عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 17,2019 | 1440, ذوالحجة 15
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Dawaat_Ka_Minhaj آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اسلام کی پہلی کھیپ کیونکر برآمد ہوئی؟
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

چھ اہم اسباق

اسلام کی پہلی کھیپ کیونکر برآمد ہوئی؟

 

 

اسلا م کی پہلی کھیپ جو صحابہؓ کی صورت پردۂ تاریخ پر جلوہ گر ہوئی، اس کی پیدائش اور افزائش کے بارے میں طویل غور و خوض کرنا آج ہماری شدید ضرورت ہے۔ کیونکہ اس میں ہر ایسے شخص کے لیے کامیابی سے آگے بڑھنے کا پورا سامان ہے جو دعوت کا فریضہانجام دینے کا آرزومند ہو، یا اِس دین کو لے کر دنیا ئے واقع میں تبدیلی لانے کی خواہش رکھتا ہو۔ کیونکہ اسلام کی وہ پہلی کھیپ اللہ تعالی کی خاص نگرانی میں تیار کی گئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے بار ے میں فرمایا :

وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي ﴿(طٰہ: 39)

اسی طرح اس نسل نے بھی تاریخِ انسانی کے عظیم ترین مربی محمد رسول اللہ ﷺکے ہاتھوں پرورش پائی ۔ پھر کیوں نہ ہوتا کہ یہ کھیپ بھی تاریخِ انسانی میں منفرد ترین قرار پائے۔ جسے اللہ تعالی اپنی وحی کے ذریعے چلا رہا تھا اور محمد رسول اللہ ﷺ اپنی تربیت اور رہنمائی کے ذریعے ! نتیجۂ کار صحابہؓ کی اس نسل کو اپنی افزائش اور نشوو نما کے لیے تمام تر اعلی امکانات اپنی اعلی ترین صورت اور بہترین انداز میں حاصل تھے، چنانچہ امت کی تاریخ میں یہ ایک Model Lesson (نمونے کا سبق) کی حیثیت حاصل کر گیا جو کہ اساتذہ کی تربیت کرنے والا استاد اپنے طالب علم اساتذہ کو دکھانے کے لیٔے دیا کرتاہے کہ وہ دیکھیں کہ سبق کیسے دیا جاتا ہے اور یہ جانیں کہ جب ان کو سبق دینا پڑے گا تو وہ کیونکر دیں گے۔

پھر اللہ کی مشیت کو یہ تقاضا بھی ہوا کہ اس دین کاکام اللہ کے بنائے ہوئے طبعی قوانین کے مطابق پایۂ تکمیل کو پہنچے نہ کہ خرقِ عادت امور کے ذریعے، جو کہ اس کی حکمت کا بھی تقاضا تھا۔ تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں میں سے کوئی بے ہمتی دکھانے کے لیٔے یہ نہ کہہ سکے کہ اسلام کی پہلی نسل کی نصرت تو خرقِ عادت واقعات ہی کے ذریعے ہوتی رہی اب رسول اللہ ﷺ کے بعد خرقِ عادت واقعات اور معجزات کا سلسلہ کیونکر چلے!

چنانچہ اس دین میں اگرکوئی غیر بشری عنصر تھا تو وہ صرف وحی تھی جو اللہ کے پاس سے نازل ہوتی تھی۔ جبکہ وہ اب بھی باقی اور محفوظ ہے اور اس کی حفاظت خود اللہ ہی کے ذمہ ہے۔

وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ۔ (النحل۔44)

اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لیٔے اتاری گئی ہے اور تاکہ لوگ( خود بھی) غور و فکر کریں

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔  (النجم 3۔4)

و ہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا،یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے

رہا بدر میں فرشتوں کا اترنا اور مومنوں کے ساتھ شامل جنگ ہونا تو یہ فی ذاتہ ایسی خرق عادت بات نہیں۔

کیونکہ فرشتوں کا اترنا اور انسانو ں کو ثابت قدم کرنا کچھ معرکۂ بدر پر موقوف نہیں۔ مومنوں کے لیے یہ واقعہ اللہ کے حکم سے کسی بھی موقعہ پر رونماہوسکتا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ۔  (حم السجدہ 30۔31)

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو ، نہ غم کرو اور خوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی ، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اورہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی، یہ ہے سامانِ ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے

ہاں اس میں اگر کوئی خاص خرق عادت بات تھی تو وہ بدر میں مومنوں کا فرشتوں کو اپنے ساتھ قتال کرتے ہوئے دیکھنا تھا۔

وَمَا جَعَلَهُ اللّهُ إِلاَّ بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔ (آل عمران۔ 126)

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے

چنانچہ یہ امتیاز ضرور تھا جو اللہ تعالٰی نے باقی مومنوں کی نسبت صر ف اہل بدر کو عطا فرمایا مگر بات یہ بھی ہے کہ بدر دراصل کائنات کاایک ایسا واقعہ تھا جو روز روز دہرایا جانے والا نہیں۔ یہ (يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ) (الا نفال ۔41) تھا۔ یہ ایک تاریخ ساز دن تھا۔ بہت تھوڑے دن ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی دن میں پور ی تاریخ لکھ ڈالی جائے ورنہ عام طور پر تو تاریخ تھوڑی تھوڑی کرکے ہی لکھی جاتی ہے!

چنانچہ سوائے اس ایک خرق عادت واقعے کے جو اہل بدر کا امتیا ز ٹھہرا‘ اور سوائے رسول اللہ ﷺ کے شخصی وجود کے، اسلام کے سب کے سب مراحل طبعی و دائمی قوانین کے مطابق طے ہوئے، چاہے وہ ابتدا میں استضعاف اور ناتوانی کا مرحلہ ہو ، یا ابتلاءاور صبر وآزمائش کا مرحلہ یا پھر وہ تمکین جو قوت و استقرار اور شوکت و بے پروائی کے ساتھ ملی اور پھر آخر میں اسلام کا دنیا بھر میں پھیل جانا یہ سب کچھ طبعی انداز سے ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح دور اول میں اسلام کی بنیاد پر ایک نسل تیار کی گئی اس سے حاصل ہونے والے اسباق مستقل اور دائمی ہیں۔ یہ اسباق صرف ایک بار کے لیٔے نہیں بلکہ یہ ہر بار دہرائے جانے کے لائق ہیں اور اس سے ملتی جلتی ہر صورت حال میں قابل عمل ۔ کیونکہ یہ اللہ کے طبعی قوانین کا نتیجہ تھے نہ کہ وہ خاص خرقِ عادت واقعات جو بس ایک با ر گزر جائیں تو پھر کبھی نہیں دہرائے جاسکتے۔

چنانچہ جہا ں اللہ تعالی نے خو د اپنی نازل کردہ کتاب میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالی کے جاری کئے ہوئے قوانین انسانی دنیا میں کس اندا ز سے رو پذیر ہوئے ہیں جب ایسا ہے تو پھر یہ حق بنتا ہے کہ ہم اسلام کے دورِ اول کے مطالعہ اور اس پر غور و خوض پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کردیں۔ اس سے نتائج اور اسباق کشید کریں اور خود اپنی دعوتی زندگی میں ہم جو اقدام بھی کریں اس میں یہ ہمارے لیٔے مشعلِ راہ ہو اور یہ جانچنے کے لیے کسوٹی بھی کہ آیا ہم سیدھے راستے پر استقامت کے ساتھ چل رہے ہیں یا کہیں انحراف کا شکار ہوگئے ہیں۔

اسلام کے دور اول میں جس طرح ایک پوری نسل کی پیدائش اور افزائش ہوئی، اس پر غور و خوض نے مجھے کئی اہم حقائق کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پھر ان حقائق پر سوچ وبچا رکرنے کی تب مجھے اور بھی زیادہ ضرورت محسوس ہوئی جب مختلف مواقع پر میں یہ ملاحظہ کرتا رہا کہ ہمارا حالیہ دعوتی سفر کتنے ہی پہلوؤں سے ان تقاضوں کے ساتھ میل نہیں رکھتا جو دور اول کے بارے میں غور و خوض کرنے سے ذہن میں آتے ہیں۔ اور پھر جب ان تقاضوں کو اپنے اس دور میں پورا نہ کئے جانے کے طبعی نتائج اور مضمرات بھی گاہے بگاہے میرے سامنے آجاتے رہے تو اس امر کی ضرورت اور بھی شدت سے محسوس ہوتی رہی ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے دور اول کے جائزہ اور حال سے اس کے موازنہ کے یہ نتائج ان صفحات میں قاری کے سامنے رکھ دوں، اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہمیں غلطیوں سے محفوظ رکھے اور سیدھے راستے کی راہنمائی فرمائے۔

اسلام کے دور اول میں دعوتی سفر کا آغاز ہوا تو اس کی بابت ایک حقیقت جو پوری شدت سے سامنے آتی ہے وہ مومنوں کے لیے مکہ میں تربیتی مرحلے کے دوران ہاتھ روک رکھنے کا خدائی حکم ہے۔ ان کو حکم ہوتا ہے کہ تمام تر اذیت کو وہ صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہیں اس آیت میں اللہ تعالی نے اسی حکم کی جانب اشارہ فرمایا ہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّواْ أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَى وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِيلاً۔ (النساء۔ 77)

تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نما ز قائم کرو اور زکوة دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر۔کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو‘ دنیا کا سرمایۂ زندگی تھوڑا ہے اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے

جب ظلم و اذیت اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو صحابہ کرام ؓ میں سے بعض نے رسول اللہ ﷺ سے کہا بھی کہ کیوں نہ ہم ان سے بھڑجائیں، تب آپ نے فرمایا: ما أمرنا بقتالھم ”ہمیں ان سے لڑائی کرنے کا حکم نہیں ہے“ (1)

کتاب اور سنت کی نصوص میں یہ بیان نہیں ہوا کہ اس حکم الہی کی حکمت کیا تھی۔ چنانچہ اس کی حکمت دریافت کرنا ہمارے اجتہاد پر چھوڑدیا گیا۔ اب جہاں تک اس کی حکمت دریافت کرنے کا معاملہ ہے تو غالباً اس کا آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ ذرا کچھ دیر کے لیے یہ فرض کرلیا جائے کہ اس مرحلے میں مومنوں اور قریش کے درمیان واقعتاً لڑائی ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں بھلا اس کے کیا نتائج متوقع ہوتے؟ اس مفروضے پر سوچ بچار کرنے کے بعد ہمیں یہ جانچنے میں آسانی رہے گی کہ ان مومنوں کو اسوقت ہاتھ روک رکھنے اور کسی معرکہ آرائی سے گریز کیئے رہنے کے کیا کیا فوائد ہوئے۔

اہل ایمان اور قریش میں اگر اس وقت کوئی معرکہ رو پذیر ہوجاتا تویہ تصور کرنا کوئی مشکل نہیں کہ ایسی حالت میں جب اہل ایمان ابھی معدودے چند اور ضعیف و ناتواں تھے، ان کو صفحۂ ہستی سے ختم کردینا قریش کے لیٔے آسان ہوتا۔ چنانچہ اس بالکل نئی اور منفردد عوت کا کام کسی ایک ہی معرکے یا چند پے درپے معرکوں میں تمام ہوجاتا، جبکہ اس نئی دعوت نے ابھی پھلنے پھولنے کا کوئی بھی موقع نہ پایا ہوتا۔ لوگو ں تک اس دعوت کی حقیقت بھی ابھی نہ پہنچی ہوتی اور نہ یہ آس پاس کے انسانوں تک رسائی حاصل کر پاتی۔

پھر چلیں یہ فرض کرلیں کہ اس معرکے میں ____ جو ابھی کسی صورت بھی برابر کا معرکہ نہ ہوتا____ اس معرکے میں مسلمانوں کا وجود ختم نہ بھی ہو تا تب بھی ایک اور معاملہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اور موجودہ دور کے واقعات کی روشنی میں یہ ہماری توجہ کا بطور خاص حق بھی رکھتا ہے۔

اس ابتدائی مرحلے میں بھلا اہل ایمان کی پوزیشن کیا تھی؟ ایک عام دیکھنے والے کی نظر میں اہل ایمان کی پوزیشن یہی تھی کہ وہ ’اقتدار کا حق رکھنے والوں‘ کے خلاف آمادۂ بغاوت ہیں۔ اور ظاہرہے کہ اقتدار کا حق رکھنے والے کا یہ حق بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی مسلح بغاوت کی سرکوبی کر سکے۔

یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں کی سرکوبی میں قریش نے وحشت اور بربریت کی حد کردی تھی حتیٰ کہ معاشرے میں کچھ لوگ اس ظلم و وحشت کی وجہ سے مسلمانوں پر ترس کے مارے ان کو بعض اوقات اپنی پناہ اور امان تک دینے لگے تھے۔ لیکن پھر بھی لوگوں کی نظر میں ابھی اصولی طور پر قریش ہی اقتدار کا جواز رکھے ہوئے تھے، مومنوں کی پوزیشن ابھی یہی تھی کہ یہ اپنے بڑوں یعنی ایک صاحب اقتدار کے کہنے میں نہیں اور صاحب اقتدار کا یہ حق بھی ابھی مسلم تھا کہ وہ اپنے باغیوں کی گوشمالی کرے!

تو کیا ابھی جبکہ لوگوں کا تاثر یہی تھا اور دیکھنے والوں کی نظر قریش اور اہل ایمان کے تعلق کو ابھی اسی حوالے سے دیکھ رہی تھی کیا یہ دعوت کے فائدے میں ہوتا کہ عین اسی حالت میں اہل ایمان قریش کے ساتھ جنگ آزمائی کرتے!؟

صاف ظاہر ہے کہ نہیں!

اب دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اہل ایمان نے اللہ کے حکم پر ہاتھ روک رکھ کر کیا نتائج حاصل کئے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس عمل سے بے شمار پہلوؤں پر زبردست پیش رفت ہوئی۔ ایک ایسا ماحول جہاں کوئی باعزت شخص سراٹھا کر چلنے کے سوا چلنا ہی نہیں جانتا، جس ماحول میں جنگوں کا لامتناہی سلسلہ محض ایسی باتوں پر چل نکلتا ہے جنہیں آج ہم بالکل معمولی باتیں سمجھتے ہیں اور خو ن کا ایک قطرہ بہانے تک کے قابل نہیں جانتے مگر اس دور میں ان ’معمولی باتوں‘ پر جنگیں ہوتیں تو برسوں اور پشتوں تک تھمنے کا نام نہ لیتیں اور ان جنگوںکی آگ میں بے شمار خلقت جل جاتی ، مثال کے طور پر داحس وغبراءکی جنگ(2).... ایک ایسے ماحول میں جہاں ایک آدمی اپنی معمولی سی اہانت ہوجانے پر تلوار نکال لینا اپنا فرض جانتا ۔

چنانچہ ایک ایسے ماحول میں انتہائی اعلیٰ حسب ونسب رکھنے والے لوگ ظلم و اذیت کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خاص شرفاءِ قریش میں سے ہیں، مگر وہ جواب میں ہاتھ تک نہیں اٹھاتے ! یہ صرف تعجب ہی نہیں غور کرنے کی بات بھی تھی! کیونکہ یہ عرف اور ماحول سے یکسر مختلف بات تھی۔

دوسرے لفظوں میں یہ ’ماحول‘ کی پیدا کردہ چیز نہ تھی بلکہ معمول سے ماوراءتھی۔ ہر آدمی کے لیے یہ ایک سوال تھا کہ یہ ماحول سے یکسر مختلف چیز کیونکر ہوگئی!

پھر ظلم بڑھتا ہے برابر بڑھے چلا جاتا ہے اور ادھر اسی طرح صبر جاری ہے! یہ بالکل ایک نئی بات تھی جو آج تک کسی کے دیکھنے میں آئی اور نہ سننے میں ! یہ کوئی ’ماحول‘ سے بلند و بالا چیز ہے جو ماحول سے متاثر ہونا نہیں جانتی! آخر یہ لوگ کس مقصد کےلیئے اپنے اوپر ہونے والا یہ سب ظلم اور اذیت ہنسی خوشی سہے جارہے ہیں مگر پھر بھی اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں جو ان کو اس ظلم اور اذیت میں دھکیل دینے کا سبب بن رہی ہے!؟ کیا یہ قبیلے کا شرف و اعزاز اپنے پاس رکھنے کی ضد ہے؟ کیا دنیا کے کسی مرتبے اور مقام کو پانے کی اڑی ہے؟کیا یہ دنیا کی کسی خواہش یا آرزو کی تکمیل پر اصرار ہے؟

ایسی کوئی بھی بات نہیں!!! دیکھنے والوں کی نظر سے بدستور پردے ہٹ رہے تھے ان کو صورت حال آہستہ آہستہ سمجھ آرہی تھی اچھا تو یہ کوئی عقیدہ ہے جو ان کے قلب و ذہن میں اتر چکا ہے اور یہ اس کی خاطر سب کچھ سہہ رہے ہیں!

ایسے ما حول میں یہ تو سمجھا جا سکتا تھا کہ عقیدہ کوئی رسم ورواج قسم کی چیز ہو گی جس سے آدمی چمٹ رہے یا حتیٰ کہ اسکی خاطر آمادۂ جنگ بھی ہو جائے مگراس کی خاطر ظلم واذیت سہے اوراینٹ کا جواب پتھر سے نہ دے، یہ بالکل ایک نئی بات تھی۔ رسم ورواج کے لیئے بھی کوئی اس طرح ظلم تو نہیں سہتا !

پھر ذرا اور آگے چلیں توایک اور نئی بات سامنے آتی ہے۔

یہ اذیت اس قدر شدت اختیار کرتی ہے کہ نوبت معاشی اور سماجی بائیکاٹ تک جا پہنچتی ہے۔ بھوک سے مار دینے تک معاملہ جا پہنچتا ہے بلکہ بعض لوگوں کو تو اس راہ میں موت بھی گلے لگانا پڑتی ہے مگر وہ اس عقیدہ سے ہٹنے کا نام نہیں لیتے !

اس ماحول میں ____بلکہ عام طور پر کسی بھی انسانی عرف میں____یہ ممکن نہیں کہ لوگ کسی باطل کے لیئے ایسا ایسا ظلم سہہ لیں۔ ہو نہ ہو یہ کوئی حق ہے جو ان انسانوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے اورجس کی خاطر اب یہ سب تکلیف سہنے اورموت قبول کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ بلکہ یہ حق ایسا ہے جو ان لوگوں کی نظر میں اپنے امن وسکون، آرام وچین، اپنے مرتبہ ومقام اورحتیٰ کہ اپنے آپ اور اپنی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ دیکھنے والوں کے لیئے صورت حال بہت دھیمی رفتار سے واضح ہوتی جا رہی تھی ۔

یہ سب حقائق جو کفوا أیدیکم(ہاتھ روکے رہو) کی بدولت وجود پا رہے تھے۔ اگرچہ مکہ میں موجود صورت حال کو بہت بہتر نہ بنا سکے مگر یہی حقائق بالآخر اس بات کا سبب بنے کہ مدینہ ایسی دور افتادہ بستی سے انصار اس دین کی مدد کو پہنچے !

گویا مختصر الفاظ میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اہل مکہ نے جس آگ کی تپش سہی اہل مدینہ نے بعد میں جا کر اسی آگ سے روشنی پائی اور اسی کی بدولت ان کو بارگاہ الٰہی سے ہدایت حق نصیب ہوئی !

صرف یہی نہیں جو ” کفوا أیدیکم“(اپنے ہاتھ روکے رہو) کی بدولت انصارپر واضح ہوا یہاں سے ایک اور مسئلے کی بھی گرہ کھلتی ہے اور جو کہ دعوتی عمل میں بے انتہا اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ ’جو ازِ اقتدار‘ کا مسئلہ ہے۔

سورة الانعام میں، جوکہ ایک مکی سورت ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے :﴿وَكَذَلِكَ نفَصِّلُ الآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ ﴾ (الانعام۔55)” اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے“۔

گویا مطلب یہ ہوا کہ: ہم آیات کو کھول کھول کر واضح کرتے رہیں گے جب تک کہ مجرموں کا راستہ واضح نہ ہوجائے۔

اس حقیقت کا ایک مکی سورت میں وارد ہونا ایک واضح معنی رکھتا ہے یا یو ں کہیے کہ یہ معنی ہر شخص پر واضح ہونا چاہیے۔ سو مجرموں کے راستے (سبیل المجرمین) کو واضح کردینا قرآن کاایک باقاعدہ ہدف ہے جو آیت میں مذکورہ لام التعلیل (ولتستبین) سے ظاہر ہے۔ پھر اس آیت کا مکی دور میں نازل ہونا یہی معنی رکھتا ہے کہ مجرموں کے راستے کو واضح کرنا اور مجرموں کی حقیقت سے نقاب کشائی دعوت کے باقاعدہ اہداف میں سے ایک ہدف ہے بلکہ دعوت کے اس ابتدائی دور کے لوازمات میں باقاعدہ طور پر شامل ہے جب ایک جماعت مسلمہ وجود پانے کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے۔

سبیل المجرمین کی وضاحت اور مجرموں کی حقیقت سے نقاب کشائی دعوت کے راستے میں کیونکر ممدو معاون بنتی ہے؟

سبیل المجرمین کے آشکار ہوجانے کا مطلب دو واضح باتیں ہیں:پہلی یہ کہ مجرم کون لوگ ہیں ؟ اور دوسری یہ کہ ان مجرموں کا اختیار کردہ راستہ کیا ہے جسے اختیار کرنے سے وہ مجرم کہلانے کے لائق ہوئے ہیں؟

تو پھر مجرم کون ہیں؟ اور ان کا طریق کار کیا ہے؟ اور آیات کے کھول کھول کر واضح کرنے کا مجرموں کی راہ کو آشکار کرنے سے کیا تعلق ہے؟

معاملہ یہ تھا کہ قرآنی آیات نے الوہیت کا مسئلہ سب سے زیادہ کھول کر واضح کیا۔ یہ وہ سب سے پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ ہے جو پورے قرآن کا موضوع بنا اور خاص طورپر مکی سورتوں کا موضوع رہا۔ ان آیات نے کھول کھول کر یہ بیان کیا کہ وہی ایک الہ بندگی کے لائق ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا ، نہ تخلیق میں، نہ تدبیر میں اور نہ کسی چھوٹے یا بڑے معاملے میں ۔ یہ آیات اس الٰہِ واحد کی صفات بتانے کے لیے پے درپے اترتی رہیں،اسکے شریکوں کی بار بار نفی کرتی رہیں تاآنکہ الوہیت کا یہ مسئلہ انتہائی واضح اور جلی کردیا گیا حتیٰ کہ یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہی واضح نہ تھا بلکہ کفر کرنے والوں کے لیے بھی پوری طرح واضح تھا۔ یہاں تک کہ کفار پوری طرح جان گئے تھے کہ رسول اللہﷺ کا ان سے کیا مطالبہ ہے اور آپ ان سے کس چیز پر ایمان لانے کا تقاضا کررہے ہیں تاآنکہ خو د انہوں نے، بروایتِ قرآن، یہ کہہ دیا:

أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ۔ (ص۔5)

کیا اس (نبی) نے سب خداؤں کا ایک ہی خدا کردیا یہ تو کتنی انہونی بات ہے

یہ واضح کر دینے کے بعد کہ وہ”الہ واحد تنہا لائق بندگی ہے“ لوگوں کے سامنے یہ مطالبہ رکھا گیا کہ وہ اللہ کی بلا شرکت غیرے بندگی کریں کیونکہ انکی یہ بندگی صرف ایک اسی کا حق ہے ، نیز یہ کہ وہ اس کے ساتھ جن جھوٹے خداؤں کا دم بھرتے ہیں ان کو اب ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں اب وہ صرف اس شریعت کی پیروی کریں جو ان کے لیے ان کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور اپنے سب قانون ساز خداؤں کی اتباع ترک کردیں۔

اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء  (الأعراف ۔3)

لوگو جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو

چنانچہ اس مطالبے کی بنا پر لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ۔ ایک وہ فریق جو اس بات پرا یمان لے آیا کہ وہ الہ واحد تنہا لائقِ بندگی ہے معاً وہ اللہ کی بلا شرکت غیرے بندگی کرنے لگے اور اپنے رب کی جانب سے اترآنے والی شریعت پر کار بند ہوگئے اور دوسرا مجرموں کا فریق جو اس پر ایمان لانے سے انکاری ہوا اور اس بات پر آمادہ نہ ہوا کہ وہ تنہا اللہ کی عبادت کرنے لگے اور ایک اسی کی اتاری ہوئی شریعت پر کاربند ہو جائے۔

چنانچہ انسانی گروہوں کی یہ تقسیم جو شرعاً مطلوب تھی جب پوری طرح عمل میں آگئی تو بھلا اب قریش کی پوزیشن کیا تھی؟

آیات کے ”کھول کھول کر“ بیان کئے جانے سے پہلے قریش اپنی قوم کے معتبر اور بزرگ تھے اور اس ناطے سے صاحبِ اختیار و اقتدار بھی۔ اور جہاں تک اہل ایمان کا تعلق تھا تو قریش کی نظر میں،بلکہ عام لوگوں تک کی نظرمیں، وہ اس ’صاحبِ اختیار‘ کے خلاف بغاوت کرنے والے تھے۔ مگر آیات کے ”کھول کھول کر“ بیان کردیے جانے کے بعد او ر قریش کی جانب سے اس بات کا پے درپے انکار ہوجانے کے بعد کہ وہ الہ واحد پر ایمان کی صورت میں اللہ کی تنہا بندگی اور اس کی شریعت کی اتباع کرنے لگیں آیات یوں کھول کھول کے بیان ہوجانے اور قریش کی جانب سے مسلسل انکار ہوتے رہنے کے بعد بھلا اب کیا صورتحال تھی؟ کیا اب بھی قریش ویسا ہی جوازِ اقتدار رکھتے تھے؟ اور کیا اہل ایمان الگ تھلگ راستہ اورایک بالکل نئی قیادت کی اتباع کرنے کی بنیاد پر کیا اب بھی ویسے ہی باغی قرار دیئے جاسکتے تھے جو آیات ”کھول کھول کر“ بیان نہ کئے جاسکنے کی صورت میں قرار پاتے ؟ یا صورتحال اب کم از کم منصف مزاج لوگوں کے دیکھنے کی حدتک بدل چکی تھی؟ ظاہری بات ہے کہ اب معاملہ بالکل ایک نئی صورت اختیار کرچکا تھا۔ قریش جیسے مانے تانے صاحبِ اختیار، اب مجرم بن چکے تھے اور ہاتھ اٹھانے کا حق اب اہل ایمان کو حاصل ہوچلا تھا!

دعوت کے سفر میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی اور ہر حال میں مطلوب ۔ یعنی یہ کہ دیکھنے والے لوگ بھی یہ جاننے لگیں کہ مجرم دراصل کون ہے اور ان کا طریق کار اور ان کے کرتوت کیا ہیں، پھر دوسری جانب وہ یہ بھی دیکھ لیں کہ حق پر کون کھڑا ہے اور حق کا راستہ کونسا ہے۔

قریش کا معاملہ خصوصاً عام ’صاحبِ اختیار‘ لوگوں سے بڑھ کر تھا۔ ان کے بارے میں لوگ اس وجہ سے بھی اشکال کا شکار تھے کہ قریش بیت اللہ کے رکھوالے تھے جس کی عرب حد سے زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قریش ہی اس وقت صاحبِ ثروت اور جاہ و حشمت کے مالک تھے اور عربوں میں سب سے اونچا حسب و نسب بھی انہی کا سمجھا جاتا تھا۔

چنانچہ جاہلی پیمانوں کی ر و سے قریش کو سب اعزاز حاصل تھے جو انہیں جوازِ اقتدار فراہم کئے رکھنے کےلئے کافی ہوں۔ پھر وہ اس تحریف شدہ دین کے بچے کچھے حصے کے علمبردار بھی تھے جسے وہ فخر سے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام سے منسوب کیا کرتے تھے۔ اتنے اعزازات کے ہوتے ہوئے قریش کے ہاتھ سے ”اختیارات کا جواز“ چھین لینا ہرگز کوئی آسان کام یا دنوں میں طے پا جانے والا عمل نہ تھا۔ خاص طور پر جبکہ یہ مٹھی بھر لوگ جو ان’ جائز اختیارات کے مالک‘ کے کہے سے باہر ہوئے دیکھے جا رہے تھے، وہ کمزور و ناتواں تھے جن کے پاس کوئی بڑی قوت تھی اورنہ سوائے اللہ کے کسی اور بڑی طاقت کی پشت پناہی۔

ایسی صورت حال میں صرف اورصرف صحیح عقیدہ کی دعوت اور اس پر ڈٹ رہنا ہی وہ چیز تھی جوقریش کے پاس اختیار کا جوا ز نہ رہنے دے اور ان کو پوری طرح بے نقاب کردے تاکہ دیکھنے والے جان لیں کہ دراصل یہ اختیار رکھنے کے حقدار نہیں بلکہ مجرم ہیں اوراالہِ واحد پر ایمان لانے سے انکاری اور تنہا اس کی بندگی کرنے اور اسکی شریعت پر چلنے سے منکر۔

یہاں اب ہم یہ سوال کرسکتے ہیں کہ مکہ میں اہل ایمان اگر کہیں اسی مرحلہ میں قریش سے معرکہ آرائی کرلیتے تو کیا تب بھی یہ ممکن تھا کہ سبیل المجرمین اس انداز سے واضح ہوجاتا؟ اس وقت اگر وہ کوئی معرکہ چھیڑلیتے جبکہ لوگوں کے ذہن پر ابھی قریش ہی کے مرتبے اور بزرگی کا بھرم قائم تھا اور ان کی نظر میں ابھی قریش ہی کو اختیارات رکھنے کا جواز حاصل تھا اور جبکہ لوگوں کی نظر میں ابھی اہل ایمان کی پوزیشن یہی تھی کہ وہ کچھ نوجوان ہیں جو اپنے بڑوں اورسرداروں کے کہنے میں نہیں تو کیا ایسی حالت میں معرکہ آرائی ہوجانے کی صورت میں کسی کے ذہن میں یہ بات سما سکتی تھی____ جیسا کہ انصار کے ذہن میں بالآخر سما گئی ____ کہ اس مسئلے کو جانچنے کا معیار دراصل کوئی اور ہے!؟ اس مسئلے کو چانچنے اور اس جھگڑے کی حقیقت جاننے کےلئے معیار محض یہ نہیں کہ بیت اللہ کے رکھوالے کون ہیں؟مال ودولت اور جاہ وحشمت زیادہ کس کے پاس ہے؟ قوت زیادہ کون رکھتا ہے!؟ عرف میں کس کی کیا حیثیت ہے !؟ اور تاریخی طور پر آج تک کس کو کیا مرتبہ حاصل رہا ہے؟ بلکہ یہ کہ اس مسئلے کو جانچنے کا معیار لا الہ الاللہ ہے !؟ایک اللہ وحد ہ لا شریک کی الوہیت پر ایمان ہے !؟ اور یہ کہ یہ ساری رسہ کشی کسی اور مقصد کے لیے نہیں ہورہی بلکہ یہ سارا جھگڑا اللہ تعالی کے ہاں سے اترنے والی ہدایت اور شریعت کی پیروی کا جھگڑا ہے!؟ اور یہ کہ فریقین میں اصل تنازعہ یہی ہے کہ دنیا میں بندگی کس کی ہو اور یہ کہ جب تک اس اصل جھگڑے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا تب تک فریقین کے مابین اختلافات تھم جانا ممکن نہیں۔ گویا اب سب باتوں کا انحصار بس اسی ایک بات اور اسی ایک مسئلے پر ہے!؟

کیا ایسی صورت میں، یعنی قبل از وقت لڑائی بھڑائی کی صورت میں، یہ ممکن تھا کہ جس حق کو اہل ایمان نے گلے لگا رکھا تھا اور جس انداز سے گلے لگا رکھا تھا وہی حق اسی انداز کے ساتھ آس پڑوس کے کچھ اورلوگوں کے دلو ں تک بھی ویسے ہی راستہ پالیتا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ تماشائیوں کے دل میں ویسی ہی جگہ کرلیتا جیسا کہ وہ انصار کے دلوں تک راہ پانے میں بالآخر کامیاب ہوہی گیا قریش کے ساتھ معرکہ چھیڑلینے کی صورت میں کیا یہ سب کچھ اسی انداز سے ہوجاتا؟ فریقین میں اس وقت اگر جنگ ہوجاتی تو کیا ایسا نہ ہوتا کہ اس جنگ کی ساری گرد خوداسی مسئلے پر آپڑتی جس کے لیے یہ جنگ کی جانا تھی!؟ حقیقتِ توحید جو کہ اس تنازعہ کی بنیاد تھی ، وہ کہیں بیچ میں ہی چھپ کر نہ رہ جاتی !؟ تب یقینا لا الہ الا اللہ کایہ جھگڑا دیکھنے والوں کی نگاہ سے روپوش ہوجاتا اورکچھ دیر بعد اس لڑائی میں دیکھنے والوں کے لیے دیکھنے کی بس یہی بات رہ جاتی کہ کون مرا اور کس نے مارا؟ کون جیتا اور کون ہارا؟ جس لا الہ الااللہ کی حقیقت کے لیے جنگ کی جانا تھی وہ لوگوں کی نظر میں کسی کونے کھدرے میں جا پڑی ہوتی اور ایک بالکل ثانوی اور حاشیائی حیثیت اختیار کر چکی ہوتی بلکہ بیشتر لوگو ں کی توجہ تو اس طرف کو جا ہی نہ سکتی !

میرے خیال میں معاملہ واضح ہے کہ اس صورت میں کیا ہوتا

اس سارے معاملے کاراز بس یہی تھا کفوا أیدیکم یعنی ”ہاتھ روکے رہو“

اس کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ فریقین میں لاالہ الا اللہ ہی اصل جھگڑا بنا رہے____ کہ آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک ہررسول نے اپنی قوم سے یہی جھگڑا کیا تھا____ اسی کفوا أیدیکم کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ لا الہ الا اللہ کی حقیقت اپنی صاف ستھری اور اجلی نکھری صورت میں اور یہ تنازعہ اتنا نمایاں ہو کے رہے کہ اس کے ہوتے ہوئے فریقین میں اور گویا کوئی جھگڑا ہی وجود نہ رکھتا ہو۔ پھر اس مسئلے اور اس تنازعے کو اتنا وقت ملے کہ یہ ہر ایسے دل تک اپنا راستہ بنالے جسے اللہ تعالی نے اس مرحلے میں اپنی ہدایت سے سرفراز کرنا ہو۔

پھر یہ دلوں تک راستہ ہی نہ بنائے بلکہ اسے اتنا وقت ملے کہ یہ دلوں میں گھر کر جائے اور اس پر ایمان ان میں پوری طرح راسخ ہو جائے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ ان دلوں کے بند کواڑ بھی باربار کھٹکھٹا لے جن کے لیٔے اللہ نے ہدایت نہیں لکھ رکھی ۔ ایسے ہٹ دھرموں تک بھی یہ لا الہ الا اللہ ہر شبہے ، ہر ابہام او ہر غموض سے پاک اور اجلی نکھری حالت میں پہنچ لے ۔ پھر وہ پورے دھڑلے کے ساتھ اس سے کفر کرلیں جبکہ ان کے پاس کوئی شک و شبہے کی گنجائش تک باقی نہ ہو ۔ یہ اتنا کھلا کفر ہو کہ اس میں کوئی ایسا شبہہ تک باقی نہ ہوکہ اس شخص نے یہ کفر کا راستہ شاید اپنی جان بچانے کے لیٔے اختیار کیا ہے ۔ یا یہ کہ اس نے یہ کفر اپنا مال و اسباب بچانے کےلئے اختیار کر رکھا ہے ۔ یا یہ کفر اس نے اپنے امن و امان کے خطرے کے پیش نظر کیا ہے۔ یا اس کفر کا سبب وہ عام سی ضد بازی یا اس کا کسی سے زچ ہوجانا ہے، جو لڑائی بھڑائی کے عمل میں ایک معمول کی بات ہوا کرتی ہے بلکہ ان سب باتوں کے برعکس یہ کفر ایسا ہو کہ بس لا الہ اللہ کا صریح اور کھلا انکار ہو، تاکہ اللہ کی تقدیر میں اس سے آگے جومرحلہ آرہا ہے اس کے لیے سٹیج طبعی طور پر اور پور ی طرح تیار ہو وہ مرحلہ جو کہ اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے:

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ (الانفال 42)

تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے

چنانچہ لا الہ الا اللہ کا مسئلہ یو ں واضح انداز میں فریقین کے مابین جو اصل تنازعہ بن گیا تو یہ کفوا أیدیکم ہی کا مرہونِ منت تھا۔ چنانچہ یہ ہاتھ روک رکھنا دعوت کے لوازمات میں شامل ہے کیونکہ دعوت کو جس جماعت اور جتھے کی ضرورت ہوا کرتی ہے وہ جتھا مناسب حد تک اور مناسب اندازمیں اور مناسب دورانیے میں اس وقت تک وسعت نہیں پا سکتا جب تک :

٭ لا الہ الا اللہ کی بنا پر سبیل المجرمین واضح نہ ہوجائے۔

٭ اور جب تک دوسری طرف اس لا الہ الا اللہ کی بنا پر سبیل المؤمنین بھی واضح نہ ہوجائے۔

بلکہ یہ دونوں کام ہوئے بغیر آگے بڑھنے کی صورت میں دعوت کی بات ابتدا میں جن لوگوں کو سمجھ آگئی بس وہ انہی لوگوں تک محدود رہتی ہے اور اس دعوت کو نئے لوگ ملنا بند ہوجاتے ہیں، وہ بھی اس صورت میں اگر یہ ابتدائی لوگ ویسے ہی اس معرکے اور معرکے کے ہنگاموں کی نذر نہ ہوجائیں۔

چنانچہ جب مناسب وقت اور مناسب محنت صرف کرنے کے نتیجے میں فریقین میں جاری تنازعہ واضح ہوگیا اور کفوا أیدیکم کی بدولت لوگوں کو سمجھ آنے لگ گیا تب اس دین کو مدد دینے کےلئے کہیں سے ’انصار‘ بھی آگئے!

پھر جب’ انصار‘ آئے تو اس بنیادی جتھے کی توسیع عمل میں آئی، اب جو جتھا بڑا ہوا تو لمحوں میں تاریخ کا دھارا بد ل گیا!

اس مسئلے پر ذرا ہم ابھی اور بھی رکنا چاہتے ہیں بھلا یہ ’انصار‘ کون لوگ ہیں؟

کیا یہ جوش و جذبے سے سرشار قسم کے ’عوام‘ کا کوئی ٹولہ ہے جو بس رسول اللہ ﷺ کی شخصیت سے عقیدت اور والہانہ لگاؤ رکھے ہوئے ہے اور ان کے جذبات کو اس وجہ سے جوش آگیا ہے کہ یہ آپ ﷺ کے ساتھ کھڑی انسانوں کی منفرد جماعت کے صبر و استقلال سے متاثر ہوگئے ہیں اور اس پر ہونے والے ظلم و تعدی کے مارے ان پر ترس کھانے پر آمادہ ہیں ؟ یا پھر یہ جانباز سپاہی ہیں جو اس دین کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ کر آگے بڑھے ہیں اور اس قیادت کے پیچھے پوری دل جمعی کے ساتھ کھڑے ہو کر مجاہدین کی صف میں شامل ہورہے ہیں؟

ان دونوں باتوں میں کتنا بڑا فرق ہے اور دعوتی عمل کے آگے بڑھنے کے لیے یہ فرق کس قدر اہم ہے!

بلا شبہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ان دلوں میں بے انتہا محبت اور عقیدت موجزن تھی جو آپکی اعلیٰ انسانی صفات کو دیکھ کر دلوں میں خود بخود پیدا ہوجاتی تھی اور ایسا ہوتا بھی کیوں نہ کہ آپکی شخصیت انسانوں میں ایک منفرد ترین نمونہ تھی اور ان لوگوں نے آج تک تاریخ میں کسی بھی بڑی سے بڑی اور دلوں کو موہ لینے والی شخصیت کے بارے میں جو سن یا پڑھ رکھا تھا وہ اس شخصیت کے سامنے کچھ نہ تھا جو بنفس نفیس ان کے سامنے تھی۔ اور پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ظلم و ستم کا شکار ہونے والے مومنوں کے لیٔے تر س کھانے کا جذبہ بھی ان کے دلوں میں یقیناً موجزن تھا کیونکہ جس طرح کا ظلم ان کی آنکھوں کے سامنے ان عزم و استقلال کے پیکروں پر ہورہا تھا اس کے ہوتے ہوئے یہ جذبہ بھی ایک طبعی امر تھا مگرا ن دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی اس امر کا تنہا باعث نہ تھی کہ وہ اس طریقے سے توحیدکے اس جتھے میں آکر شامل ہو رہیں۔ اس امر کا باعث اصل میں یہ بات تھی کہ وہ اس حقیقت پر دل و جان سے ایمان لے آچکے تھے کہ اللہ کے سوا دنیا میں بالفعل کوئی بندگی کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اسی اِ لہِ واحد کے فرستادہ ہیں ان لوگوں نے پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کو رب ما ن لیا تھا، محمد ﷺ کو رسول تسلیم کرلیا تھا اور اسلام کو دین یعنی طریقۂ بندگی و طرزِ زندگی۔ یہ کرلینے کے بعد اب وہ اس بات پر آپ ﷺ سے بیعت کرنے آئے تھے کہ وہ آپ ہی کی سنیں گے اور آپ ہی کی مانیں گے۔ آپ ہی کے ساتھ جئیں گے اور آپ ہی کے اشارے پر مریں گے۔

رسول اللہ ﷺ ان سے کہتے ہیں: ” کیا تم میر ا بچاؤ کرو گے؟“ اور وہ یک آواز ہوکر کہتے ہیں:”ہم ہر اس چیز سے آپ کا تحفظ کریں گے جس سے ہم خود اپنی عورتوں اور بچوں کا تحفظ کرتے ہیں“۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں :”اگر آپ ہمیں لے کر اس صحرا میں آگے بڑھنا چاہیں تو بخدا ہم یہ صحراپار کر جائیں گے اور اگر آپ اس سمندر میں اترنا چاہیں تو بخدا ہم اس میں اتر جانے کےلئے بھی تیار ہیں“۔

یہ ایک کامل جاں بازی اور جاں نثاری تھی جو اس دعوت کو میسر آچکی تھی!

اس دعوت میں ابھی تک’عوام‘ کو ساتھ چلانے کا وقت نہیں آیا تھا ۔ اس کا وقت گوآنا تھا مگر ابھی نہیں!

کیا خیال ہے اگر یہ انصار محض جذبات سے سرشار ’عوام‘ کا ٹولہ ہوتے جو صرف جذبۂ عقیدت اور جوشِ ہمدردی میں ساتھ آملے ہوتے ! اس صبرآزما اور کٹھن راستے میں یہ’جذبات‘بھلا کب تک ساتھ دیتے؟ کفر سے کبھی ختم نہ ہونے والی اس جنگ میں محض جوش کیا کرتا؟ اور جب اللہ تعالی نے زیادتی کا جواب دینے کی اجازت دی تواس موقعہ پر ہونے والی جنگ میں ان کا پایۂ استقلال کیونکر ثابت قدم رہتا؟

ہاں یہ بات کہ اللہ کے رسولﷺ کو اس بات پر خوشی ہوتی کہ نئے نئے لوگ دعوت میں شامل ہورہے ہیں اور اسلام کی رونق بڑھ رہی ہے، تواس بارے میں تو واقعی کوئی شک نہیں.... اور یہ کہ مکہ میں اہل ایمان بھی ان نئے ساتھیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے، اس بارے میں بھی کوئی شک نہیں.... مگر یہ بات کہ اللہ کے رسولﷺ ان نئے لوگوں کو لے کر پورے وثوق اور پوری آب و تاب کے ساتھ دعوت کی راہ میں بھی آگے بڑھ لیتے، تو یہ بات البتہ ضرور محل نظر ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے سوال کیا ھل تمنعوننی؟ ”کیا تم میرا بچاؤ کروگے؟“

چنانچہ یہ سوال محض انکے ایمان کی بابت نہیں تھا۔ یہ ایمان تووہ پوری صراحت کے ساتھ پہلے ہی قبول کرچکے تھے اور اسی کا یقین دلانے آپ کے پاس آئے تھے۔ اب یہ سوال تو ایمان سے بھی ایک قدم آگے کا تھا۔ یہ ایمان کے لیے جاں نثاری کا سوال تھا اور اس حق کے لیے مرمٹنے کا جسے وہ پوری طرح سمجھ کر قبول کرچکے تھے۔

یہ انصار اگر رسول اللہ ﷺ کو محض جذباتی عوام نظر آئے ہوتے تو آپ کبھی انکو لے کر اس دشوارگزار راہ میں آگے نہ بڑھتے۔ کیونکہ اس دعوت کو پوری طرح سمجھ کر ا س پر جان دینے پر آمادہ انسانوں کے بغیر اس مرحلے میں آگے بڑھا ہی نہیں جاسکتا۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ سے آنے والے انصار کو اگر ایسا نہ پایا ہوتا تو ہر گز اس راہ میں آگے نہ بڑھتے اور محض اس بات سے متاثر نہ ہوتے کہ ’جماعت بڑھ رہی ہے‘ اور ’دعوت پھیل رہی ہے‘۔

پھر رسول اللہ ﷺ کویہ انصار کی جاں نثاری بھی کب میسر آئی؟

ہم اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ مکہ میں مسلمانوں نے جس آگ کی تپش سہی انصارِ مدینہ بالآخر اسی آگ سے روشنی لینے پہنچے۔ انصار کی صورت میں اب ایسے لوگ میسر آگئے جو رسول اللہﷺ کو نصرت اور دین کو قوت دینے کےلئے اپنا آپ پیش کررہے تھے۔

انصار کا آنا اللہ کی قدرت سے تھا ، یقیناً یہ درست ہے مگر یہ بھی بہر حال اللہ کی ایک سنت اور طبعی قانون کے تحت تھا۔

سب سے پہلے کچھ لوگ اپنے وجود کی صورت میں ایک دعوت کا جیتا جاگتا نمونہ بنتے ہیں۔ جس سے دعوت انسانی شکل میں ڈھلتی ہے تو معاشرے میں اس دعوت کی عملی شہادت قائم ہونے لگتی ہے۔ پھر یہ چندانسانوں کاوجود خود بخود ایک ا یسا نیو کلیٔس بنتا ہے جس کے گرد نئے عناصر آ آ کر جمع ہونے لگتے ہیں اصل نیوکلیٔس (Mother Nucleus) میں جتنی جان اور کشش ہوتی ہے اتنے ہی زور سے نئے عناصر اس کے ساتھ آچمٹتے ہیں۔ پھر زیادہ شدت سے قریب آنے والے عناصر خود اس نیوکلیٔس ہی کا حصہ بننے لگتے ہیں۔ پھر جوں جوں اس انداز سے نیوکلیٔس کا حجم بڑھتا ہے تو ں توں اس کے گرد جتھے کی رفتار بھی بڑھتی ہے یہ اللہ کی ایک سنت ہے اور ایک طبعی قانون ہے خواہ مادی کائنات کا معاملہ ہو یا انسانی نشاط کا۔

یہ بنیادی نیوکلیٔس (Mother Nucleus)اہل ایمان کی وہ جماعت تھی جو رسول اللہ ﷺ کے گرد بالکل ابتدا ءمیں اکٹھی ہوئی تھی اور جسے اللہ کے ہاں سے اترنے والی وحی نے یہ شکل دے دی تھی اور جسے مربی اعظم ﷺ نے اپنی جان لگا کر اور اپنا پورا زور صرف کرکے یہ نشاط بخشا تھا اور اپنے صبر و ہمت ، اپنی فراخدلی واعلیٰ ظرفی ، اپنی دانائی اور بصیرت کے ساتھ اس کی نشو و نما کی تھی پھر باقی کاکام دشمنوں نے کیا۔ ادھر سے آزمائشیں آئیں تو یہ سونا اور بھی کندن بنا۔ ہمتوں کو اور بھی مہمیز ملی۔ عزائم کو اور بھی حوصلہ ملا اور شخصیتوں میں اور بھی نکھار آیا اور اللہ سے قربت اور بھی بڑھی۔

اس کفوا أیدیکم کی بدولت ہی پس اس بنیادی نیوکلیٔس نے وجود پایا جس نے کچھ ہی دیر بعد تاریخ کا دھارا پھر اپنے ہاتھ میں لے لیا!

لیکن اگر مسلمان کہیں اسی وقت قریش سے آمادۂ جنگ ہوگئے ہوتے تو اس بنیادی نیوکلیٔس کا وجود عمل میں آنے کا سارا کام ہی مؤخر ہوجاتا، اور پھر تاخیر کے ساتھ وجود میں آتا بھی تو اسے وہ سب خصوصیات حاصل نہ ہوتیں جو کہ اب ہوئیں۔ جبکہ اس ابہام اور غمو ض کی تو بات ہی نہ کریں جو ایسی کسی لڑائی کی صورت میں تنازعۂ لا الہ الااللہ کے چہرے کو چھپا لیتا اور یہ غبارِ جنگ اس مسئلۂ باعث نزاع کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا۔ کیونکہ جب سارا مسئلہ ہی یہ ہورہے کہ فریقین میں سے کون مرا اور کس نے مارا، کون جیتا اور کون ہارا تو مسئلۂ توحید تو کہیں جنگ کے شور ہی میں دبا پڑا رہ جاتا ایسی صورت میں اس مضبوط جتھا بندی کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہوجاتا جو اپنی طبعی رفتار میں اس نیو کلیٔس کے گرد ہورہا تھا جو کہ ابتداءمیں تشکیل دے لیا گیا تھا اور اس کی افزودگی بہترین انداز میں کر لیٔے جانے کے مواقع حاصل ہوگئے تھے۔

آیئے ذرا ختصار سے از سر نو جائزہ لیتے چلیں کہ کفوا أیدیکم کی بدولت کون کون سے بلند مقاصد حاصل کئے گئے ۔

سب سے پہلے تو دعوت کے عمل میں بہت دور رس مقاصد حاصل کئے گئے۔ اس کی بدولت فریقین میں ’باعثِ تنازعہ‘ کا علی وجہ البصیرت تعین ہوگیا کہ یہ جھگڑا لا الہ الا اللہ کا جھگڑا ہے.... باعثِ نزاع مسئلہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو بندگی کرانے کا حق نہیں اس کے سوا دونوں میں کوئی اور جھگڑا نہیں۔

اس صبر کی بدولت یہ طے پا گیا کہ قریش اور اہل ایمان میں ہونے والا یہ تنازعہ کوئی زمین کا تنازعہ نہیں۔ یہ کوئی سیاسی اقتدار کی رسہ کشی نہیں (کیونکہ اقتدار کی پیش کش جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو از خود کردی تو بھی آپ نے وہ پیش کش مسترد کردی اور اس بات پر اڑے رہے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ ہوگی ، پھر خود اہل ایمان کی جانب سے بھی پور ے عرصے کے دوران کوئی ایک بھی ایسا اقدام سامنے نہیں آیا جس سے واضح ہوتا کہ ان کے پیش نظر اقتدار تک رسائی ہے۔)

یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ کشمکش نہ تو بیت اللہ کی رکھوالی کا شرف حاصل کرنے کے لیے ہے اور نہ حاجیوں کی خدمت کا اعزاز پانے کی خاطر۔

نہ یہ مسئلہ کسی اقتصادی برتری کے حصول کا ہے کہ قریش سے وہ معاشی برتری چھین لی جائے جس کے بل بوتے پر وہ افلاس زدہ مومنوں کا اقتصادی محاصرہ روا رکھے ہوئے ہیں اور انکو بھوکا مارنے کی حکمت عملی پر کار بندہیں۔ ایسی غربت کی حالت میں بھی مسلمانوں کے لیٔے قریش کی اقتصادی برتری کا خاتمہ کوئی باعثِ توجہ مسئلہ نہیں بنا!

یہ ساری کی ساری لڑائی اور یہ تنازعہ بہت بڑے مسئلے کی خاطر ہے اور جسے ہمیشہ اولیت حاصل رہنی چاہیے یہ مسئلہ جو بلا شبہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے یعنی:عبادت کس کی ہوگی؟ معبود کون ہے ؟ اور اسی سے پھر یہ سوال خود بخود پھوٹ پڑتے ہیں :حکم چلانے کا حق کسے ہے؟ قانون سازی کس کو سزا وار ہے ؟ انسانی زندگی کے لیٔے ضابطے کون بنا سکتا ہے ؟ قریش کہتے ہیں کہ یہ کام ان کے اپنے اہواءو خواہشات اور ان کے آباؤ اجداد کے رسم و رواج اور معاشرے کے عرف و تقلید کی روشنی میں ہوگا۔ جبکہ اہل ایمان یہ کہتے ہیں کہ اس پر صرف ایک اللہ کا حق ہے۔

پھر تربیت کی سطح پر بھی دور رس مقاصد حاصل کئے گئے ۔

اس ’فراغت‘ کا سارا فائدہ اس طر ح لیا گیا کہ ساری کی ساری محنت ہر طرف سے بچا کر صرف تربیت (3) پر صرف کردی گئی اور تربیت کے فکری، نظریاتی، عملی اور روحانی پہلوؤں پر زبردست کام کرکے اس مضبوط جتھے کی تیاری عمل میں لے آئی گئی جسے آگے چل کر پوری امت کی تربیت کا کام اپنے سر لینا تھا۔

پھر کفار کی پوزیشن متعین کرنے میں بھی یہ صورتحال بے حد معاون رہی ’جوازِ اقتدار‘ کا مسئلہ بھی آیات کے کھو ل کھول کر بیان کئے جانے اور مجرموں کے راستے کی وضاحت کردیئے جانے کے سبب حل ہوگیا۔

علاوہ ازیں اہل ایمان کے جتھے کی توسیع کا کام بھی تکمیل کو پہنچا۔ مکہ میں جس نیوکلیٔس کی افزودگی عمل میں آتی رہی اس کی روشنی دیکھ کر اور اس سے روشنی پانے کے لیٔے آس پاس اور دور دراز سے نئے لوگ جان نثاری کے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ ایک خاص عرصے میں عرب کے بہترین عناصر اس دعوتی نیوکلیٔس کے گرداگرد اکٹھے ہوچکے تھے۔ یہ سب اللہ کی قدرت سے تھا مگر یہ اللہ کے فطری قانون کے تحت بھی تھا۔ پھر جوں جوں نئے لوگ اس دعوت کی فکری گہرائی میں اتر کر شامل ہوتے گئے تو ں توں اس کشمکش کا نقشہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اور کام بھی ہوا جو بے انتہا اہمیت کا حامل تھا۔ یہ اللہ کے لیے تجرد کا معاملہ تھا۔

تجرد یعنی اللہ کو خوش کرنے اور اللہ کی ڈیوٹی کرنے کے علاوہ آدمی کو ہر مقصد بھول جائے اور وہ ہر ہدف ہر منزل سے بے پرواہ ہوجائے۔

اللہ کے لیے تجرد حاصل ہوجانا دعوت کا ایک اہم ترین عنصر ہے بلکہ کیا بعید کہ یہ دعوت کی سب سے بڑی ضرورت ہو۔ دعوت کے لیے میدان میں اترنے والے بنیادی جتھے کے لیے بالخصوص اور اس کا ساتھ دینے والے کارکنوں کے لیے بالعموم۔

اسلام کو دعوت کے آغاز میں، مکی مرحلے کے دوران، جو چنے ہوئے افراد حاصل ہوئے، ان افراد کے دلوں میں ’اللہ کے لیٔے تجرد‘ بہت گہر ا ہوچکا تھا۔ اور یہ تجرد اس انداز سے پیدا کرنے میں ان آیات کو خاص مقام حاصل تھا جو قرآنی وحی کی صورت میں وقفے وقفے سے اتر رہی تھیں پھر اس میں رسول اللہ ﷺ کی شخضیت اور اسوہ کا براہ راست اثر بھی تھا جو ان کو عملی انداز میں یہ سکھانے کے لیے کافی تھا کہ اللہ کے لیٔے بندگی کو خالص کیسے کیا جاتا ہے ۔

جہاں تک خو د رسول ا للہ ﷺ کا معاملہ تھا۔ تو آپ کی تربیت اللہ تعالی نے خود کی تھی اور کیا ہی عمدہ کی تھی۔

آپ ﷺ جب پہلے پہل دعوت کو لے کر کھڑے ہوئے تو لوگوں کے جھٹلانے کا آپ پر شدید اثر ہوجاتا ، ان کے ہر حال میں ہدایت پر آجانے کے لیے آپ شدید بے چین ہوتے اور ان کے نہ ماننے کاآپ کوبہت زیادہ دکھ اور ملال ہوتا ، یہ سب اس لیے کہ قدرتی طور پر آپ کی طبیعت میں لوگوں کی بھلائی کا جذبہ شدید طور پر موجزن تھا۔

اس دوران میں وحی آپ کو تسلی دینے اور اس غم سے بے پرواہ کرنے کے لیے اترا کرتی تھی:

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّهِ يَجْحَدُونَ  (الانعام۔33)

اے محمد ﷺ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لو گ بناتے ہیں ان سے تمھیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمھیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں

وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللّهِ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلاَ تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ  (النحل۔127)

اے محمدﷺ صبر سے کام کیٔے جاؤ۔اور تمہارا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور ان کی چال بازیوں پر دل تنگ نہ کرو

آپ کو اس دکھ سے بے پرواہ کرنے کےلئے وحی اترتی۔ آپ میں کسی ایسے معجزے کے اتر آنے کی جو شدید چاہت پیدا ہوجاتی جو کسی نہ کسی طرح لوگوں کو ایمان لانے پر آمادہ کردے، ایسے معجزے کی شدید چاہت سے بے نیاز کر دینے کے لیے وحی اترتی۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا  (الکھف۔6)

اچھا تو اے محمد ﷺ تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاء فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ وَلَوْ شَاء اللّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ۔  إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ۔ (الانعام:35۔36)

تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برادشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا، لہذا نادان مت ہو“۔ دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سننے والے ہیں، رہے مردے تو انہیں تو بس قبروں ہی سے اٹھا ئے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کےلئے ) واپس لائے جائیں گے

آپ کو اس بات پر یکسو کردینے کے لیے وحی اترتی کہ آپکی ذمہ داری صرف اور صرف’ پہنچا دینا‘ ہے۔ اور نتائج سے بے نیاز ہوجانا، کہ یہ اللہ کا کام ہے آپ کا نہیں۔

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ۔ (القصص۔ 56)

اے نبی ﷺ تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت کو قبول کرنے والے ہیں

اس سلسلے میں ایک عجیب توجہ طلب بات یہ ہے کہ مکہ کے اس سارے تربیتی مرحلے کے دوران اللہ کی جانب سے کوئی ایک بھی وعدہ ایسا نہیں اترا جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہو کہ فتح و نصرت خاص آپ ﷺ کی ذات پر ہی اترے گی بلکہ اس کے بجائے آپ کو یہ کہا جاتا رہا:

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔ (الرعد ۔40)

اور اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھادیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اٹھالیں، بہر حال تمہار ا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے

یہ آپ کی ذات کا معاملہ تھا۔ مگر جہاں تک خود اس دین کی نصرت کا تعلق تھا تو اس دین کو نصرت اور تمکین ملنے کا رسول اللہ ﷺ کو پورا یقین تھا۔ چنانچہ بخاری کی روایت میں خباب بن الارتؓ کے بقول:

”ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ، جبکہ آپ کعبہ کے سائے میں اپنے بردہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اپنی حالت زار کی شکایت کی اور کہا :آپ کیوں ہمارے لیٔے مدد اور نصرت کی دعا نہیں فرماتے؟ (یہ اس وقت کی بات ہے جب مکہ میں مشرکوں کا ظلم و تعدی انتہائی شدت اختیار کر گیا تھا) تب آپ نے فرمایا :جانتے ہو تم سے پہلوں کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ۔ آدمی کو پکڑ کر زمین میں گڑھا کھو د کر گاڑدیا جاتا ، پھر آرا لا کر اس کے سر پر چلا دیا جاتا ۔ جس سے اس کا جسم دو لخت ہورہتا ۔ لوہے کی کنگھیوں کے ساتھ آدمی کا گوشت ہڈیوں سے جدا کردیا جاتا مگر پھر بھی وہ اپنے دین سے ہٹنے کا نام نہ لیتا۔ اللہ کی قسم اللہ اپنا یہ مشن پورا کر کے رہے گا ۔ یہاں تک کہ آدمی اکیلا سوار ہو کر صنعاء سے حضر موت کا سفر کرے گا، اللہ کے سوا اسے راستے میں کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ اوربھیڑوں کے ریوڑ کو بھیڑیٔے کے سوا کسی چور کا ڈر نہ رہے گا۔ مگر تم لوگ بس جلدی کررہے ہو“۔

(بروایت بخاری)

چنانچہ وحی میں آنے والی پے درپے ہدایات کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کے قلب کو اس معاملہ میں مکمل تجرد اور استغنا حاصل ہوگیا کہ اس دین کی نصرت ضرور آپ کی زندگی میں ہی ہو۔ آپ کو ’بلاغ‘ یعنی پہنچا دینے کے لیٔے مکمل تجرد اور یکسوئی حاصل ہوگئی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو بھی ایسے ہی تجرد کی تربیت دی۔ حتیٰ کہ ان کے نفوس اپنے نفس کے ہرحظ سے دستبردار ہوگئے، جیساکہ کتب سیرت میں واقعات سے ظاہر ہوتا ہے، اور ان سب لوگوں کو تمام یکسوئی اس کام کے لیے حاصل ہوگئی کہ وہ بندگی کو اللہ وحد ہ لا شریک کے لیے خالص کردیں۔

آخر جب اللہ نے ان کے دلوں میں جھانک کر یہ جان لیا کہ اب ان میں اللہ کے لیٔے پوری یکسوئی پائی جاتی ہے اور ان کو ہر قسم کی کامیابیوں کی خواہش سے تجرد حاصل ہوچکا ہے ، تب جا کر ان کو زمین میں تمکین حاصل ہوئی اور ظلم و زیادتی کا جواب دینے کی اجازت مل گئی۔

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ۔ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ۔ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔ (الحج۔ 39‘40‘41)

اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ و ہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناً ان کی مدد پرقادر ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے” ہمارا رب اللہ ہے “ اگراللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقا ہیں اور معبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کر ڈالی جائیں،اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ۔ اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوة دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے

 

٭٭٭٭٭٭

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز