی مفادات رفتہ رفتہ اپنے آپ کو منوائے بغیر رہتے ہیں اور نہ شیطان کو چپکے سے ذہنوں تک راہ پانے میں کوئی دقت پیش آتی ہے۔

 

تو کیا لا الہ الا اﷲ کی حقیقت اور اہمیت آج خود داعیانِ اسلام پر بھی واضح ہے؟ کیا ان کی لوحِ ذہن پر پائے جانے والے مسائل کی ترتیب میں لا الہ الا اﷲ کے مسئلے کو اس کی اصل جگہ اور اصل مقام دے دیا گیا ہے؟ عوام الناس کے قلب وذہن کو متاثر کرنے کا مسئلہ تو خیر ابھی زیر بحث ہی نہ لائیں، کیا اسلام کی دعوت دینے والے طبقے بھی اس منزل کوسر کر چکے ہیں کہ خود ان کے فہمِ دین اور ان کی اپنی دعوت میں اللہ کی خالص بندگی کرنے اور کرانے کی بات سب مسائل میں سرفہرست آچکی ہو؟ کیا خود ان کی دعوت میں قومی، وطنی، سماجی اور عدل ومساوات سے متعلقہ مسائل اس بنیادی مسئلے کے ساتھ کہیں خلط ملط تو نہیں؟ آج تو یہ حال ہے کہ کتنی ہی اسلام کی داعی جماعتوں کی ایک بڑی محنت اسلام کی اشتراکی یا جمہوری اقدار کو نمایاں کرنے اور اسلام میں پارلیمانی روایات کے ثبوت دینے پر ہی ہو رہی ہے!

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

2) کیا جوازِ اقتدار کا مسئلہ واضح کر دیا گیا؟ ہمارا مطلب ہے عوام پر نہیں بلکہ خود داعیوں پر بھی کیا یہ مسئلہ واضح ہے؟

جوا زِ اقتدار کا آخر ہم کیا مفہوم لیتے ہیں؟

اسلام کی اس غربت ثانیہ کے دور میں ___خصوصاً جب سے عالم اسلام کے ایک بڑے حصے میں اسلامی شریعت کو حکمرانی سے بے دخل کر دیا گیا___ ہم اسلام کے دیئے ہوئے معیار تک بھول گئے اور ان کی جگہ مغرب کے دیئے ہوئے معیار قبول کر بیٹھے، خاص طور پر سیاست شرعیہ کے باب میں۔

مغرب نے ہمیں یہ سبق پڑھایا کہ جوازِ اقتدار رکھنے کا معیار بس یہ ہے کہ جو بھی انتخابات کا میدان جیت لے .... سو اِس معیار کی رو سے جو بھی سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرے وہ جائز اقتدار کا حق رکھے گا اور مسند اقتدار پر فائز ہونا ایسے ہی شخص یا پارٹی کا حق منصبی ہوگا۔

اب یہاں ایک تلخ قسم کی تبدیلی کو ذرا ایک لمحے کیلئے نظر انداز کردیجئے جو مغرب کے دیئے ہوئے اس معیار میں خود مغرب کو اس وقت کرنا پڑ گئی جب الجزائر کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے اسلام پسند نکل آئے! مغرب کے حوالے سے مختلف مواقع پر ہم یہ دیکھنے کے اب عادی ہو چکے ہیں کہ جس مسئلے کا فریق مسلمان ہوں وہاں دوہرے پیمانے برت لینے میں حرج نہیں اور یہ اس لئے کہ مغرب اپنے اصولوں اور معیاروں پر گہرا یقین رکھتا ہے، فریق مخالف کے ساتھ شائستگی اور حقوق انسانی کے احترام کی ہمیشہ ہی مغرب کو بڑی فکر رہتی ہے!!

مغرب کے اس طرح کے بعض مواقف کو ذرا ایک لمحے کیلئے جانے دیجئے۔ آئیے ذرا اسلام پسندوں سے دریافت کرتے ہیں کہ اس مسئلے میں اسلام کا معیار بھی کیا یہی ہے؟

فرض کیجئے کوئی شخص یا کوئی پارٹی یا کوئی پولٹ بیورو یا کوئی کونسل یا جو بھی کوئی سیاسی ادارہ ہو، انتخابات میں ایک بڑی جیت حاصل کر لیتا ہے، فرض کر لیجئے رائے دہندگان کے سو فیصد ووٹ لے لیتا ہے مگر قانون اللہ کا نہیں چلاتا .... کیا اللہ کے دین میں وہ اقتدار کا کوئی ذرہ بھر بھی جواز رکھتا ہے!؟

اسلام کے اس غربتِ ثانیہ کے دور میں یہ دو باتیں ہمارے ذہنوں میں کہیں خلط ملط ہو کر رہ گئی ہیں۔ حکمران کے چنؤ کا طریقہ ایک اور چیز ہے اور وہ طریقہ اور نظام جس سے لوگوں پرحکومت کی جائے بالکل ایک اور چیز ہے....

عالم اسلام میں جب کبھی اسلام کا اقتدار تھا، تب سیاست شرعیہ کے بارے میں فقہائے کرام ان شروط اور امور کو زیر بحث لاتے رہے جن کا حاکم میں پایا جانا ضروری ہے، فقہاءاسلام نے اس ضمن میں آزاد بیعت پر بحث کی، شوریٰ پر بات کی، حکومت اور اقتدار سے متعلق دوسرے سب امور پر گفتگو کی حتی کہ فقہ میں نظریۂ ضرورت تک پر سیر حاصل بات ہوئی اور اس بات کی پوری وضاحت ہوئی کہ کبھی حالات ناگہانی ہی ہو جائیں اور اضطرار کی مجبوری لاحق ہو جائے تو وہ کون کون سی شروط ہیں جن کے مطالبے میں شریعت کی رو سے نرمی کی جا سکتی ہے.... یہاں تک کہ نظریۂ ضرورت کے ضمن میں فقہاءنے یہ تک کہا کہ کوئی اقتدار پر بزور قبضہ کرلے تو بھی اس کی سمع اور اطاعت واجب ہے.... مگر جو چیز کبھی فقہاءکے سان گمان تک میں نہ آسکتی تھی وہ یہ کہ کوئی حکمران اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کی جگہ اپنا قانون چلائے اور وہ پھر بھی مسلمانوں کا جائز حکمران کہلائے!! 

چنانچہ حکومت اور اقتدار رکھنے کیلئے وہ بنیادی ترین شرط جو اسلام لگاتا ہے اور جو کبھی اور کسی بھی صورت میں ساقط نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ حکم وقانون صرف اور صرف اللہ کی اتاری ہوئی شریعت پر قائم ہو۔ ابھی ہم پیچھے پڑھ بھی آئے ہیں کہ ایک ایسا حاکم جو ما انزل اﷲ کے مطابق حکومت نہیں چلاتا بلکہ شریعت کے برخلاف قانون اور نظام چلاتا ہے، اس پر امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کیا فتوی صادر کیا ہے۔

تو کیا یہ مسئلہ، عوام الناس کی بات جانے دیجئے، خود داعیانِ اسلام پر بھی واضح کیا جا چکا ہے.... یا پھر ہماری ساری بحث وگفتگو فی الحال انتخابات کے گرد ہی گھومتی ہے کہ آیا انتخابات آزادانہ ومنصفانہ تھے یا دھاندلی ہوئی ہے؟ اور یہ کہ انتخابات میں ہمیں کتنی سیٹیں حاصل ہوئی ہیں؟ اور یہ کہ پارلیمان میں ہمیں مزید کتنی نشستیں درکار ہیں؟!!

یہ خیال کہ پارلیمنٹ میں اگر ہمیں اکثریت حاصل ہو جائے تو شریعت قائم کرنے کیلئے ہمارا راستہ صاف ہو جائے گا۔ آخری درجے کی حد تک سادگی کہلانے کے لائق ہے۔ الجزائر میں جو ہوا وہ یہ بات ثابت کرنے کیلئے بہت کافی ہے۔

مگر اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ اقتدار تک پہنچنے کیلئے ہمارا ___اصولاً___ اس راستے کو منتخب کرنا اور پھر اس راستے سے اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا، خود اسلام ہی کی ایک بڑی خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ اس کی رو سے، یہ طے کرنے کیلئے کہ کس قسم کی حکومت ہو، مرجع اور اتھارٹی لوگ ہونگے (حکمران کے چنؤ کے طریق کار پر اس وقت بات نہیں ہو رہی) سو لوگ اگر اسلام کا انتخاب کرتے ہیں تو اسلام حکومت کرے گا اور لوگ اگر کچھ اور کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ ’اور‘ حکومت کرے گا! کیا واقعتا اسلام یہی کہتا ہے!؟

اگر ایسا ہے تو اللہ کے اس فرمان کو پھر ہم کہاں رکھیں گے؟

کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ  (الأحزاب: 36)

لوگوں سے کسی چیز کی پابندی اور اطاعت کروانے کا جواز اس بات سے وجود نہیں پاتا کہ آیا انسانوں کو وہ بات منظور ہے یا نامنظور، جبکہ وہ انسان خیر سے مسلمان بھی کہلاتے ہوں.... جب تک وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تب تک وہ خودبخود اور آپ سے آپ اس بات کے پابند ہیں کہ اپنی ہر چھوٹی اور بڑی بات کا فیصلہ اللہ کی شریعت سے کروائیں، بصورتِ دیگر ان کا دعوائے ایمان کالعدم ہوجائے گا۔ اگر وہ اللہ کی شریعت سے روگردانی کرکے کسی اور شریعت اور قانون کا رخ کرتے ہیں تو پھر ان کے ایمان کے دعوے کی کوئی حقیقت ہی باقی نہیں رہے گی اگرچہ وہ بدستور نمازیں پڑھیں، روزے رکھیں اور مسلمانی کا اپنے تئیں بھرپور زعم رکھیں:

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے

وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُوْلَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ۔ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم مُّعْرِضُونَ۔ (النور: 47-48)

نہیں، اے محمد! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں

فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا۔ (النساء: 65)

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ دنیائے واقع میں اسلام کی فرمانروائی کبھی ہو ہی نہیں سکتی جب تک اس پر پختہ ایمان رکھنے والی ایک ایسی قوم پیدا نہیں کر لی جاتی جو اللہ کی شریعت کی فرمانروائی پر آخری حد تک بضد ہو اور اس کے ماسوا ہر شریعت اور قانون کے چلنے کا سوال تک پیدا نہ ہونے دے۔ اور اس بات پر غیر متزلزل یقین رکھے کہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی اور شریعت کو قبول کرلینا ایسا واضح ترین کفر ہے جو انسان کو ملت اِسلام سے خارج کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔

پھر یہ بھی ایک اتنی ہی کھلی حقیقت ہے کہ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس وقت معاشرے میں بہت تھوڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جنہیں جاہلیت بڑے آرام سے دبا لیتی اور اپنی راہ سے ہٹا لیتی ہے۔

جب یہ ایک حقیقت ہے تو پھر اس کا تقاضا ہے کہ ہم اس مسئلے کو واضح کرنے کیلئے اپنا پورا زور صرف کر دیں اور لوگوں پر اسلام کی یہ حقیقت روشن کر دینے کیلئے اپنا فرض پورا کریں کہ کسی انسان کے دعوائے ایمان کی ہرگز کوئی حقیقت نہیں اگر وہ اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور قانون کو قبول کرلے۔ لہٰذا ہمارا اولین فرض یہی بنتا ہے کہ لوگوں کی اس حقیقت اسلام کے تقاضوں کے تحت تربیت کرتے رہیں اور اس وقت تک کرتے رہیں جب تک اس حقیقت اسلام پر تربیت پانے والے ایمانی جتھے کو معاشرے میں اتنی قوت اور پذیرائی حاصل نہیں ہوجاتی کہ وہ معاشرے کی قیادت اور انضمام امور اپنے ہاتھ میں کرلے۔ آج کے اس دور میں دعوت کی یہ مہم واقعتا اسی قدر بڑی ہے اور اس مہم کا اتنا بڑا حجم ہر داعی پر واضح ہو جانا چاہئے خواہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کتنا ہی وقت لگے۔ دعوت کی مہم یہ بہرحال نہیں کہ لوگوں سے بیلٹ بکسوں کے ذریعے استصواب رائے لیا جائے کہ وہ مسلمان بن کر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

تو کیا یہ مسئلہ، عوام الناس کی بات جانے دیجئے، داعیان اسلام کے قلب وذہن میں بھی واضح ہو چکا ہے؟ یا پھر وہ اس حقیقت سے پھسل کر لاشعوری طور پر جمہوری معیار اپنا چکے ہیں جن کی رو سے حکومت اور اقتدار کی نوعیت کا فیصلہ کرنے کیلئے حرف آخر ___کم از کم ظاہری طور پر (8) ___ عوام ہوتے ہیں نہ کہ عوام کو پیدا کرنے والا خدا جو اختیارات کا بلاشرکت غیرے مالک ومختار ہے۔

خبردار رہو! اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے

أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ  (ال أعراف: 54)

جاہلیت اور اسلام کی راہیں بس یہیں سے الگ ہوتی ہیں!

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

3) کیا معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بننے والے ایمانی جتھے کی تیاری عمل میں آچکی ہے؟

سب سے پہلے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر لا الہ الا اﷲکی حقیقت بھی ابھی پوری طرح واضح نہیں کی جا سکی، جیسا کہ پیچھے ہم بیان کرآئے ہیں اور اگر جوازِ اقتدار کا مسئلہ خود داعیانِ اسلام پر بھی ابھی واضح نہیں ہو سکا، تو یہ فرض کیسے کر لیا جائے کہ معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بننے والے ایمانی جتھے کی تیاری ___اپنی مطلوبہ صفات کے ساتھ___ عمل میں لائی جا چکی ہے!؟

معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بننے والے جس ایمانی جتھے کی یہاں ضرورت ہے اور جو کہ بنیادی طور پر کسی ملک میں اسلام کے ان داعیوں سے تشکیل پاتا ہے جو معاشرے میں ایک وسیع پیمانے پر دعوت اور قیادت کا فرض انجام دینے کیلئے تیار کئے گئے ہوں.... معاشرے پر اثر انداز ہونے والا ایک ایسا ایمانی گروہ ان دو بنیادی عناصر سے وجود پاتا ہے:

حقیقتِ اسلام کا عمیق فہم اور گہری بصیرت، اور دین کے حقائق اور فرائض کے تقاضوں پر ایک شعوری اور عملی تربیت۔

پیچھے ہم اس بات کا جائزہ لے آئے ہیں کہ جہاں تک حقیقتِ اسلام کے ایک عمیق فہم اور گہری بصیرت کا تعلق ہے تو اس میں ہمیں کہاں کہاں رخنوں کا سامنا ہے اور یہ کہ سب سے پہلے تو اسلام کے دو بہت بنیادی مسائل، لا الہ الا اﷲ کی حقیقت اور جوازِ اقتدار کا مسئلہ ہی داعیان اسلام پر بہت واضح نہیں۔ اسلام کے دیگر اہم مسائل کی تو بات ہی رہنے دیجئے جن پر ویسے ہم آگے چل کر گفتگو کرنے والے ہیں اور جو کہ تحریکی منہج سے تعلق رکھنے والے مسائل ہیں۔ رہ گیا تربیت کا معاملہ تو وہ فہم وبصیرت کے مسئلے سے بھی کہیں سنگین تر ہے اور اس میں پایا جانے والا نقص اس سے بھی کہیں بڑا ہے۔

اگر ہم ابتدائے اسلام کے دور میں ذرا واپس چلے جائیں جب اس امت کی پہلے پہل تعمیر ہوئی تھی تو ہم پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ فکر ایک ایسے ایمانی گروہ کی تیاری کی تھی جو معاشرے پر اثر انداز ہونے کیلئے انتہائی مضبوط بنیادوں پر تربیت پا چکا ہو اور اس کو ان فکری وعملی بنیادوں میں شدید ترین رسوخ حاصل ہو اور وہ ایمان، اخلاق، فکر، نظریات، سلوک، وجدان اور عمل.... ہر میدان میں اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہو۔

درست کہ صحابہ جیسی کوئی جماعت قیامت تک دوبارہ وجود میں نہیں آسکتی ___ اگرچہ اسلام کا کوئی بھی دور اور کوئی بھی نسل ایسے افراد سے بالکلیہ خالی نہیں رہی جو فکر وعمل کی اس بلند سطح کو چھو لیں ___ مگر اس کے باوجود ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ اسلام کی اسی پہلو پود میں ہے جو فکر اور عمل کی سب وادیوں میں اسلام کی اس حقیقت کو ایک طبعی انداز میں لے کر آگے بڑھی۔ صحابہ میں ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ یہی بات ہے کہ معاشرے پر اثر انداز ہونے کو جو لوگ آگے بڑھیں وہ فکر وعقیدہ میں رسوخ رکھنے، بہترین سلوک اور زبردست عملی کردار رکھنے میں ممکنہ حد تک بلند ترین سطح پر فائز ہوں اور جہاں تک ان کا بس چلے وہ معاشرے میں حقیقت اسلام کی واضح ترین نمائندگی اور خالص ترجمانی کی اہلیت رکھیں۔ کیونکہ دعوت کو انہی کے کاندھوں پر کھڑی ہونا ہے اور لوگوں کو اسلام کا فکری اور عملی نمونہ انہی کی شخصیات سے لینا ہے اور پھر جبکہ یہ بھی صرف انہی کی جدوجہد پر منحصر ہے کہ فکر وعمل کی دنیا میں اسلام کی حقیقت پر پڑے ہوئے دبیز پردے چاک ہوں اور اسلام کی حقیقت اس غربت ثانیہ کے ملبے تلے سے باہر نکال لائی جائے.... بالکل اسی طرح جس طرح اسلام کی غربت اولی کو ختم کرنے کا فرض اُس وقت کے اعلیٰ انسانوں کی ایک باصلاحیت جمعیت نے ہی انجام دیا تھا۔

تربیت کے موضوع پر اگرچہ ہم ایک پورا باب الگ سے مخصوص کریں گے مگر پھر بھی یہاں اتنی بات کہہ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے:

یہ جان لیا جانا اشد ضروری ہے کہ آج کے معاشروں کو تبدیل کر دینے کیلئے اس وقت جس قسم کی انسانی جمعیت درکار ہے وہ ایک خاص بلکہ بہت ہی خاص قسم کے انسانوں کی جمعیت ہے۔ اس وقت ہم تاریخ کے جس موڑ پر کھڑے ہیں وہاں معاملہ ایسا ہرگز نہیں کہ کسی بھی معیار کے لوگ مل جائیں تو بس کام چل جائے۔ اس وقت ایک بہت ہی خاص معیار درکار ہے کیونکہ آج کے معاشروں پر اثر انداز ہونے والے لوگوں کو ایک بہت ہی غیر معمولی اور ایک عدیم النظیر مشن کو پورا کرنا ہے۔ آج کے معاشروں پر اثر انداز ہونے والوں کو انتہائی غیر معمولی رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہے۔ آج کے معاشروں کو اسلام کے نقشے پر تبدیل کرنے والوں کو ایک ایسی اتھاہ دشمنی اور ایک ایسے عالمی منصوبہ ساز دشمن سے پالا پڑے گا اور ایسی ایسی سازشوں اور عالمی وارداتوں سے سامنا ہو گا کہ جن کی تاریخ میں کبھی کوئی مثال مل ہی نہیں سکتی۔ البتہ بغض اور کدورت اسی درجے کی ملے گی جو جاہلیت کی جانب سے اسلام کے دور اول کے دوران دیکھنے میں آئی تھی.... تاریخ کے اس مشکل ترین اور کٹھن ترین کام کو سرانجام دینے کیلئے اور ان پہاڑ جیسی رکاوٹوں کو عبور کرنے اور دشمنی کی ان گھناؤنی اور غیر معمولی اشکال کا سامنا کرنے کیلئے یہ سوچنا ہرگز درست نہ ہو گا کہ فہم وبصیرت اور تربیت کا جیسا بھی کوئی معیار ہو، بس کام چلانا ہے اور وہ چل جائے گا۔

باوجود اس کے کہ فہم وبصیرت اور تربیت کی اس مطلوبہ سطح کو پہنچنا ایک بے انتہا پر مشقت کام ہے مگر یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس کے بغیر بہرحال کوئی چارۂ کار نہیں۔ نہ ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل ہے اور نہ ہم اس کے ضرورت مند ہونے سے بے نیاز رہ سکتے ہیں۔ اس دین کو آج کے اس دور میں لے کر چلنے کے جو بھی کوئی تقاضے ہیں ان تقاضوں سے آنکھیں چرانا اور ان تقاضوں کو ادا کرنے میں غفلت اور بے دلی برتنا وہ اصل غلطی ہے جس کی قیمت یہ امت اور امت کا دینی طبقہ ایک عرصے سے دے رہا ہے۔ اسی غفلت اور بے دلی کے سبب یہ نوبت آئی کہ دنیا کی سب قومیں ہم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں جس طرح بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں.... ایک غیر معمولی جدوجہد ناگزیر ہے۔ ایک غیر معمولی جہد کے بغیر اب اس غفلت اور ادبار کی قیمت نہیں چکائی جا سکتی جس کا سایہ اس امت پر دو سو سال تک پڑا رہا اور جس کا موقعہ تکا کر دشمن اپنا کام کر گیا اور اب وہ اس اُمت کو پچھاڑ کر اس کے سینے پر چڑھا بیٹھا ہے اور اس پر سے ہلنے کیلئے تیار نہیں۔

اگر اسلام کی نسلِ اول کو، جبکہ ان میں رسول اللہﷺ بنفس نفیس موجود تھے اور ان پر وحی اترتی تھی، اسلام کی غربت اول کے خاتمہ کیلئے ایک غیر معمولی جدوجہد کرنا پڑی تھی.... تو پھر ہم تو، جبکہ ہم میں رسول اللہ ﷺ بھی بنفس نفیس موجود نہیں اور ہمارے قدم ہر موقع پر درست پڑتے رہنے کیلئے ہم پر براہ راست وحی اترنے کا بھی کوئی انتظام نہیں.... ہم تو اس بات کے کہیں زیادہ ضرورت مند ہیں کہ اللہ سے مدد مانگ کر ایک اعلیٰ ترین اور انتہائی غیر معمولی جدوجہد کرنے کیلئے آگے بڑھیں اور اللہ سے، جو کہ بزرگ وبرتر اور قادر مطلق اور نہایت مہربان ہے، صبح شام دعا بھی کریں کہ وہ ہماری اس محنت اور جہد میں برکت ڈال دے اور اپنی خاص عنایت سے ہمارے قدم درست پڑتے رہنے کا بس اپنی ہی جناب سے بندوبست کر دے اور اسلام کی غربت ثانیہ کا خاتمہ کرانے کا یہ شرف ہمارے نصیب میں لکھ دے۔

اس غیر معمولی جدوجہد کا سب سے اہم اور سب سے ضروری میدان ایک ہی ہے اور وہ ہے اس ایمانی جتھے کی تیاری جسے معاشرے پر اثر انداز ہونا ہے۔ مگر اسلام کیلئے اس وقت جو کام ہو رہا ہے اور دینی تحریکوں کو آئے دن جو ٹھوکریں لگتی ہیں اس سے یہ پوری طرح واضح ہے کہ ہم کہیں پر جلد بازی کا شکار ہو رہے ہیں اور اس وجہ سے اپنے دینی فرائض کو ان کی صحیح ترتیب کے ساتھ لے کر آگے نہیں بڑھ رہے اور یہ کہ ہم نے دین کو لے کر چلنے والے طبقے کی تربیت اور تیاری کے اس اہم ترین مسئلے کو وہ اہمیت نہیں دی اور اس پر وہ محنت اور جہد نہیں کی جو کہ دراصل اس کا حق ہے بلکہ بیشتر اوقات تو ہم اس بات کا ادراک تک نہیں کر پاتے کہ معاملہ کسی تربیت اور تیاری کا متقاضی ہے اور اگر ہے تو کس درجے اور نوعیت کی تربیت اور تیاری مطلوب ہے!


٭٭٭٭٭٭٭

 

4) کیا معاشرے پر اثر انداز ہونے والی اس جمعیت کی ایک معقول حد تک توسیع ہو چکی ہے، جہاں وہ اس حجم کو پہنچ جائے جو آج کے معاشروں کو تبدیل کر دینے کیلئے کم از کم حد تک مطلوب ہے!؟

اگر تو اس سے ہماری مراد ایک عوامی رو اور عوامی سطح کے ایک تحریکی عمل سے ہے تب تو بلاشبہ ہمارے اس سوال کا جواب اثبات میں ہو گا اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ توسیعِ جمعیت کا یہ کام انجام پا چکا ہے جس کی پشت پر پچھلی کوئی نصف صدی سے ایک لگاتار عوامی دعوتی عمل اور ان شہیدوں کا خون ہے جو دین کیلئے وقتاً فوقتاً اپنی جانیں قربان اور اپنا خون نچھاور کرنے کیلئے آگے بڑھتے رہے اور پھر اس توسیع جمعیت میں تیزی کا ایک بڑا سبب جاہلیت کی خود اپنی حماقتیں ہیں جو وہ مسلم نوجوانوں کو شہید کرنے، جیلیں بھرنے، سزائیں اور جلاوطنیاں دینے کی صورت میں اس سارا عرصہ کرتی آئی ہے اور یہ اللہ کی ایک سنت ہے جس کا ادراک کرنے میں ہر دور ہی کے طاغوت ناکام رہتے ہیں اور وہ یہ کہ جس دین اور جس دعوت کیلئے خون دیا جاتا رہے وہ کبھی نہیں مرتی! طاغوت یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ زیادہ لوگوں کی جان لے لیں، زیادہ جیلیں بھر لیں، زیادہ سزائیں اور جلاوطنیاں کر لیں تو وہ دعوتِ اسلام کا کام تمام کر دیں گے اور اسی بات کو وہ اپنے لئے اصل چیلنج اور اپنی جیت کا اصل میدان بھی سمجھ لیتے ہیں، مگر یہی بات خدا کی قدرت سے اہل ایمان کو چھانٹ دینے کا سبب بنتی ہے اور جوں جوں مومن اپنے ایمان میں پختہ ہوتے چلے جاتے ہیں توں توں وہ کفر کے خاتمے کا باعث بنتے جاتے ہیں:

دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانے کے نشیب وفراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سے سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا ہے جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں ___کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں ___ اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کر دینا چاہتا ہے۔

وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔اإِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاء وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ۔وَلِيُمَحِّصَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ۔ (آل عمران: 139-141)

سو یہ تو درست ہے کہ ایک عوامی عمل میں توسیع ہوئی ہے اور یہ عوامی سطح کا دینی عمل قسما قسم انداز میں پورے عالم اسلام کے اندر پھیل گیا ہے اور اس کے ساتھ عالمِ اسلام کے اب ہزاروں، لاکھوں نوجوان آملے ہیں، جو پیدا تو جاہلیت کے سائے میں ہوئے مگر اللہ کو منظور تھا کہ یہ نوجوان اپنے لئے اسلام ہی کا راستہ منتخب کریں جس کی بڑی وجہ ایک طرف اسلام کے داعیوں کی سرگرمی تھی تو دوسری طرف جاہلیت کی خود اپنی حماقتیں۔ مگر اس کثرتِ تعداد کا اصل مطلوبہ تحریکی عمل کے لحاظ سے کتنا وزن ہے؟ اصل سوال صرف یہ ہے۔

یہ بات کہ وہ داعیانِ اسلام جن کی یہ پذیرائی ہوئی، اس بات پر خوش اور مطمئن ہیں کہ کام بہت بڑھا اور پھیلا ہے، تو اس میں تو خیر کوئی شک نہیں.... مگر یہ بات کہ یہ عوام الناس حقیقتِ اسلام کی ترجمانی میں معاشرے کے اندر وہی کردار ادا کر رہے ہوں جو انصار نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کیلئے اپنے معاشرے کے اندر کیا، تو یہ معاملہ ضرور محل نظر ہے اور قابل بحث بھی!

سب سے پہلے تو ہم یہ دریافت کریں گے کہ یہ عوام الناس جو اسلامی جماعتوں سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں کیا یہ عوامی جذبات تب بھی باقی رہیں گے اگر جاہلیت کی حماقتوں کا رخ خود ان کی جانب پھر گیا اور جب جاہلیت لوگوں کو دینی قیادتوں کی تائید اور حمایت کرنے پر پھانسیاں دینے اور قید وبند اور جلاوطن کرنے لگے اور جب لوگوں کو یہ نظر آنے لگے کہ اسلامی جماعتوں اور قیادتوں کی حمایت کرنے پر ان کو زندگی کا چین کھو دینا اور اذیتیں اور عبرتناک سزائیں سہنا پڑیں گی؟ کہیں اُس وقت یہ بات تو نہیں کہہ دی جائیگی کہ ہماری دوستی اتنی دور تک نہیں جا سکتی اور تب کہیں اسلامی قیادتوں اور جماعتوں سے عوام کی راہ الگ تو نہیں ہو جائیگی!؟

حتی کہ اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ یہ اسلام پسند طبقے کسی ایک ملک میں اقتدار حاصل کر لیتے ہیں اور پھر یہ انہونی بات بھی فرض کر لیں کہ عالمی جاہلیت ان کے ساتھ جنگ کرنے نہیں آتی، حتی کہ اقتصادی جنگ اور جدید انداز کی کوئی اور جنگ بھی اس نوزائیدہ اسلامی اقتدار کے ساتھ نہیں چھیڑتی، بس یہ اسلامی حکومت ریڈیو پر گانے بجانے پر پابندی لگا دیتی ہے اور ٹی وی پر بے حیا مناظر ختم کر دیتی ہے اور بازاروں میں بے پردگی کو ممنوع ٹھہرا دیتی ہے.... تو کیا یہ جذباتی عوام جو اسلامی پارٹیوں کی حمایت میں نعرے لگاتے رہے تھے اب بھی اسی جوش سے یہ حمایت جاری رکھیں گے یا پھر عوام کے کم از کم بعض طبقے بے دلی دکھانے لگیں گے اور پکار اُٹھیں گے کہ یہ خوامخواہ کی سختی ہے!!

تو پھر کیا یہ ضروری نہیں کہ یہ عوام الناس پہلے ایک خاص حد تک تربیت پالیں!؟ تاکہ یہ فرائضِ اسلام کی ادائیگی کے اس کٹھن مشن میں ایک سپاہیانہ کردار ادا کریں اور کم از کم اتنا تو نہ ہو کہ وقت آنے پر یہ عوام ہی فرائضِ اسلام سے راہ فرار تلاش کرنے لگیں اور عین اس وقت جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو یا جب ملک کے طول وعرض میں اسلامی احکام کا نفاذ ہو تو عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہی اس وقت کا سب سے بڑا چیلنج بن جائے!

اور پھر دوسرا سوال یہ ہے کہ عوام الناس کی تربیت آخر کرے گا کون؟ اگر وہ بنیادی جتھا جسے معاشرے پر اثر انداز ہونا اور معاشرے کو سر تا پیر تبدیل کرنا ہے.... آج کے یہ اسلام پسند گروہ اور جماعتیں اگر خود بھی پوری تربیت نہیں پا سکیں اور عوام کی سطح پر اپنے کام کو پھیلانے میں تربیت کا معیار برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی حاصل نہیں کر سکیں تو ایسی صورت میں عوام الناس میں ایک زوردار انداز سے جذبۂ عمل پھونک دینے میں اگر کامیابی حاصل کر بھی لی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں لوگ جذبات میں آکر اٹھ کھڑے ہوتے اور آگے بڑھنے پر آمادہ ہو بھی جاتے ہیں تو ان کو تربیت دینے والے عین اس وقت اور موقعہ پر کہاں سے ملیں گے!؟

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

5) رہ گئی بات اللہ کی خاطر اخلاص اور تجرد کی مطلوبہ سطح کو پہنچنے کی تو یہ ایک نازک موضوع ہے! نہ تو ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ اس حوالے سے کسی دوسرے پر تنقید کریں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ ہم خود اپنی پارسائی کا دعویٰ کریں صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک ہی دلوں کے حال اور بھید جانتا ہے۔

وہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں

يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ۔ (غافر: 19)

البتہ اتنی بات اس حوالے سے پھر بھی ہم کہیں گے کہ اسلامی گروہوں میں آپس کا لڑائی جھگڑا اور مخاصمت اور گروپ در گروپ تقسیم جیسے ناپسندیدہ مظاہر جو آئے روز دیکھنے میں آتے ہیں وہ بہرحال ایک خطرناک چیز کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور وہ یہ کہ جو لوگ اس وقت دعوت کے میدان میں سرگرم عمل ہیں ان میں اسلامی اخوت کے حوالے سے ایک بڑا تربیتی نقص ہے اور یہ کہ اللہ کیلئے اخلاص اور تجرد کے حصول میں اور جذبۂ بے لوثی رکھنے میں بھی کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔

اختلاف ہو جانا فی ذاتہ عیب نہیں، البتہ اختلاف کے کچھ آداب اور ضوابط ضرور ہونے چاہئیں تاکہ یہ صرف اختلاف رہے نہ کہ کسی ایک رائے یا کسی ایک ہوائے نفس یا کسی ایک شخص یا کسی ایک گروہ کیلئے تعصب اور حزبیت۔ صحابہ میں اختلاف ضرور ہوا مگر صحابہ بٹ نہیں جایا کرتے تھے۔ ان دو باتوں میں جو فرق ہے بس وہی اصل توجہ طلب مسئلہ ہے۔ جب ہم اللہ کیلئے اخلاص اور حق کیلئے تجرد رکھتے ہوئے اختلاف کریں گے تو بلاشبہ ہمارے درمیان آپس کے لڑائی جھگڑے، مخاصمت اور تقسیم اور ٹولہ بندی کا امکان بہت کم ہو گا۔ تب حزبیت اور جماعت بندی کا یہ مظہر بھی بہت کمزور پڑ جائیگا جو آج کے تحریکی عمل میں ایک بڑی سطح پر دیکھنے میں آرہا ہے اور جو کہ ہمیشہ اس بات کا پیش خیمہ بنتا ہے کہ آدمی کسی ایک رائے یا کسی ایک فکر یا کسی ایک قائد یا کسی ایک جماعت یا کسی ایک طریق کار کیلئے شعوری یا لاشعوری طور پر تعصب رکھنے لگے۔

یقینا اتحاد بھی فی ذاتہ مطلوب نہیں کہ چاہے وہ ایک غلطی پر اکٹھ کی صورت میں ہو بس ہو ضرور۔ ایک غلطی پر اکٹھے ہو جانا دعوت کی کوئی خدمت نہیں۔ اور غلطی پر ڈٹ جانا مصلحت کی بجائے مفسدت اور اسلام کیلئے فائدہ مند ہونے کی بجائے مضرت رساں ہے۔ لیکن حق بیان کرتے ہوئے اگر اخلاص لوجہ اللہ اور تجرد اور بے لوثی کا جذبہ کارفرما ہو تو اس بات کا امکان کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ دل جڑے رہ جائیں لیکن اگر اس میں کمی رہ جائے تو پھر تالیفِ قلوب کی نسبت اس بات کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے کہ بیان حقِ اور غلطیوں کی نشاندہی کا فرض تو ضرور پورا ہو مگر دلوں میں دراڑیں پڑی رہیں!

بات کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت کا راستہ چلنے میں ہم عجلت پسندی کا شکار ہوتے رہے ہیں اور جلد پہنچنے کا جذبہ کچھ بہت ہی بنیادی اور اساسی قسم کے اقدامات کو مختصر یا نظر انداز کر دینے کا سبب بنتا ہے اور یہ کہ ہمارے سامنے اب بھی ایک طویل سفر پڑا ہے جس کی ساری مسافت ایک طبعی رفتار سے طے کئے بنا کوئی چارۂ کار نہیں.... تاآنکہ ہم اللہ کے ہاں تمکین فی الارض کے بالفعل مستحق ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمارے لئے تمکین فی الارض کا راستہ خود ہی واضح کر دیا ہے:

وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید ومدد کی اور مومنوں کے دل آپس میں جوڑ دیئے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے

اے نبی، تمہارے لئے اور تمہارے پیرو اہل ایمان کیلئے تو بس اللہ کافی ہے

اے نبی، مومنوں کو جنگ پر ابھارو....

هُوَ الَّذِيَ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ۔ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ (الأنفال: 62-65)

ایک ہی سورت کی چار آیات میں آگے پیچھے چار شروط بیان کر دی گئیں۔ اللہ کی نصرت اور تائید اترنے کیلئے چار بنیادی شروط کا ذکر کر دیا گیا:

1) یہ کہ سچے ایمان کے حامل لوگ پائے جائیں،

2) یہ کہ ان کے دل باہم جڑے ہوں،

3) یہ کہ وہ اللہ کیلئے تجرد پا چکے ہوں، اور

4) یہ کہ جب جہاد کے حالات تقاضا کریں تو وہ قتال کی آخری حد تک جانے کیلئے تیار ہوں۔

ان شروط کی روشنی میں آج جب ہم موجودہ دعوتی عمل پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس میدان میں ہم نے کچھ راستہ طے ضرور کیا ہے مگر اسے طے کرنے میں ہم کچھ جلدی بھی کر بیٹھے ہیں!
 

٭٭٭٭٭٭٭
 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز