عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, December 6,2019 | 1441, رَبيع الثاني 8
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Dawaat_Ka_Minhaj آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
غربتِ ثانیہ تا نشأۃِ ثانیہ
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مقدمہ

غربتِ ثانیہ تا نشأۃِ ثانیہ

 

دعوت، یعنی لوگوں کو اللہ کی طر ف لانا، اس امت کی دائمی ذمہ داری ہے :

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّة يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔   (آل عمران 104)

تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ضرورہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں‘ بھلائی کا حکم دیں اوربرائیوں سے روکتے رہیں۔ یہی ہیں جوکہ فلاح پانے والے ہیں

اس لیے کہ یہ خاتم الرسل ﷺ کی امت ہے، جسے اپنے رسول ﷺ کے بعد آپ کی رسالت کو لے کرچلنا ہے ۔آپ کی رسالت پوری کی پوری انسانیت کے لیے ہے، ہر وقت اور ہر زمانے کےلئے ہے۔ آپ کی بعثت سے لے کر رہتی دنیا تک اب ہر انسان اسی رسالت کا مکلف ہے اور اسی کا مخاطب۔

یہ مشن دو حصوں پر محیط ہے: اس کا ایک حصہ وہ ہے جس کا ہدف وہ لوگ ہیں جو ابھی اس دین پر ایمان نہیں لائے، ان کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے، اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا مخاطب وہ لوگ ہوں گے جو اس پر ایمان لاچکے ہیں تاکہ ان کو اس کی تذکیر اوریاد دہانی کرائی جائے اور اس پر ان کا ایمان راسخ کیا جائے ۔

وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ۔ (الذاریات 55)

البتہ نصیحت کرتے رہو ، کیونکہ نصیحت ایمان والوں کے لیے نافع ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِيَ أَنزَلَ مِن قَبْلُ وَمَن يَكْفُرْ بِاللّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِيدًا۔ (النساء۔136)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، ایمان لاؤ اللہ پر اور اسکے رسول پر اور کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اورہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ او ر اس کی کتابوں اوراس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا

مگرآ ج امت کچھ ایسے حالات سے گزر رہی ہے کہ جن سے شاید امت کو اس سے پہلے کبھی سابقہ نہیں پڑا۔آج اسلام کی حقیقت سے آشنائی خود اس امت میں اس درجہ انحطاط کو پہنچ چکی ہے کہ امت کی پوری تاریخ میں مسلمان حقیقتِ اسلام سے اس قدر نابلد کبھی نہ ہوئے تھے ۔ یہ درد ناک حالت ابھی حقیقتِ اسلام سے خالی ”آگاہی اور واقفیت“ کی ہے، رہی اس حقیقتِ اسلام پر” عمل پیرا ئی“ تو اس کی حالت اس سے بھی کہیں ناگفتہ بہ ہے۔

چنانچہ آ ج فریضۂ دعوت اور اس کا دائرۂ کار، آج سے پہلے کے تما م ادوار کی بہ نسبت، کہیں زیادہ سنگین اہمیت کا حامل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب مسلمانوں کے لیے دعوت کی نوعیت محض تذکیر و یاد دہانی کی نہیں رہی، بلکہ اب یہ قریب قریب ایک ’تعمیر نو‘ کا کام ہے۔ ایک عمارت جو بوسیدہ اور جسکی بنیادیں بڑی حد تک کھوکھلی ہورہی ہیں اسے انہی بنیادوں کو مضبوط کرکے نئے سرے سے اٹھایا جانا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب صورت حال یہ ہے کہ اقوام عالم اس امت پر ہر طرف سے پل پڑی ہیں جس کی کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی پیشین گوئی فرما ئی تھی:

یُوْشِکُ الْاُمَمُ اَنْ تَدَاعَیٰ عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعَیٰ الاَکْلَة اِلَی قَصْعَتِھَا قَالَ قَائِلٌ :” اَمِنْ قِلَّة نَحْنُ یَؤْمَئِذٍ یَارَسُوْلَ اللہِ“۔ قَالَ: ”بَلْ اَنْتُمْ کَثِیْرُوْنَ وَلَکِنَّ اللہَ یَنْزَعَ فِیْ صُدُوْرِ عَدُوِّکُمْ المَھَابَة مِنْکُمْ وَلَیَقْذِفَنَّ فی قُلُوْبِکُمُ الوَھْن“ فَقَالَ قَائِلٌ: ”مَاالوَھْنُ یَارَسُوْلَ اللہِ“۔ قَالَ: ”حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَة الْمَوْتِ“

(رَوَاہ أحْمَدُ وَ أبُوْ دَاؤدُ)

”عنقریب وہ وقت آئے گا جب اقوام عالم تم پر یوں پل پڑیں گی جیسے بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ صحابہ نے عرض کی :اے اللہ کے رسول کیا یہ اس وجہ سے ہوگاکہ تب ہم تھوڑے ہونگے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” نہیں تعداد میں اس وقت تم بہت زیادہ ہوگے مگر تم خس و خاشاک ہوگے جیسے خس و خاشاک سیلاب کی سطح پر (تیرتے ہیں) اللہ تعالی دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب و دبدبہ ختم کردے گا او ر تمہارے دلوں میں کھوکھلا پن (وہن) پیدا کردیگا۔ ایک سائل نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول یہ ’وہن‘ کیا ہے ؟

فرمایا ”دنیا کی چاہت اور موت سے جی چرانا

ہم سب اس یقین سے سر شار ہیں کہ ان شاءاللہ یہ تعمیرِ نو ہو کر رہنی ہے اورا س عمارت کو اپنی بلندی تک پھر پہنچنا ہے۔ ہمارے دین کی سب پیشین گوئیاں اسلام کے دنیامیں پور ی آب و تاب سے لوٹ آ نے اور زمین میں تمکین پانے کا پتہ دے رہی ہیں، چاہے وہ جنگ جو جاہلیت اسوقت پوری زمین میں اسلام کے خلاف روا رکھے ہوئے ہے کتنی بھی وحشت ناک کیوں نہ ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اسلام پر آج جو پہلے والی غربت اور اجنبیت کا دورپھرآچکا ہے اس غربت اور اجنبیت کا خاتمہ بلا شبہ ایک پر مشقت اور پر خطر کام ہے ۔

بدأ الاسلام غریبا، و سیعود غریبا کما بدأ (اخرجہ مسلم)

اسلام کی ابتدا تھی تو یہ اجنبی اور نامانوس تھا ۔ عنقریب یہ پھر پہلے کی طرح ہی اجنبی اور نامانوس ہورہے گا

یہ ایک صبر آزما کام ہوگا جس میں ایک جانگسل محنت و جد وجہد درکار ہے تو ایک غیر معمولی بصیرت بھی مطلوب ہے۔

یہ اس لیٔے کہ اسلام کو جب پہلی بار غربت اورا جنبیت سے واسطہ پڑا تھا تو کم ازکم لوگ یہ تو جانتے تھے کہ اسلام کیا ہے اور اس کے اصول اور اساس کیا ہیں ۔ ایک ا للہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے، وحی اور نبوت پر ایمان سے کیا مراد ہے اور آخرت پر ایمان کیا معنی رکھتا ہے، لوگ اس بات سے آگاہ تھے چاہے وہ اس نئے دین میں داخل ہونے والے لوگ ہوں چاہے اس کی مخالفت پر کمر بستہ اور اس کی بیج کنی پر آمادہ لوگ۔ تب اس غربت اور اجنبیت کا سبب بس یہی تھا کہ اس پر ایمان لانے والے دنیا میں مٹھی بھر تھے ، کمزور اور ناتواں تھے اور اپنی مادی قوت سے لوگوں پر بھاری نہ پڑسکتے تھے ، جبکہ انکار کرنے والوں سے دنیا بھری ہوئی تھی جو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور سرکشی پر ہی بضد تھے۔

چنانچہ جب خدیجہ ؓنے ورقہ بن نوفل کو وحی آ نے کا واقعہ سنایا تو ورقہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : کاش جب تمہاری قوم تمہیں نکالے گی تو مجھ میں اس وقت دم خم ہوتا! آپ نے کہا: تو کیایہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا: جو دعوت تم لائے ہو ایسی دعوت لانے والے ہر آدمی کی ہی دنیا دشمن ہوجاتی ہے(1)

اور جب ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں اور آپ نے جوا ب دیا کہ” اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں“ تب اس نے کہا یہ ایک ایسی بات ہے کہ عرب آ پ کو اس کی اجازت نہیں دیں گے!

تاہم اب کی بار یہ جو ”غربتِ ثانیہ“ ہے.... یہ جس غربت اورا جنبیت کا اسلام کو اب سامنا ہے.... تو اس کا معاملہ پہلے سے مختلف ہے، باوجود اس کے کہ اجنبیت بہر حال اجنبیت ہی ہوا کرتی ہے۔

آج معاملہ یہ ہے کہ اسلام خود اہل اسلام کے لیے اجنبی ہے۔ دوسرے لوگوں کے لیے تویہ جتنا عجیب و غریب ہے وہ ہے ہی، مگر اہل اسلام کا ہی یہ حال ہے کہ جب ان کو آپ اسلام کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں تو وہ بھی تعجب اور حیرت کے اظہار کے ساتھ کہتے ہیں: یہ اسلام تم کہاں سے نکال لائے ہو۔ یہ تو آج تک کبھی ہم نے سنا تک نہیں!

ایک درگاہ کا طواف کرنے والے شخص سے جب آپ یہ کہتے ہیں، جو کہ وہاں تبرک حاصل کرنے اور اس میں برسوں یا صدیوں سے دفن ہوئے انسان سے مرادیں پوری کروانے جاتا ہے: کہ بھائی یہ شرک ہے اور اسلام میں اس کی اجازت نہیں، تو وہ آپ کو تعجب اور حیرت سے تکتا ہے اور اسے یہ سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے کہ یہ’ اسلام‘ آپ کہاں سے نکال لائے! اس کے خیال میں آپ اسلام کی ’روحانیت‘ کا ستیاناس کردینے کے درپے ہیں!

ایک اللہ کی شریعت کی جگہ پر اپنی شریعت چلانے والے یا اللہ کی شریعت کی جگہ پر غیر اللہ کی شریعت کو قبول کرنے والے شخص سے جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے تو وہ بھی آپ سے یہی کہتا ہے کہ یہ مسئلہ تم کہاں سے نکال لائے ؟ یہ انتہا پسندی ہے ، جمود ہے، رجعت پسندی ہے ! دنیا ترقی کرچکی ہے ! یا کم از کم بھی یہ تو ضرور کہے گا کہ یہ شرک دون شرک ہے، شرک لایخرج من الملۃ ہے، یعنی یہ شرک ہے بھی تو ویسا شرک نہیں جسے کرنے سے آدمی ملت سے خارج ہوجاتا ہے!

جب آپ سو شیالوجی کے کسی استاد ، یا نفسیات کے کسی پروفیسر ، یا کسی ماہر تعلیم یا تاریخ کے پروفیسر سے یہ کہتے ہیں کہ آپ نے مغرب سے جو علو م لیے ہیں اور جو کچھ آپ یہاں طلباءکو پڑھارہے ہیں یہ اسلام کے مفہومات سے متعارض ہیں بلکہ بعض اوقات تو یہ اسلام کے عقیدہ سے براہ راست اور صر یح طور پر متصادم ہوتے ہیں تو بہت تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر بیشتر سے آپ کو یہی جواب ملتا ہے کہ اسلام کا ان علوم و فنون سے بھلا کیا واسطہ؟ تم ہر چیز میں اسلام کو گھسیٹ لاتے ہو!؟ یہ سوشل سائنس اور سماجی مطالعہ ہے جبکہ اسلام ایک مذہب ہے، مذہب کو سماجیات سے آخر کیا سروکار! ؟

ایسے بے شمار پہلو اور بے شمار امور ہیں جن میں آپ لوگوں کو حقیقت اسلام سے آگاہ کرتے ہیں تو وہ حیرت اور پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ کم از کم تعجب تو ضرور کرتے ہیں کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ آپ کو انہیں یہ سمجھانے کے لیے اچھی خاصی جان کھپانا پڑتی ہے کہ وہ اسلام جو اللہ کے ہاں سے آیا ہے دراصل یہی ہے اور جسے و ہ غلط فہمی سے’ اسلام‘ سمجھتے رہے ہیں وہ سرے سے اسلام ہی نہیں !

یہ نا گفتہ بہ حالت ابھی اسلام سے خالی ’واقفیت‘ کے معاملے میں ہے ۔ البتہ یہ کہ وہ اس خالص اسلام پر ’عمل پیرا‘ بھی ہوتے نظر آئیں تو اس پر آپ کی جتنی محنت ہوگی اور اس پر آپ کو جتنی جان کھپانا پڑے گی وہ تو اس سے بھی کہیں بے اندازہ ہے !

اسلام کی حقیقت سے ’واقفیت‘ اگر ہو بھی تو ظاہر ہے کہ وہ اکیلی کافی نہیں مگریہاں صورت حال یہ ہے کہ اہل اسلام کے ہاں حقیقتِ اسلام سے خالی ’واقفیت‘ بھی نہیں پائی جاتی جو کہ کسی بھی دوسری چیز سے پہلے بہر حال پائی جانا ضروری ہے۔ وحی کا پہلا کلمہ یہی تھا کہ ”پڑھو“ (اِقْرَاْ) پھر رسول اللہ ﷺ پر یہ وحی بھی نازل ہوئی﴾فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ﴿ (سورہ محمد:19) کہ ’لا الہ الا اللہ کی حقیقت کا علم حاصل کرو‘ اور ”علم“ جیساکہ ازروئے فہمِ سلفؓ واضح ہے، خالی جان لینا نہیں بلکہ سلف کے ہاں ’علم‘ سے مراد ایسا ’جان لینا‘ ہے جو انسان کو عمل تک اور ایک جیتا جاگتا واقعہ بننے تک پہنچا کر آئے ۔ چنانچہ یہ ایک ایسا مشن ہے جو حقیقت اسلام کی آشنائی کرانے سے شروع ہو اور اس کو عملًا رو پذیر کرانے پر ختم۔ ہماری اس وقت کی صورت حال کا اس پہلو سے واضح ہوجانا نہایت ضروری ہے۔

اگر اسلام کی غربت اولیٰ کے دور میں لوگوں کو لا الہ الااللہ کے معنی و مفہوم سمجھانے اور پڑھانے پر رسول اللہ ﷺ کی شدید ترین محنت صرف ہونا ٹھہر گئی تھی، خاص طور پر مکہ میں تو رسول اللہ ﷺ نے جو محنت اور ریاضت کی وہ یہی تھی کہ وہ لوگ جو اس حق کو قبول کرلیں اور اس پر ایمان لے آئیں ان کی لا الہ الااللہ کے تقاضوں اور مطالبوں کی بنیاد پر تیاری عمل میں لائیں ۔ اسی لا الہ الا اللہ پر ان کی تر بیت کریں اور مرحلہ بہ مرحلہ اسی کو ان میں راسخ کرکے اس راستے میں ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں۔ جس کے لیے سب سے پہلے آپ نے منتخب لوگوں پر مشتمل ایک’ ٹھوس بنیادی جمعیت‘ کی تربیت کی اور پھر اس کی مدد سے سب لوگوں کی....

اس لا الہ الا اللہ کا مفہوم سمجھانے اور پڑھانے اوراسکی بنیاد پر ایک جماعت کھڑی کرنے پر.. اگر اللہ کے رسول کی بھی اتنی محنت صرف ہوئی تو آج اس غربت ثانیہ کے دور میں بھی دعوت کو ان دو پہلوؤں پر بے انتہا جان کھپانے کی ضرورت ہے، یعنی اسلام کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور اس کی بنیاد پر انکی تربیت کرنا۔
اسلا م کی حقیقت سے ایسے لوگوں کو آگاہ کرنا جو اسلام کے ایک حصے سے واقف ہیں اور ایک حصے سے ناواقف، مگر سمجھتے یہی ہیں کہ وہ پورے اسلام سے واقف ہیں، ان لوگوں کو اسلام کا مطلب سمجھانا کچھ ایسا آسان کام نہیں ۔ نہ ہی اس پر تھوڑی محنت سے گزارا ہوگا۔ پھر اس کی بنیاد پرعملی تر بیت کا کام ____خاص کر منتخب عناصر پر مشتمل بنیادی جمعیت کی تربیت کا کام ____اس سے بھی کہیں زیادہ محنت اور ریاضت کا متقاضی ہے۔ کیونکہ یہ تربیت ایک نہیں متعد د پہلوؤں اور میدانوں میں کی جانا مطلوب ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ انسانی نفس کو اپنے معمولات و مانوسات سے ہٹا لینا اور ’جو آج تک ہوتا آیا‘ سے برگشتہ کرکے بالکل ایک نئی راہ پر ڈال دینا آسان کام نہیں۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ نفوس ہر ہر مطالبے پر فوری عملدر آمد کے لیے آمادہ ہوجائیں ۔ پھر جبکہ صرف یہی نہیں کرنا کہ مومن نفس تیار کرنے ہیں بلکہ بنیادی جمعیت کی حد تک ایسی غیر معمولی اور سر بر آوردہ شخصیات کی تیاری بھی مطلوب ہے جو ایک انتہائی غیر معمولی ذمہ داری کا بوجھ بطریق احسن اٹھا سکیں۔

یہ جاننا انتہائی اہم ہے کہ لوگوں کواسلام کی دعوت دینے کاکام کیونکر کیاجائے۔ آج جس بحران سے عالم اسلام گزر رہا ہے، ایک شدید او ر سنگین بحران ہے بلکہ شاید عالم اسلام کو اپنی تاریخ میں پیش آنے والے بحرانوں میں یہ شدید ترین بحران ہے۔ پھر اسلام کو جڑسے اٹھا کر پھینک دینے کے لیے جس طرح دشمن آج اکٹھے ہوئے ہیں شاید اتنے بڑے پیمانے پر اور اس قدر شدت سے دنیا آج تک اسلام کے خلاف کبھی اکٹھی نہیں ہوئی۔ جبکہ انسانیت کو اسلام کی ضرورت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ اس وقت تھی جب یہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا۔

جب تک ہم دعوت کے راستے میں پوری بصیرت اور دانائی سے قدم اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے اور جب تک اس راستے میں ہم وثوق اور پختگی کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرپاتے ، تب تک ہوسکتا ہے ہم اپنے اصل ہدف تک پہنچنے میں کامیابی سے محروم رہیں بلکہ ہوسکتا ہے ہماری بہت سی جد و جہد اور محنت بھی نتیجہ خیز ہونے کی بجائے اِدھر اْدھر صرف ہوتی رہے۔

’دعوت‘ کا موضوع ایک بڑے عرصے سے میری سوچوں پر حاوی رہا ہے اور یہ سوال بار بار میرے ذہن میں آتا رہا ہے کہ معاشرے میں دعوت کا طریق کار کیا ہونا چاہیے ؟ اور دعوت کے لیے کیا انداز اختیار کیا جائے؟ خاص طور پر جبکہ میں دعوت کے لیے ہونے والے حالیہ عمل پر نظر ڈالتا ہوں تو کہیں کسی پہلومیں کمیا ں کوتاہیاں نظر آتی ہیں تو کسی جانب جلد بازی اور کسی جانب انحراف۔ میں یہ سارا عرصہ سوچتا رہا ہوں کہ پچھلی نصف صدی سے دعوت کے لیے کئے جانے والے کام کا ایک بھر پور جائزہ لیا جائے تاکہ ہمارے اس دعوتی سفر میں رہ جانے والی کوتاہیوں کی تلافی ہو اور اگر ہم کہیں غلطیوں کا شکار ہوئے ہیں تو دعوتی عمل میں ان کو بار بار نہ دہرایا جائے۔ حال کو درست کرنے کے لیے ماضی سے سبق لینا اور اچھے مستقبل کے لیے حال کو درست کرنا شدید طور پر مطلوب ہے۔ یہ ایک سنجیدہ اور ناگزیر فرض ہے اور داعیوں کو اپنے سفر کے کسی مرحلہ میں بھی اس سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔

ان صفحات میں، میں اپنے وہ خیالات اور افکار پیش کررہا ہوں جو اس عرصہ کے دوران دعوت کی بابت، میرے ذہن میں آتے رہے۔ یہ بہرحال ایک اجتہاد ہے جس میں صحیح اور غلط دونوں کی گنجائش ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے درست بات کی توفیق دے .. (اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِ صْلَاحَ(2)

محمد قطب

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز