بڑی دیر سے ہماری تحریکی دنیا میں شکووں اور شکایتوں کا ایک شور بلند ہونے لگا ہے۔ سرگردانی بڑھ رہی ہے کہ اسلامی تحریکیں اپنی پیش قدمی کیلئے سب ممکنہ طریقے اور راستے آزما چکیں، مگر ”راستے“ ہیں کہ کھل کر نہیں دے رہے۔
یہاں تک کہ باقاعدہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ اِن بند راستوں کو کھولنے کیلئے اب کونسی تدبیر رہ گئی ہے جسے اختیار کیا جائے؟
اِس مایوس کن صورتحال سے وحشت کھانے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ…. ”متبادل“ کا سوال جو کسی وقت یہاں پر محض ”آزمائشی“ بنیاد پر اٹھایا جاتا تھا اب بڑی حد تک ”بے بسی“ کے ساتھ سامنے لایا جانے لگا ہے۔
”آخر کریں کیا؟“، یہ سوال نہیں اب ایک دُہائی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
کچھ شک نہیں کہ اسلامی تحریکوں کا راستہ ”معاشروں“ کے بیچ سے گزرتا ہے، نہ کہ براہِ راست ”ایوانوں“ تک پہنچتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے، اسلامی تحریکوں کا راستہ ”ایوانوں“ تک جائے نہ جائے، ”معاشروں“ کے بیچ سے بہرحال گزرتا ہے۔ اسلامی تحریکوں میں فرسٹریشن کا آ جانا بھی کچھ ایسا تشویش ناک نہیں؛ ایسی نوبت آجانے پر آپ کی بہت سی سوئی ہوئی صلاحیتیں یکا یک بیدار ہو جاتی ہیں تو وہ ایک نئے سرے سے زور مارتی ہیں، جس کے نتیجے میں بند راستے کسی وقت کھل بھی جاتے ہیں۔ شرط یہی ہے کہ آپ کی سمت درست ہو۔ تشویش ناک بات ہو سکتی ہے تو وہ یہ کہ ہماری یہ ”فرسٹریشن“ اُن راستوں کو دشوار پانے کے حوالے سے ہو جو ”ایوانوں“ تک پہنچتے ہیں، نہ کہ اُن راستوں کے سنسان چھوڑے جانے کے حوالے سے جو ”معاشروں“ کے بیچ سے گزرتے ہیں! ہاں یہ بات البتہ تشویش ناک ہی نہیں، لمحۂ فکریہ ہے۔
جہاں تک اُن راستوں کا تعلق ہے جو ”معاشروں“ کے بیچ سے گزرتے ہیں، تو یہ ایک نہایت خوش آئند بات ہو گی کہ ان راستوں کے حوالے سے کم از کم کوئی ”تشویش“ تو پائی جائے! ڈر ہے تو البتہ یہی کہ یہ ”تشویش“ اب بھی اپنے محل پر نہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ یہ ”پریشانی“ اب بھی اِس بات سے متعلق نہیں کہ اسلامی تحریکیں کیوں یہاں کوئی ”معاشرتی کردار“ رکھنے سے عاجز ہیں؟ ”حسرت و یاس“ شاید اب بھی اِس بات سے متعلق ہے کہ اسلامی تحریکوں کے پاس بہت زیادہ ”سیاسی آپشنز“ کیوں باقی نہیں؟ ہاں اگر ایسا ہے تو یہ تشویش ناک ہی نہیں، آشوب ناک صورتحال ہے!
ہم یہ سمجھتے ہیں: ”معاشروں“ کے بیچ سے گزرنے والے راستے اسلامی تحریکوں پر کبھی بند ہی نہ تھے جو اِن کے مسدود ہونے کے واویلے ہونے لگیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ”معاشروں“ کے بیچ سے گزرنے والے راستے بڑی دیر ہوئی کبھی چلے ہی نہ گئے تھے جو اَب ہم تھک کر بیٹھنے کی بات کریں۔ اِس صاف گوئی پر ہم معذرت خواہ ہیں، یہ سارا عرصہ شاید ہم کہیں اِدھر اُدھر پھرتے رہے تھے، ”راستے“ تو مسلسل سنسان اور ہمارے منتظر ہی رہے ہیں! لہٰذا ”تشویش“ اگر اِس حوالے سے پائی جاتی ہے، اور جو کہ ایک نہایت ”امید افزا تشویش“ ہوگی، تو وہ یہ نہ ہونی چاہیے کہ یہ راستے ہم پر بند کیوں ہیں، کیونکہ یہ راستے کبھی بھی ہم پر بند نہیں تھے، بلکہ تشویش یہ ہونی چاہیے کہ یہ راستے ہم نے چلے کیوں نہیں؟ ہاں یہ تشویش جتنی بڑھ جائے ہماری نظر میں اتنا ہی اچھا ہے۔
ایسا ہو جاتا ہے، تو شاید ”متبادل“ کی وہ چیستان بھی، جو کہ روز ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہوتی ہے، آپ سے آپ ہماری جان چھوڑ جائے۔ جس سے ہمیں اپنی ”غایت“ کی بابت بھی یکسوئی حاصل ہو گی اور اپنے ”راستے“ کی بابت بھی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ
”معاشروں“ کی طرف اگر ہمارا رخ ہونے لگتا ہے، تو عمل کی وہ شاہراہیں جو ہماری توجہ سے محروم رہی تھیں، یقینا ہمیں اپنے سامنے کھلی نظر آئیں گی۔ عزائم کو منزل کی طرف رواں دواں ہونے کا وہ کھویا ہوا احساس اور اعتماد واپس ملے گا۔ ”راستے“ پر ہونے کا وثوق ہماری اِس اعصاب شکن یاسیت کو ایک صحت مند رجائیت میں بدلنے لگے گا اور یہ رکا ہوا قافلہ بفضلہ تعالیٰ ایک نئے سرے سے جادہ پیما ہوتا دیکھا جائے گا۔
جن کئی ایک ملکوں میں اسلامی تحریک نے اپنے آگے بڑھنے کیلئے کچھ راستہ صاف کیا ہے، آپ جانتے ہیں وہاں پر سب سے زیادہ محنت ”معاشروں“ کے بیچ سے گزرنے والے راستوں پر ہی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کچھ نہ کچھ امید افزا صورت سامنے آنے بھی لگی ہے(1)۔ یقینا ہر ملک کے خاص معروضی حالات ہیں۔ ایک ملک کے حالات دوسرے ملک کے حالات پر ہر پہلو سے قابل قیاس یقینا نہیں ہوتے۔ پھر بھی ہمارے سب کے سب مسلم ملکوں اور ہماری سب کی سب اسلامی تحریکوں کے مابین بہت کچھ مشترک بھی ہے، جس سے استفادہ کرنا بہر حال ہمارا حق ہے۔
ہم سمجھتے ہیں، کام کے آزادنہ مواقع جس قدرہماری اِس سرزمین میں پائے جاتے ہیں شاید ہی کہیں پائے جاتے ہوں۔ دوسرے بہت سے مسلم خطوں میں ہونے والے کام کی نسبت ہم ایک کہیں جاندار منہج کے ساتھ یہاں کے میدانِ عمل میں اترسکتے ہیں اور اللہ کے فضل سے نہ صرف اسلامیانِ ہند، بلکہ امت کے ایک بڑے حصے کی کھوئی ہوئی امیدیں بحال کر سکتے ہیں۔
ہماری تحریروں میں یہ بات اکثر بیان ہوتی ہے کہ حالات ہماری اسلامی تحریکوں کیلئے کامیابی کے جو غیر معمولی امکانات اِس وقت لے کر آ رہے ہیں، شاید اِس سے پہلے کبھی نہ لے کر آئے ہوں۔ یوں سمجھئے، ایک میدان پوری طرح خالی ہے۔ ”مایوس کن“ حالات کے اِس وقتی رخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، یہاں کچھ تیاری کر لینے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کی سرزمین پر ذرا پیر جما لیں اور پھر آگے بڑھیں تو شاید میدان اور بھی خالی نکلے اور آپ کو بہت آگے تک راستہ ملتا چلا جائے۔ پھر عالمی حالات تیزی کے ساتھ جس بہت بڑے خلا کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہو سکتا ہے یہاں وہ ہا ہا کار مچے کہ آپ کو گزرے ہوئے وقت کی بابت صرف ایک بات کا افسوس ہو اور وہ یہ کہ ”فارغ دنوں“ میں آپ اِس چیلنج کے شایانِ شان تیاری نہ کر سکے تھے اور یہ کہ اِن مواقع سے خاطر خواہ مستفید ہونے کیلئے آپ اپنے ”رجال“ پیدا کر سکے تھے اور نہ ”معاشرے کی سرزمین“ تیار کر پائے تھے۔
”رجال کی پیدا وری“ اور ”معاشرے کی سرزمین کی تیاری“، جس سے معاشرے میں اللہ کے فضل سے خود ہی آپ کی پیش قدمی کیلئے راستے کھلتے چلے جائیں گے.. اِن ہر دو ہدف کے حصول کیلئے اسلامی تحریکوں کو جن خاص میدانوں کے اندر اترنا تھا، اور اترنا ہو گا، ہماری نظر میں وہ یہ چار میدان ہیں:
1) تعلیم کا میدان
2) ابلاغ کا میدان
3) سماجی خدمت کا میدان
4) اور چوتھا میدان، جو کہ بلحاظ اہمیت سب سے مقدم ہے، وہ ہے ”داعیوں“ اور ہر ہر سوشل فیلڈ کے اندر”اسلامی قیادتوں“ کی تیاری۔
جبکہ معاشرے میں اترنے اور ”تحریک“ کھڑی کرنے کیلئے جن دو میدانوں کو بطورِ خاص بنیاد بنایا جائے گا، وہ ہیں:
1) دعوت، جس میں ”مسجد“ کا کردار بطورِ خاص زندہ کیا جائے گا، اور
2) امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
(یہ مؤخر الذکر یعنی ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“، اسلام کے اجتماعی فرائض میں سے ایک عظیم فریضہ تو ہے ہی، اپنی تحریکی جہتوں کے لحاظ سے بھی اِس قدر ڈائنامک چیز ہے کہ ہماری بیشتر تحریکوں کو شاید اِس کا اندازہ ہی نہیں۔ در اصل یہاں پائے جانے والے کچھ ”فوجداری“ لہجوں نے بھی اسلام کے اِس شعار کا بے حد نقصان کیا ہے۔ بہرحال اسلامی تحریکوں کے حق میں یہ ایک ”توانائی کا خزانہ“ ثابت ہو سکتاہے)۔
جبکہ اِس پورے عمل کی جو بنیاد ہو گی، اور سب سے نمایاں کر کے رکھی جائے گی، بلکہ جس کے بغیر آپ کے یہ سب کے سب پراجیکٹ آپ کی تحریک کو کھڑا کرنے اور معاشرے کے اندر جاہلیت کے پیر اکھاڑنے کی بجائے، الٹا یہاں جاہلیت کا پانی بھروانے کے کام آئیں گے، وہ بنیاد ہے:
”کفر بالطاغوت اور ایمان باللہ“۔ جوکہ درحقیقت لا الٰہ الا اللہ کی تفسیر ہے۔
اِس پورے عمل میں یہ بنیاد نہیں بولتی تو پھر باقی سب کہانیاں ہیں۔
یہ بنیاد جس چیز سے عبارت ہے اور جس میں اِس عمل کا سارا زور پوشیدہ ہے، وہ ہے ”جاہلیت“ کے ساتھ اپنا ایک اصیل فرق سامنے لانا اور معاشرے کے اند اُسی کو گہرا سے گہرا کرتے چلے جانا(2)۔ آپ کی اِس پوری جدوجہد سے یہ اصل کہانی روپوش ہوئی یا ذرا دیر کیلئے اگر مدھم ہی ہوئی، تو آپ کا یہ تمام تر معاشرتی کردار جاہلیت کے مردہ جسم میں ایک روح ڈالنے کے کام آئے گا البتہ آپ کے اپنے حق میں نری ایک مشقت رہ جائے گا۔ یعنی جہاں تک آپ کے اپنے مقاصد پورے ہونے کا تعلق ہے، آپ کی یہ ساری محنت اور یہ ”سماجی“ جدوجہد سراسر ضائع واکارت چلی جائے گی۔
پس اِس دعوتی و تحریکی و سماجی عمل کا یہ عنوان(کفر بالطاغوت و ایمان باللہ) وہ اصل چیز ہے جس پر بے حد محنت ہو گی اور وہ کنجی ہے جو اللہ کے فضل سے یہاں سب بند راستے کھولنے کے کام آئے گی۔
اِسلام کی یہ جو اساس ہے، یعنی ”شرک سے بیزاری اور توحید کا اِعلاء“ (اپنے ایک وسیع معنیٰ میں).. اِس کا یہ رنگ اِس پورے عمل میں پھیکا پڑا تو سب کچھ بے جان ہو جائے گا، خواہ کچھ دیر کیلئے ہمیں اپنے سامنے راستے کتنے ہی کھلے کیوں نہ نظر آئیں۔
٭٭٭٭٭
وقت کی اسلامی تحریکوں کو پس یہاں جو ”قوت“ درکار ہے، اُس کو فراہم کرنے کے یہ دو ہی بڑے محور ہیں:
1) جاہلیت کا نظریاتی ابطال.. عملاً جاہلیت سے اپنا فرق زیادہ سے زیادہ نمایاں کرتے چلے جانا.. جاہلیت کے ساتھ ”درمیانی راہیں“ چلنے کا امکان ختم کروادینا.. اور یہ آشکار کرتے چلے جانا کہ در حقیقت یہ دو ”عقیدوں“ اور دو ”ملتوں“ کی کشمکش ہے جو کہ یہاں ایک بنیادی ترین تبدیلی کو رو نما کرا لینے پر ہی کہیں سرے لگ سکتی ہے، نہ کہ ”حزبِ اقتدار“ و ”حزبِ مخالف“ ایسی کوئی واجبی کسرت جو ”سسٹم“ کی صحت اچھی رکھنے کیلئے انجام دی جائے۔ جاہلیت کے خلاف اپنے زوردار ترین دعوتی و تحریکی لہجوں کو مسلسل ایک کلائمکس کی طرف بڑھاتے چلے جانا اور اپنی تمام تر نظریاتی و سماجی سرگرمیوں کے ذریعے امت کے اندر جاہلیت کے خلاف ایک شدید ترین مزاحمت پیدا کروانا، اور باطل کو مسترد کرتے ہوئے بلکہ بلڈوز کرتے ہوئے.. ”اسلام“ پر جینے اور ”اسلام“ پر مرنے کے اجتماعی منہج پر معاشرے کو یک آواز کروانا۔
2) اِس نظریاتی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ، معاشرے کے اندر بھی جڑیں گاڑ کر چلنا اور ”باطل“ کے خلاف محض نظریاتی بحثوں (خطبوں، تحریروں، جلسوں، ’ڈرائنگ روم ملاقاتوں‘، ’چینل مناظروں‘ یا گلی گلی پھرنے ایسی کچھ ”مجرد“ قسم کی سرگرمیوں) تک محدود نہ رہنا۔ جس کا طریقہ یہی ہے کہ اسلامی قیادتیں معاشرے میں گہرا اترنے کے وہ سب سوتے ہاتھ میں کریں، جس سے یہ معاشرے کے ایک مؤثر طبقے کے اندر بولنے لگیں اور ان سب فیلڈز میں (جن کی چند مثالیں اوپر گزر چکیں) معاشرے کو دینے کیلئے مؤثر ترین قیادتیں سامنے لائیں…. تاآنکہ اِن کے اسلامی ایجنڈا کی مزاحمت معاشرے کے اندر کسی کیلئے ممکن نہ رہے اور ان کے دیے ہوئے رجحانات معاشرے پر چھا جانے کی صلاحیت سے آشنا ہوں۔ یوں اسلام کی پیش قدمی سڑکوں پر الاپے جانے والے کچھ سطحی ”نعروں“ کی صورت میں نہیں بلکہ معاشرے کی ”رگوں“ کے اندر ہونے لگے۔
٭٭٭٭٭
یہ سب امور جو اوپر نمبر وار ذکر ہوئے، ان کی وضاحت ظاہر ہے ہم اِس ایک مضمون میں نہیں کر سکیں گے۔ اِس بار کے اداریہ میں ہم ”تعلیم“ کی بابت ہی ذرا تفصیل میں جا کر گفتگو کریں گے۔ (آئندہ کسی وقت ہم ”ابلاغ“، ”سماجی خدمت“، ”داعیوں کا نیٹ ورک پھیلانے کے پراجیکٹ“، ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ اور اِس سلسلہ کے کچھ دیگر موضوعات پر قلم اٹھائیں گے، جس پر ہمارا یہ سلسلۂ مضامین ”معاشرہ اسلامی تحریکوں کا منتظر ہے“ اختتام کو پہنچے گا اور ایک مستقل تصنیف کی صورت میں دستیاب ہو گا۔ اِن شاءاللہ)۔
اسلامی ایجنڈا کو ”تعلیم“ کے چینل کی راہ سے معاشرے میں کیونکر گہرا لے جایا جا سکتا ہے؟ یہ اِس مضمون کا مرکزی نقطہ ہے، تاہم اِس کا بڑا حصہ تحریکی عمل کی ”سماجی جہتوں“ سے ہی بحث کرتا ہے۔ زیادہ تر، وہ عمومی منہج ہی یہاں ہمارے زیر بحث آئے گا جو معاشرے میں اسلامی تحریک کی راہ تکنے والے سب کے سب شعبوں کی ضرورت ہے۔ پس اِس بحث کے بیشتر نکات یہاں پرمطلوب ”سماجی عمل“ کے باقی میدانوں پر بھی اتنا ہی صادق آئیں گے جتنا کہ ”تعلیم“ پر۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو اِس مضمون کا دائرہ ”تعلیم“ سے وسیع تر ہو جاتا ہے۔
٭٭٭٭٭
آسانی مبحث کی خاطر، اور طوالت کا اثر کم کرنے کیلئے، اِس بار کا اداریہ ”فصول“ میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور ہر فصل کو الگ عنوان د ے دیا گیا ہے۔
———————————————————————
(1) یہ راستے جو ”معاشروں“ سے تو گزرے ہوں گے مگر ہو سکتا ہے ”عقیدہ“ سے نہ پھوٹے ہوں، لازمی نہیں ہر پہلو سے ہمارے لئے قابل تقلید ہوں۔ شرعی پہلؤں سے یہ جس قدر قابل اصلاح ہیں اس کیلئے ہم اپنے علمائے عقیدہ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ یہاں ہمارے پیش نظر ان تحریکی تجربات کے سماجی پہلو ہیں۔
(2) اِس موضوع کو کھولنے کیلئے ہم کئی ایک تحریریں سامنے لا چکے ہیں۔ زیادہ نہیں، تو ہمارے چند گزشتہ اداریوں کی ایک سیریز دیکھ لی جانا اِس موضوع کی بعض جہتوں کو واضح کر سکتا ہے:
1) اسلامی قیادتیں اب یا کبھی نہیں (اداریہ اکتوبر تا دسمبر 2008ء)
2) پس چہ باید کرد (اداریہ اپریل تا جون 2009ء)
3) تیز حرکت، بند راستہ (اداریہ جولائی تا ستمبر 2009ء)
4) ”دعوت“ کو نئے لہجوں کی ضرورت (اداریہ جنوری تا مارچ 2010ء)
5) ’نظام‘ نہیں ”عقیدہ“ ہی تبدیل ہونے والا ہے“ (اداریہ اپریل تا جون 2010ء)
یہ حملہ نہیں، ایک اعلان تھا۔۔
یہ اعلان کیا تھا؟
یہی کہ صہیونیت کسی بھی معیار کو نہیں مانتی۔
صہیونیت ہر ایسے معیار کو رد کرتی ہے جس کی زد اس پر پڑتی ہے۔
انسانی ہمدردی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
انسانی حقوق ہوں یا بنیادی حقوق ہو، چاہے اس کے جو بھی معنی ہوں صہیونیت اس کو قطعی طور پر رد کرتی ہے۔
بھلے ساری دنیا کے باضمیر انسان ایک طرف ہوں، بھلے مغرب کے اپنے بنائے ہوئے خود ساختہ قانون پیروں تلے روندے جائیں۔ مملکت اسرائیل کے لئے آزادی ہے جو چاہے کرے۔سات کیا سات ہزار خون معاف اور ہر بار معاف۔
کیا یہ کوئی نیا اعلان تھا؟
یہ اعلان تو آدھی صدی سے بار بار کیا جارہا ہے۔لیکن جن کو سننا چاہئے وہ سن کر نہیں دے رہے ہیں؟
اسلئے ان کو یہ اعلان بار بار کرنا پڑ رہا ہے، ہر بار پہلے سے بھی اونچی آواز میں۔
یہ اعلان کس کی طرف سے تھا؟
اسرائیل؟ یا امریکہ کی طرف سے؟
بلکہ کوئی اور بھی ہے جس کی طرف یہ اعلان منسوب کیا جاسکتا ہے؟
کیا انجمن اقوام متحدہ کو اس سے کوئی شکایت ہے؟ کیا اقوام متحدہ نے اس حملے کی مذمت کی؟
کیا اس میں کوئی شک ہے کہ یہ در اصل اقوام متحدہ کا بھی مؤقف ہے؟
کیا اس میں کوئی شک ہے کہ یہ وہی اقوام متحدہ ہے جس نے بوسنیا کے مسلمانوں کے قتل عام کو بڑے صبر سے برداشت کیا؟
کیا یہ وہی اقوام متحدہ نہیں جس کی اپنی پناہ گاہ میں1995میں بہ یک وقت سات سے آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور اس سے کچھ بھی نہ بن پڑا!
مسلمانو! یہ وہی اقوام متحدہ ہے، بالکل وہی ہے، وہی انداز ہے اور وہی کرتوت ہیں۔
٭٭٭٭٭
ایک ایٹمی طاقت جس کو اکثر بڑی طاقتوں کی اندھی حمایت حاصل ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کی مجبوری ہے۔ یہ اس کی بقا کی جنگ ہے۔
ہاں یہ واقعی اس کی بقا کی جنگ ہے۔
بھوکوں کو کھانا کھلاؤ تو اسرائیل خطرے میں ہے۔
ننگوں کو کپڑے پہناؤ تو اسرائیل خطرے میں ہے۔
مجبوروں اور بے کسوں کی مدد کرو تو اسرائیل خطرے میں ہے۔
مریضوں اور بیماروں کو دوائی پہونچاؤ تواسرائیل خطرے میں ہے۔
یہ کو نسا ملک ہے جو ہر بھلے کام سے خطرہ محسوس کرتا ہے؟
یہ کونسا ملک ہے جس نے پندرہ لاکھ کی غزہ کی آبادی کو ایک کھلا جیل بنادیا ہے جہاں ضروریات زندگی کی ہر چیز پہونچنے پر روک ہے؟
یہ کونسا ملک ہے جس نے دنیا کے بد ترین جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی مظلومیت کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے؟
٭٭٭٭٭
اسرائیل کیا ہے، اور کیسے اور کیونکر قائم ہوا۔ اب تک اس کی تاریخ کس قسم کی ظالمانہ کاروائیوں سے بھری پڑی ہے۔اور اب جو غزہ میں امدادی سامان لے جانے والے جہاز کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا، کس طر ح سے بین الاقوامی قوانین(جھوٹے ہی سہی) کی دھجیاں اڑائی گئی، کس طرح سے انسانی فطرت میں ودیعت رحم کے جذبے کا مذاق اُڑا کر اپنی مسخ شدہ فطرت کا مظاہرہ کیا گیا، کس طرح سے نہتے پرامن افراد پر جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے، مختلف نظریات کے داعی، مختلف ممالک کے باسی، مختلف پیشے سے وابستہ افراد موجود تھے ان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر باقاعدہ کمانڈو کارروائی کی گئی۔مفکرین، ڈپلومیٹ ، حقوق انسانی کی تنظیموں کے اراکین اور صحافی ان سب کو ہتھیار بند دہشت قرار دے کر بین الاقوامی سمندر پرامدادی جہاز پر دھاوا بولا گیا۔یہ کوئی گھڑی بھر میں سنانے کی داستان نہیں ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے جانبدار ہونے کے باوجوداس داستان کو اتنے انداز میں ظاہر کیا جاچکا ہے کہ ان صفحات میں سر دست مزید کچھ اضافہ کی گنجائش نہیں ہے۔
البتہ اس میڈیا کا اپنا انداز ہے اور یہ موجودہ عالمی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے بلکہ اس نظام کاہی ایک کل پرزہ ۔ کسی مجبوری کے تحت اگر کچھ حقائق کا اظہار کر بھی دیا جاتا ہے تو انہی حقائق کو کچھ دوسری اہم حقائق کو نگاہوں سے محو کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر ان معاملات میںیہ جھٹکے کو جذب (Shock absorber) کرنے کا کام بھی کرتی ہے
موجودہ دور مغرب کی سیادت کا دور ہے اور یہ کچھ مغربی نظریات پرمبنی ہے۔لیکن مملکت اسرائیل کی حیثیت اس نئے عالمی نظام میں بالکل منفرد ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مملکت اسرائیل اس عالمی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔اگر اس نظام کی معیشت سرمایہ داری ہے، معاشرت مغرب کے مخصوص تہذیبی اقدار ہیں، سیاست اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ اور اس کے زیر تحت چلنے والی جمہوریت ہے تو عالمی توازن کے خانے کو پر کرنے کے لئے اس کے پاس جو چیز ہے وہ صہیونیت ہے۔
مغرب کے اس عالمی نظام میں مذہبی ریاست ایک انتہائی ناپسندیدہ اور ہر حال میں قابل مذمت شئے ہے۔ نسل پرستی کا الزام ایک بد ترین گالی ہے۔ مغربی معاشرے کی جڑوں میں نسل پرستی مضبوط ہونے کے باوجود کوئی بھی اپنے اوپر نسل پرستی کا الزام لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ لیکن یہ صہیونی ریاست جو مذہب پرستی اور نسل پرستی کا ایک واضح ترین مجموعہ ہے اس کے لئے ہر قسم کا استثناءبھی ہے۔ یعنی عالمی قوانین، مغربی اقدار، نئے عالمی نظام کے مسلم عقائد ایک طرف اور یہ صیہونی ریاست دوسری طرف۔
یہ صیہونیت کیا ہے؟ ایک یہودی کے نزدیک اس کے کچھ معنی ہیں، ایک نیوکون عیسائی کے نزدیک اس کے کچھ اور معنی ہیں، ایک سیکیولر سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل شدہ شخصیت کے نزدیک یہ کچھ اور ہے اور ایک مؤرخ اس نظریے کو کسی اور زاویے سے دیکھتا ہے۔ لیکن ان سب میں ایک مشترک چیز بالکل شفاف اور واضح ہے۔ وہ یہ کہ ہر صورت میں اسرائیل کی مکمل، غیر مشروط اور اندھی حمایت کی جائے اور یہ حمایت اسرائیل کا ایسا حق جوکسی بھی صورت میں ساقط نہیں ہوسکتا۔
حماس پر الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ یہ ایک مذہبی شدت پسند جماعت ہے اور اسرائیل کے بے گناہ عوام پر راکٹ سے حملے کرتی ہے۔ مغرب کے اپنے تناظر میںیہ الزام کا فی وزن رکھتا اگر پی ایل او کا تجربہ نہ کیا گیا ہوتا۔ یہ یاسر عرفات جس کی جماعت میں مسیحیوں بلکہ مذہبی مسیحیوں کی کثرت رہی جو کہ اپنے سیکیولرزم کو ثابت کرنے کے لئے بڑھاپے میں ایک مسیحی عورت سے شادی بھی رچا چکے ہیں، ان کے ساتھ امریکہ اور اسرئیل نے کیا حشر کیا؟ یاسر عرفات خیر سے اپنے مسیحی ہم نشینوں کے ساتھ بڑے زور و شور سے کرسمس بھی مناتے تھے، اسلامی نظام کے داعی ہونے کے الزام سے بھی بری رہے اور ان سب “خوبیوں” کی وجہ سے ایک بین الاقوامی لیڈر کی حیثیت ان کی پہچان بھی مسلم تھی۔ لیکن ان کے ساتھ کیا کیا گیا؟ امن کی ہر نام نہاد کوشش کو ناکام بنادیا گیا۔ ابھی زیادہ دن نہیں گذرے کہ اس بوڑھے شخص کو کس طرح بمباری کر کرکے ہراساں کیا گیا اور کیسی کسمپرسی کی حالت میں اس کی موت ہوئی۔ یاسر عرفات کی موت سے بہت پہلے ہی فلسطینی عوام نے سیکیولر قوتوں کا نا اہل اور غیر مؤثر ہونا جان لیا تھا جس کی وجہ سے ہی دینی قوتیں میدان میں آئیں۔ مگر اب ان سیکیولرزم کے علمبرداروں کو حماس کی دینداری سے شکایت ہے۔ ان سب باتوں کا لب لباب اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ بے بس فلسطینی عوام کی شنوائی نہیں ہوگی، چاہے وہ سیکولر ہوں یا دیندار۔
ان سب واقعات کے تناظر میں کچھ باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ بلکہ یہ باتیں اہل نظر کے نزدیک کبھی پوشیدہ رہی ہی نہیں۔ موجودہ واقعات سے ان کی سمجھ کی توثیق ہی ہوئی ہے۔
۔۔مملکت اسرائیل اور موجودہ عالمی سیٹ اپ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر اپنے اصل کی اعتبار سے یہ ایک دوسرے کے لئے اتنے قریب نہ بھی ہوں تو اس نظام نے اسرائیل کی اتنی حمایت کی ہے کہ اس کے کسی بھی اقدام کی مخالفت اسکی اپنی مخالفت کے مترادف ہو گی۔
۔۔امریکہ کی طرف سے مملکت اسرائیل کو مکمل چھوٹ حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس چھوٹ کے دینے میں سیکولر طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں اور بنیاد پرست عیسائیوں اور یہودیوں کے اپنے نظریات۔ سیکیولر اور مذہبی طاقتوں میں بعد المشرقین ہونے کے باوجود اسرائیل کو اندھی بہری حمایت کرنے میں ان میں حد درجہ اتفاق پایا جاتا ہے۔
۔۔ امریکہ کے اپنے مفادات بھلے جو کچھ بھی ہوں اسرائیل کی حمایت کے معاملے میں امریکہ کی اپنی عالمی ساکھ اور مفادات قطعاً کوئی معنی نہیں رکھتے۔
۔۔ موجودہ عالمی سیٹ اپ میں اسرائیل کو جو مقام دیا گیا ہے یہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہی دیا گیا ہے۔ کچھ مجبوریوں کے تحت اسرائیل کے خلاف تجاویز بھلے پاس ہوجائے، اس عالمی سیٹ اپ میں اقوام متحدہ کے تحت اسرائیل کے خلاف کوئی تادیبی کارووائی ممکن نظر نہیں آتی۔
۔۔اتنے شدید عالمی رد عمل کے باوجود امریکہ سے یہی متوقع تھا کہ وہ اسرائیل کو یکہ و تنہا ہونے سے بچانے کے لئے اس کی مذمت کرنے سے گریز کرے گا۔ لیکن اقوام متحدہ نے جس طرح کسی مذمت سے گریز کیا اور ہونے والی موتوں پر اظہار افسوس پر اکتفا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے بعد بھی اقوام متحدہ سے کوئی توقع رکھنا قطعاً حماقت ہی ہوگی۔
۔۔”اسلامی ممالک” نے جس طرح کا رد عمل دکھایا ہے اس کے بعد ان سے عالمی سیاسی نظام میں کوئی مثبت کردار کی توقع رکھنا عبث ہے۔
۔۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مغرب اپنی تمام خرابیوں کے باوجود اپنے اندر ایسے کچھ منصف مزاج مفکرین رکھتا ہے جو یہودی ہوتے ہوئے بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسی کی مخالفت کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی تمام کوششوں کے باوجود مغرب اپنے مجموعی طرز عمل میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا روادار نہیں ہے۔
۔۔ امدادی بحری بیڑے ”فریڈم فلوٹیلا“ پر حملہ کرنا اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ، اسرائیل اپنی بنیادوں کو کتنا کمزور(Vulnerable)پاتا ہے۔ اسے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ وہ اگر ذراسا بھی دب کررہے گا تو پھراسے ابھرنے کے لئے موقعہ ہی نہیں ملے گا۔
۔۔ ان سب حالات میں ترکی نے جو رول ادا کیا ہے، بے اختیار ترکان عثمانی کی یاد آجاتی ہے۔حالات نے جو رخ اختیار کیا ہے اس میں سلطنت عثمانی کی فتوحات اور عظمت رفتہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ ترکی کے پاس اپنے تاریخی ورثے کے طور پر جو کچھ بھی ہے اس کو وہ اسلام سے علیحدہ کرہی نہیں سکتا۔کئی دہایوں پر مبنی سخت ترین سیکیولر نظام اور اسرائیل کے ساتھ قریب ترین سفارتی اور تجارتی تعلقات کے باوجود ترکی اپنے آپ کو اسلام سے الگ نہیں کرسکا۔ پاکستان بلکہ ہر مسلم ملک کے سیکولرسٹوں کے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس وقت جو مسلم اکثریتی ملک کھل کر میدان میں آئے گا اس کے لئے امت مسلمہ کی قیادت کی باگ ڈور ہاتھ میں لینا انتہائی آسان ہوگا۔امید یہی ہے کہ عالم عرب کے خوابیدہ حکمرانوں کو آہستہ آہستہ ہوش آجائے گا۔
قوموں کی ترقی اور عروج و زوال سے انسانی شخصیت کی ترقی کا گہرا تعلق ہے
انسانی زندگی میں ”روحانیت“ اور ”اخلاقیات“ کی اہمیت کتنی ہی شدید ترین کیوں نہ ہو، ”مادّیت“ کے علم اور اپنے دور کی مادّیت کے ساتھ پورا اُترنے میں اس کے تقاضوں کو مدِّ نظر رکھنا، خود روحانیت کے پیغام کو دنیا میں زندہ و تازہ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
”دنیا میں اِنسان کیوں اور کس لیے آیا ہی؟“ یہ ایک فطری سوال ہے جو ہر انسان کے ذہن میں ضرور اُبھرتا ہے۔ اِس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش اور جستجو اِنسان کو علم و عرفان کی طرف لے کر جاتی ہیں۔علم کی اصل طلب اور پیاس اِنسان کے اندر خود اُس کی ذات سے متعلق سوال سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر ایک چیز کے بارے میں بھی اُس کے ذہن میں اِسی قسم کے سوالات اُٹھتے ہیں جو اُسے علم کی راہوں میں گامزن رکھتے ہیں، اور کہیں نہ کہیں اُسی اوّلین سوال سے آکر جڑ جاتے ہیں۔
انسان خدا کی قدرت اور تخلیق کا عجیب شاہکار ہے۔ کائنات کا مشاہدہ اُسے جن سوالات تک لے کر جاتا ہے،یسا لگتا ہے جیسے یہ سب سوالات پہلے سے اُس کے اندر ہی کہیں موجود تھے، جو وقت آنے پر برآمد ہو گئے۔! پھر جب وہ ان کے درست جوابات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اُسے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام جوابات بھی اُس کے اپنے اندر ہی کہیں سے دریافت ہوئے ہیں۔!! یوں اُس کا کائنات کو سمجھنا اور جاننا گویا اپنی ذات کو دریافت کرنے ہی کی ایک کوشش ہوتی ہے،اور خود کو پہچاننا، کائنات کو بوجھنے ہی کا ایک تسلسل۔
اِنسان کے اندر سے سوالات کو برآمد کروانا اور پھر اُسی کے اندر سے جوابات کو تلاش کروانا دراصل ”تعلیم“ ہی ہے۔
٭٭٭٭٭
انسانی شخصیت اگر کسی ایک ہی پہلو کو محیط ہوتی اور محض ایک ہی حوالے سے بیان کی جا سکتی ہوتی تو پھر یہ دنیا بھی اِس قدر رنگارنگ اور ہمہ اقسام کی اشیاءاور کیفیتوں کا مجموعہ ہونے کی سزاوار نہ ہوتی۔ اِنسان کے اندر مختلف صفات اور ہمہ رنگ خصوصیات کی بوقلمونی کی گئی ہے تو اِسی لیے کہ یہ دنیا کے ہر ایک رنگ کے ساتھ ایک بھرپور تفاعل کرے۔ اور اِس ناتے دُنیا کے ہر اِک رنگ کا عکس پہلے خود اپنی ذات کے اندر دریافت کرے۔
دنیا سب کی سب اِنسانوں ہی کے لیے ہے۔ پھر دونوں کے رنگوں کے تنوع اور اُس کے امتزاج میں ہم آہنگی کیوں نہ ہوگی؟!
ایک کثیر الجہت شخصیت کا حامل ہونا اِنسان جیسی مخلوق کے ہی شایان ِ شان تھا۔ یہ مخلوق جب اپنی اِس عظیم صفت کو پہچان کر اُس کی قدر دانی کا حق ادا کرتی ہے تو یہ دُنیا بھی اپنے تمام رنگوں سمیت اُس کے لیے درِ دل وا کر دیتی ہے۔
اِنسان کسی خود کار شے کا نام نہیں ہے۔ وقت، حالات اور زمانے کی گردشوں کے حساب سے اُس نے دنیا کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھنا اور معاملات کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔اپنی شخصیت کے فکری پہلو سے ہٹ کر بھی وہ دنیا میں اپنے ایک ایک لمحے کا اثر مُرتب کرتا ہے،اپنی ذات پر بھی اور اپنے ماحول پر بھی۔
چنانچہ صاحب ِ عقل و شعور ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک احساس کی دنیا اور جذبوں کا ایک جہان بھی اپنی ذات کے اندر سدا آباد رکھنے والی مخلوق ہے۔ اِس کی ایک” نفسیات“ ہے۔ قدرت نے اس کے اندر ”جمالیات“ کی جوہرکاری بھی نہایت خوب کر رکھی ہے۔ یہ ایک ”معاشرتی حیوان“ بھی ہے۔ اِس کی ایک ”اخلاقیات“ بھی بہرحال ہوتی ہے۔ اِس کے اندر ”روحانیت“ کی طلب بھی بہرکیف پائی جاتی ہے،وغیرہ وغیرہ۔ پھر اِن میں سے ہر ایک کی کئی ایک شکلیں اور شاخیں ہیں، جن کے پھر اِنسان کی شخصیت میں پنپنے کے اپنے اپنے تقاضے ہیں۔
قدرت نے جب اِنسان کی شخصیت میں اِتنے مختلف پہلو ودیعت کر رکھے ہیں تو ہر ایک کی اہمیت کو زمانے میں ایک بھرپور اِنسانی کردار کے ادا ہونے کے لیے مدِّ نظر رکھنا اَز بس ضروری ہے۔ اِنسانی شخصیت کے اِن سب پہلوؤں میں سے آپ محض کسی ایک کو نکال لیجیے۔ آپ کے سامنے جو کچھ ہوگا وہ بظاہر کتنا ہی کارآمد کیوں نہ ہو، اِنسان کہلانے کے لائق بہرحال ہرگز نہ ہوگا۔
ممکن نہیں ہے کہ خالق و فاطر نے اِنسان کے اندر کوئی چیز ودیعت کر رکھی ہو اور دنیا میں اِنسان نے اپنا جو جو کردار ادا کرنا ہے،اُس میں اُس کا کوئی اہم حصہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت کے یہ مختلف پہلو اپنی انفرادی اور isolated حالت میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے۔ ہر ایک پہلو اپنے دیگر اِنسانی پہلوؤں کی موجودگی میں ہی کارآمد و مؤثر ہے،اور اُن کے بغیر ایک لایعنی شے۔ ایک کم سے کمتر صلاحیتوں کا اِنسان بھی اگر اِنسان ہے تو اِسی وجہ سے کہ اُس کی شخصیت کے اندر یہ سب پہلو جمع ہیں، خواہ کتنے ہی غیر ترقی یافتہ حالت میں ہوں۔
چنانچہ انسانی شخصیت کے کسی ایک پہلو کے زیادہ سے زیادہ مؤثر ہونے کا تعلق بڑی حد تک اُس کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں کے ترقی یافتہ ہونے سے بھی ہے۔ شخصیت کے یہ سب مختلف پہلو ہیں ہی اِسی لیے کہ باہم ایک دوسرے کے کام کو تقویت پہنچائیں ، اور اُس کو زیادہ سے زیادہ مُفید و مؤثر بنانے میں اپنا اپنا کردار بھی بھرپور انداز میں ادا کریں۔ مگر یہ تبھی ممکن ہے جب انسانی شخصیت میں اِن سب جہتوں کو ایک مناسب حد تک پھلنے پھولنے اور نشو و نما و افزائش حاصل کرنے کے مواقع میسر آئے ہوں۔
ایک بھرپور اور متوازن انسانی شخصیت ہر دور کی ضرورت رہی ہے۔ ہر دور میں کامیاب انسان وہی لوگ رہے ہیں جن کی شخصیت میں جامعیت اور توازن زیادہ سے زیادہ پایا جاتا رہا ہے۔ کامیاب اور ترقی یافتہ معاشرے بھی وہی ہوتے ہیں جن میں ایسے لوگوں کا تناسب زیادہ سے زیادہ پایا جاتا ہے۔اِس لحاظ سے آج کے مُسلم معاشروں کو دُنیا میں پھر سے عزّت و سرفرازی دلوانے اور اپنا آپ منوالینے کے لیے ایک بڑی اور انتہائی اہم ضرورت جامع اور متوازن شخصیت کے حامل مسلمان افراد کی تیاری ہے،جس کے لیے یہاں کے تعلیمی اور تربیتی سسٹم نے ہی اپناکردار ادا کرنا ہے۔
نئے دور کا جو فکری چیلنج ہے،سو ہے۔اُس سے بڑھ کر اب مزید چیلنج یہ ہے کہ اُمّت ِ مسلمہ کو کثیر تعداد میں ایسے افراد میسر آئیں جن کی شخصیت میں موجودہ زمانے کی نسبت سے ایک جامعیت اور ایک توازن پایا جاتا ہو، اور جو فکر کو عمل کے میدانوں میں اُتار دینے کی اہلیتوں سے مالامال ہوں۔
٭٭٭٭٭
”تہذیبوں کا تصادم“ دراصل فکری بنیادوں پر لڑا جانے والا وہ معرکہ ہوگا جس کے انجام کا اِنحصار فکر کی حقانیت کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک فریقوں کی اہلیتوں پر بھی ہوگا۔ (واضح رہے کہ اہلیتوں سے ہماری مُراد وسائل اور ٹیکنالوجی کی فراوانی ہرگز نہیں ہے۔بلکہ یہ چیزیں بھی جب ہوں گی تو اہلیت کی وجہ سے، اور اُسی کی موجودگی میں ہی کارآمد و مؤثر ہوں گی۔)
یہ جو بات ابھی بیان ہوئی وہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ کچھ دینی تحریکوں کے ہاں سے بھی برسوں سے دہرائی جا رہی ہے،بہ عنوان ”صالحیت و صلاحیت“۔ لیکن ایک بہت مختلف تناظر میں؛ یعنی حکومت کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے خود کو حقدار ثابت کرنے کے حوالے سے، نہ کہ اُمّت ِ مسلمہ کی تعلیم و تربیت کرنے کے لیے۔
البتہ صا لحیت کی اصطلاح کے اِستعمال سے اُس فکری ضرورت کی مکمل ترجمانی نہیں ہوپاتی جو یہاں کی تحرایکوں کے لیے اُمّت کی تعلیم و تربیت اور خود یہاں کے سیاسی عمل (جس میں شمولیت کے لیے وہ اِس خاصیت کو لازمی قرار دیتے ہیں) سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے ضروری ہے۔ نہ صلاحیت ہی سے اُن کی وہ مراد بن پاتی ہے جو ایک فرد کی شخصیت کے ہر پہلو کے حوالے سے لی جاتی ہو۔ زیادہ سے زیادہ اِس صلاحیت سے اُن کی مراد قیادت کی وہ اہلیت ہوتی ہے جوخاص میدان ِ سیاست میں، سایکولروں کے بالمقابل، اُن جماعتوں کے اندر اندر رہتے ہوئے، عمل میں لائی جائے۔
بلاشبہ آج مسلم شخصیت کے لیے درکار صلاحیت کو واضح کرنے کے لیے ”قیادت کی اہلیت“ سے بہتر شاید کوئی اور تعبیر نہ ہو۔لیکن یہ ایک ایسی قیادت ہوگی جومحض کسی ایک مخصوص میدان ِ عمل سے وابستہ نہ ہو، اورنہ ہی صرف اپنی جماعت یا تنظیم کے لیے ہو،جس کی جماعت سے باہر کہیں دال ہی نہ گل سکتی ہو۔ بلکہ وہ ایک جامع قیادت ہو جو زندگی کے تمام میدانوں کو عمومی طور پر محیط ہو۔
اِن سب کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اُمّت کے سنجیدہ طبقے بڑے عرصے سے قیادت کے اِس خلا کو دور کرنے کی دُہائی دے رہے ہیں۔ اور اِس سلسلے میں تعلیم کے کلیدی کردار پر بھی زور دیتے رہے ہیں۔
بلاشبہ یہاں کی دینی _ تحریکی و غیر تحریکی_ دنیا میں جدید تعلیم کے حوالے سے بھی خاصی کوششیں کی گئی ہیں۔ لیکن بڑی حد تک وہ (”اِسلامی نصاب“ کی پیوند کاری کے ساتھ) پہلے سے چلے آنے والے ایک لگے بندھے نظام ِ تعلیم سے ہی وابستہ نظر آتی ہیں۔ جس کی غایت و مقصود بالآخر رائج امتحانی نظام سے اچھے نمبروں سے ”پاس “ہو جانا ہی ہوتاہے۔ گویا یہی یہاں کی اہلیت کا آخری معیار ہی!!
آپ اپنے نونہالوں کو کچھ بھی پڑھا اور سکھا لیں، گھوم پھر کے انہوں نے ابتدائی اور اہم ترین مرحلے میں ”میٹرک“ یا زیادہ سے زیادہ او لیول کا اِمتحان ہی دینا ہوتا ہے۔ چنانچہ تعلیمی اداروں کی سب کوششیں سمٹ کر امتحانات کی تیاری پر مرکوز ہو رہتی ہیں۔جس کا کوئی تعلق شخصیت کی تعمیر و ترقی اور کردار سازی سے نہیں ہوتا۔ بلکہ ابتدائی درجوں میں دی جانے والی تعلیم بھی اِس طرح اور ایسے خطوط پر دی جاتی ہے کہ بچے آگے جا کر بس میٹرک یا او لیول کے امتحان کی تیاری کے اہل ہو سکیں۔ا متحان سے گزرنے کی دیر ہوتی ہے کہ طلبہ،والدین، اساتذہ اور تعلیمی اِدارے سب سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ گویا ایک بڑا معرکہ تھا جو سَر کر لیا گیا!!! پھر اِمتحانات میں اچھے نمبرز، اعلٰی گریڈز اور پوزیشنز لینے کی ایسی جنون آمیز دوڑ لگی ہوتی ہے کہ توبہ ہی بھلی! جن تعلیمی اِداروں میں طلبہ کے اچھے گریڈز اور پوزیشنز آتی ہیں وہ سب سے اچھے تعلیمی اِدارے شمار کیے جاتے ہیں جہاں اپنے بچوں کو داخل کرانا والدین کا خواب ہوا کرتا ہے۔!!
بچوں کی شخصیت کی تعمیر و ترقی اور کردار سازی البتہ وہ چیز ہوتی ہے جو اِس سب بھاگ دوڑ، دھکّم پیل اور شور و غوغا سے بڑی حد تک غیر متعلق ہی ہوتی ہی!
میٹرک کے امتحان کی اہلیت؟؟!!! سبحان اللہ! کیا یہاں میٹرک کا امتحان بچوں میں سرے سے کسی قسم کی اہلیت پیدا بھی کرتا ہی؟؟!! اگر ایسا ہوتا تو پھر تو رونا ہی کس بات کا تھا۔
بنیاد جس نہج پر پڑ چکی ہو، باقی عمارت بھی پھر اُنہی خطوط پر تعمیر اور اُستُوار ہوتی ہے۔ چنانچہ آگے جا کر اِنٹر میڈیٹ، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن وغیرہ کی تعلیم بھی اِسی امتحانی نظام کے زیر اثر، ذہنوں اور شخصیتوں کوانتہائی تنگ اور مخصوص سانچوں میں ڈھالنے کے کام آتی ہے۔ جس سے آگے جانا پھر کبھی اِنسان کے بس میں نہیں رہتا۔” تعلیم برائے ڈگری بذریعہ مروجہ امتحانی نظام“ صرف طلبہ اور والدین کا ہی مطمح نظر نہیں ہوتا بلکہ تمام مشنری و غیر مشنری، ”فار پرافٹ“ اور ”ناٹ فار پرافٹ“، اسلامی و غیر اِسلامی جدید تعلیمی اِداروں کا بالآخر یہی مقصد ہوتا ہے کہ عمدہ ڈگری ہولڈرز کو سند ِ فراغت سے شاد کام کیا جائے، اور یوں رائج تعلیمی نظام کا ایک پرزہ بن کراور اُسی کی منشا کے مطابق لوگوں کو تیار کر کے خود کو ذمّہ داریوں سے سبکدوش سمجھا جائے۔
ہمارے تدریسی نظام کی اصل روح ہمارا امتحانی نظام ہے جو اِس بات کا تعیُّن کرتا ہے کہ تدریس کیسے کی جائے، کس چیز کی کی جائے اور کس چیز کی نہ کی جائے۔ طلبہ کی کارکردگی کا جو امتحان ایک محدود وقت کے اندر لیا جاتاہے وہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ طلبہ سے تحریری سوالات کے ذریعے ایک محدود سے انداز میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو کچھ اُنہیں ”پڑھایا“ گیا تھا وہ اُنہیں کتنا آتا ہی! البتہ چونکہ اِس امتحان کا مقصد یہ معلوم کرنا نہیں ہوتا ، اور نہ ایسے کسی امتحان کے ذریعے یہ معلوم کرنا ممکن ہی ہے،کہ طلبہ کی شخصیت اور کردار کی مختلف جہتوں میں کیا ترقی اور تبدیلی رونما ہوئی، لہٰذا خود تدریس کا ہدف اور فوکس طلبہ کی شخصیت میں تبدیلی نہیں ہوتا، بلکہ صرف امتحان ہی لینا ہوا کرتا ہے،جس کا تعلق مضمون سے ہوتا ہے نہ کہ طلبہ کی شخصیت سے۔ تدریس بھی پھر صرف انہی چیزوں کی کی جاتی ہے جن کا اُس محدود وقت میں ”تحریری“ امتحان لیا جاسکتا ہو۔ البتہ جن چیزوں کاامتحان لیا جانا مشکل ہو یا کسی وجہ سے ممکن نہ ہوسکتا ہو، اُن کی تدریس کی پھر ضرورت ہی باقی نہیں رہتی! خواہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کتنی ہی اہم ہوں، اور انسانی سیرت و کردار سے اُن کا کتنا ہی گہرا تعلق ہو۔ اندازہ کیجیے، ایک تو تدریس کی تمام تر حدود کا اِنحصار امتحان اور اُس کے طریقۂ کار پر ، اوپر سے امتحان بھی محض تحریری!!!
اور پھر مخصوص نصابوں، کتابوں، سرگرمیوں اور دورانیوں کی تنگنائے میں نونہالوں کے دریائے جستجو کو مقیّد کر رکھنا اور اُن کی طلب و کسب ِ علم کا دھارا اپنی مرضی اور صوابدید سے مقرر و متعین کر رکھنا اپنی جگہ الگ ایک سوال ہے۔ اِنسانی صلاحیتوں کا مقصد اور مصرف چونکہ اِس نظامِ تعلیم میں پہلے سے طے ہوتا ہے لہٰذا اِس نظام کے تمام کَل پُرزے نصاب سے لے کر تدریس تک اور سرگرمیوں سے لے کر امتحانی طریقوں تک اِسی مقصد اور غایت کے حصول کے لیے ایک مخصوص ترتیب اور انداز سے فِٹ ہوئے ہوتے ہیں۔ اِنسانی شعور اور صلاحیتیں اِس نظام سے گزرنے کے نتیجے میں جس طرح نمو پاتی ہیں وہ اُن کے پروان چڑھنے کی ایک خاص ہی سمت ہوتی ہے۔ لوگوں کی سوچوں اور نظریات کا دھارا ان کے زبردست اختلاف اور تنوع کے باوجود آخر ِ کار ایک ہی سمت پر مرکوز ہو نے لگتا ہے۔ لوگوں کے اپنے نظریات خواہ کچھ بھی ہوں، دنیا کو دیکھنے اور اُس کے اندر اپنا کوئی کردار اَدا کرنے کا بالآخر وہی رُخ اور وہی انداز اختیار کرنا لوگوں کی عادت اور فطرت بن جاتا ہے جو یہ نظام اُن سے چاہتا ہے اور جس سے اُن کو برسوں گزارتا بھی رہا ہوتا ہے۔ اِس انداز سے ماورا ہو کر کوئی اور انداز اور جہت اختیار کرلینا تو دور کی بات ، اُس کا تصور بھی کر لینا لوگوں کے لیے ایک ناممکن سی بات ہو جاتی ہے۔
یہ ایک تیز رفتار مشینی عمل ہے،جو بلا استثناءیہا ں کے تمام جدید تعلیم کے اِداروں میں تعلیم و تربیت کے نام پر جاری ہے،جس میں ایک طرف تو یہاں کا اِمتحانی نظام اپنی فطری محدودیت کے سبب نونہالان ِ قوم کے اکتسابی عمل (learning process) کو نہ صرف حد درجہ محدود کر دیتا ہے بلکہ اُن کی طلب ِ علم کی ایک طرح سے غایت (driving force) بھی بن جاتا ہے۔ چنانچہ، جس جگہ امتحان کا ”جبر“ نہ ہو وہاں طلب ِ علم بھی مفقود ہوتی ہے۔ دوسری طرف خود جدید تعلیم کا مقصد، جو کہ یہ ہے کہ لوگ فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک کامیاب زندگی (کامیاب بمعنی خوشحال) گزارنے کے اہل ہو سکیں،پہلے سے طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اِداروں بلکہ پورے معاشرے میں طے شدہ ہوتا ہے اور اِس نظام کی رگوں میں خون کی طرح گردش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ آخری حد تک اِس بات کا تعین کرتا ہے کہ طلبہ کی شخصیت میں کیا چیزیں پیدا کرنا ضروری ہے،اور کیا سرے سے نہیں۔ جبکہ درحقیقت یہ تعلیمی نظام جو چیزیں با ئی ڈیفالٹ پیدا کرتا ہے اُن سے کہیں زیادہ اہم وہ چیزیں ہیں جو یہ پیدا ہی نہیں کرسکتا۔
ایک خوشحال زندگی گزارنے کا اہل ہونے کے لیے اچھی سیرت و کردار کا حامل ہونا کیا ضروری ہے!!؟ بلکہ ہمہ اقسام کی اِنسانی صلاحیتوں کا مالک ہونے کی بھی کیا ضرورت ہے!؟
اِک صورت ہے خرابی کی جو اِس نظام کی تعمیر میں مُضمِرہی
حقیقت یہ ہے کہ وہ نظام جس کی بدولت کسی قوم کے معماران ِ مستقبل کی سوچ اور ذہنوں کو جکڑ کر ایک مخصوص طریق اور رُخ پر لا ڈالنے کانہایت جامع او ر ”فول پروف“ اہتمام کیا جاتا ہے،اُسے جدید تعلیمی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ وہ ٹکسال ہے جس کے ذریعے ایک پوری کی پوری قوم کو برسہا برس تک ایک ہی طرح کے خطوط، نقشے اور ڈیزائن میں ڈھالا جاتا ہے۔ قوموں کی قومیں اِس طرح صدیوں تک گھر بیٹھے غلام رکھی جا سکتی ہیں۔ اپنی پسند کے، سُدھائے ہوئے افراد اور اقوام کی تیاری ایسے کسی تعلیمی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتی تھی جس میں لوگ بظاہر پڑھتے تو وہی کچھ ہوں جو وہ خود چاہتے ہوں (بشمول اِسلامیات!!) البتہ اِس نظام کا تعلیمی عمل لوگوں کو اِسی قابل بناتا ہو کہ وہ دنیا کے ہر معاملہ کو بالآخر، کہیں نہ کہیں اُسی نظر اور اُسی انداز میں دیکھیں جس طرح اُن کے آقا اور وقت کے کارپردازان ِ عالَم چاہتے ہیں۔
اب وہ زمانہ لد گیا جب ایک قوم کسی دوسری قوم کے اندر انفرادی یا جزوی طور پر اپنے نظریات اور طور طریقوں کی آمیزش کردیا کرتی تھی۔ اب یہ زمانہ ہے نظاموں اور طریقہ ہائے زندگی کے لین دین کا۔ اب قوموں کی زندگیوں میں اپنی چیزوں کی آمیزش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ انہیں ”سسٹم“ بناکر دے دیں اور اُس کے اندر ساری چیزیں بے شک اُنہی کی رہنے دیں۔ یوں وہ اپنی جزئیات میں مگن اور خوش ہوتے رہیں گے ، جبکہ ایک کُل کی حیثیت میں سب کچھ آپ ہی کا ہوگا اور آپ کے اُصولوں کے عین مُطابق۔
ایک غلام قوم کو صدیوں تک غلام بنائے رکھنے کا اِس سے بہتر نسخہ کیا ہوگا؟! ایسی غلامی بھی اسی جدید، ترقی یافتہ دور ہی کی مرہون ِ منّت ہو سکتی تھی، جس میں ایک قوم جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جاتی ہے اُسی قدر غلامی کے طریقوں اور رسموں میں راسخ، پختہ کار اور مضبوط ہوتی جاتی ہے۔
یہ نظامِ تعلیم اپنی بنیادوں سے ہی ایک مادہ پرست اور لادین نظام ہے۔ اِس کی اِس نوعیت کا ادراک کرنے کے لیے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ اِس کا آغاز کس طرح ہوا۔
تاریخ ِ انسانی کا ایک بڑا زمانہ اِس طرح گزرا ہے کہ جب اِنسان کی تعلیم حاصل کرنے کی اپروچ سر چشمہ ہائے علم سے اتصال کرتے اور کراتے رہنا اور وہاں سے ہدایات لیتے رہنا ہی تھی۔ سولہویں، سترہویں صدی سے قبل ابھی اِنسانی دنیا اِس قدر ”مہذب“ نہ ہو سکی تھی کہ مذہبی نقطۂ نظر سے ماوراو آزاد ہو کر کائنات اور اُس کی موجودات کو دیکھنے اور پرکھنے کے قابل ہوتی ۔ مذاہب کا آغاز و انتہا اُن کی وہ خصوصیت ہوتی ہے جسے ”غیبیات“ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ غیبیات ہی مذاہب کی ایمانیات ہوتی ہیں۔ مذہب کو ختم کرنا ہو تو اس صفت کو اس کے اندر سے سلب کر لیجیے، باقی کچھ بھی نہ بچے گا جس کو مذہب کہا جا سکے۔ اور غیبیات مذہب کا وہ خانہ ہوتا ہے جس پر کوئی سوال وارد کیے بغیر جوں کا توں ہی قبول کیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ تمام مذاہب میں متفقہ طور پر اسے گھڑا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ مذہب میں اس لحاظ سے ایک تو پہلے ہی عقل کی ”محدودیت“، اوپر سے تحریف شدہ اور بعض غیر آسمانی مذاہب کا اپنی اپنی غیبیات کی بابت کلی طور پر ماورائے عقل ہونے پر اصرار نے ”سونے پر سہاگے“ کا کام کیا۔ چنانچہ انسان کی زیادہ تر توجہ ان علوم کی طرف منتقل نہیں ہو سکی، جن کی دریافت، تحقیق اور تدوین تمام کی تمام اور بالکل ابتدا ہی سے عقل کی مرہونِ منت ہوتی ہے،بلکہ ان کو بھی ”غیبی آنکھ“ سے دیکھا جاتا رہا۔ (ہم ابھی یہاں کسی شے کے حق یا مخالفت میں دلائل نہیں رہی) یا یوں کہیے کہ اس توجہ کی کوئی خاص ضرورت ہی نہیں پڑی۔ چنانچہ دنیاوی علوم ان ادوار میں موجودہ دور کی نسبت خاطر خواہ ترقی نہ کر سکے۔ اسی وجہ سے ان ادوار کے نظامِ تعلیم یا تعلیمی اپروچ اور موجودہ ادوار کی تعلیمی اپروچ میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
پھر سترہویں صدی میں جب عقل کو کلیسا کے مذہبی جبر اور استبداد سے نجات دلا دی گئی، اور انسانی فکر تمام ضروری اور غیر ضروری بندھنوں سے آزاد بلکہ مادر پدر آزاد ہو گئی تو ایک بیک انسانی سوچ کا زاویہ ہی بدل گیا، اور کائنات ، اس کے مظاہر اور معاشرے لوگوں کو ایک نئے انداز سے نظر آنے لگے۔ تب انسانی عقل ودانش کا تمام تر فوکس مادے اور اس کے مظاہر پر مرکوز ہو گیا۔ چنانچہ جلد ہی نت نئی دریافتیں اور تحقیقیں سامنے آنے لگیں۔ اور دنیاوی علوم دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگے۔ خدا کے بغیر ہی اپنی دنیا یوں بنتی اور پھلتی پھولتی دیکھ کر مذہب اور اس کی ایمانیات کو دیس نکالا دیے جانے پر اور بھی ”شرح صدر“ نصیب ہوا۔ اور پچھلے ادوار میں ترقی نہ ہونے کا اولین سبب مذہب گردانا جانے لگا۔ اگرچہ کلیسا کے کفر، مذہبی جبر اور تحکم و تشدد کے مقابلے میں یہ انتہا بھی کچھ کم بدتر نہ تھی، بلکہ اُس سے کچھ زیادہ ہی تھی، لیکن اس کے نتیجے میں انسانی صلاحیتیں اپنی آخری حد تک نکھر کر سامنے آنے لگیں۔ صرف مادے اور دنیا ہی کو اپنا سب کچھ اور اول و آخر مان لینے کے نتیجے میں انسان کا فکری ، ذہنی اور طبعی تفاعل مادی حقائق و اشیاءکے ساتھ بے اندازہ حد تک بڑھ گیا۔ یوں مادے سے ڈیل کرنے کی ہر دو اقسام کی (یعنی ذہنی و طبعی) انسانی صلاحیتیں اپنی بلندیوں کو چھونے لگیں۔ تب ان صلاحیتیوں کو باقاعدہ دریافت کر کے ان کی منظم درجہ بندی کی گئی۔ اور دنیا کی ترقی اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ان صلاحیتیوں کو فرد کے لیے ضروری قرار دیا گیا ۔ اس کے لیے پھر باقاعدہ نظامِ تعلیم وضع کیا گیا جس میں انسانی نفسیات اور ذہنی ساخت کی نشوونما کے اصولوں کو بطورِ خاص مدّنظر رکھا گیا۔ البتہ مذہب کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جانے کے سبب جہاں بہت سی اقدار، اخلاقی معیارات اور سماجی ساختیں تہ وبالا ہوئیں، وہیں تعلیم پر بھی اس کے زبردست اثرات مرتب ہوئے اور ایک بالکل جدا طرز کا معاشرتی نظام وجود میں آیا۔
مذہب سے گلوخلاصی کے بعد اب انسان کی توجہ اور مطالعے کا مرکز دو ہی چیزیں تھیں۔ ایک یہ مادی کائنات اور اس کے مظاہر، اور دوسرا خود انسان ، اس کے رویے اور اس کی ذہنی و نفسیاتی ساخت ۔ اور اس مطالعے کی بنیاد یا مصدر بھی اس کے اپنے تجربات و مشاہدات ہی تھے۔ مذہب سے چھٹکارے کا اب یہ ”فائدہ“ ہوا کہ مادی اشیاءاور واقعات کی کسی شرعی ، آسمانی ، غیبی، یا الہامی علت سے مکمل نجات و برأت حاصل ہوگئی، اور چیزوں کی حقیقت یا سببیت (causation) آخری حد تک ان کے مادی وجود کے اندر ہی کہیں تلاش کی جانے لگی۔ پہلے صورتحال اگر یہ تھی کہ ہر واقعے کی تفسیر و توجیہ اغلب طور پر مذہبی و غیبی نقطۂ نظر سے کی جاتی تھی، تو اب معاملہ کچھ یوں تھا کہ ہر ایک چیز کی علیت خود اس کے اپنے مادی وجود سے کہیں باہر تصور نہ کی جاتی تھی! گویا پہلے جو چیز (یعنی عالمِ غیب) اشیاءکی اصل علت ہونے کے ناتے انسانی زندگی کا اہم ترین محور تھے، لیکن انسان کی دسترس سے بدیہی طور پر باہر ہونے کی وجہ سے اس کے اشیاءکی کھوج کرید میں مشغول ہونے میں بڑی حد تک مانع تھی ، اب اس چیز کے درمیان سے بالکل ہی ہٹ جانے کی وجہ سے اشیاءکی مادی علتوں اور انسان کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ یعنی ایک چیز جو اُصولی طور پر انسانی دسترس میں تھی اُس کو انسانی تصرفات سے بالفعل دور رکھنے کا سبب وہ چیز بنی جو خود متفقہ طور پر انسانی دسترس و تصرفات کی حدود سے باہر تھی!!! اب یہ پردہ ہٹا تو تو جو چیز دسترس میں تھی وہ آپ سے آپ تصرف میں بھی آنا شروع ہو گئی!
چنانچہ، ایک طرف تو یہ ہوا کہ مادے کے عمل کرنے کے اصول اپنی باریک سے باریک سطح تک انسانوں کی توجہ کا مرکز تھے تو دوسری طرف خود انسان کے عمل اور تعامل کرنے کی بنیادیں۔ اوّل الذکر کے نتیجے میں سائنسی علوم کے اُصول مدوِّن ہوئے تو ثانی الذکر کی بدولت انسانی نفسیات اور سوشل سائنسز سے متعلق علوم کے۔ لہٰذا نہ صرف یہ کہ مادیت کی تمام اقسام کے متعلق انسان کا رسوخ فی ا لعلم (اُس کے اپنے مادی پیرایوں میں) بڑھتا گیا، بلکہ اِس طرح مادی اُصولوں کو آشکار کرنے کی عقلیت ، علمیت اور logic پر بھی اُس کی گرفت حد درجہ بڑھتی گئی۔کائنات اور اپنے اِرد گرد کے ماحول کے ساتھ اُس کے تفاعل میں نہایت نکھار اور مہارت پیدا ہوتی گئی، جس کے نتیجے میں اسے اب آہستہ آہستہ یہ اندازہ بھی ہونے لگا کہ مادی حقیقتوں کو آشکار کرنے کے لیے اپنے اِرد گِرد کے ماحول کے ساتھ کس طرح بہتر سے بہتر انداز میں تفاعل اور تعامل کیا جاتا ہے یہی اب اِنسان کے سیکھنے سِکھانے کا اصل موضوع اور میدان تھا۔ یعنی یہ کہ مادی اُصولوں کو بے نقاب کرنے کے لیے مادے کے ساتھ interaction کس طرح کیا جاتا ہے،….نہ کہ مجرد مادہ اور اُس کے عمل کرنے کے اُصول۔ اسی طرح ایک معاشرے میں لوگوں کے ساتھ کس طرح رہن سہن اور طرزِ زندگی اختیار کیا جاتا ہے،وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ انسانی شخصیت کی تعمیر اور ترقی اُس کی تمام مختلف النّوع جہتوں میں کیسے ہوتی ہے ، اور اس ترقی کے مختلف مرحلہ وار مدارج کیا کیا ہیں، انسان کے سامنے رفتہ رفتہ کھلتے چلے گئے۔
مادّے اور اُس کے مظاہر سے بے پناہ تعامل اور تفاعل کے نتیجے میں اگرچہ مادی علوم اور ترقی کے راستے انسان پر ”چوپٹ“ کھل گئے، لیکن ترقی کے ابتدائی دور سے گزرنے کے بعد، جب کہ مادی اُصولوں کو آشکار کرنے کی صلاحیتیں اور مہارتیں تعلیمی و تربیتی عمل کے ذریعے سیکھی اور سکھائی جانے لگیں، اِنسان کا یہ تفاعل بڑی حد تک ایک میکانکی انداز اوریک خود کار (آٹومیٹک) طریقۂ کار میں تبدیل ہوتا چلا گیا ( خود مادہ میکانکی اُصولوں پر عمل کرتا ہے)۔ ”مادّیت کی روح“ تھی جو اِس تعلیمی نظام میں سراسر سرایت کیے ہوئی تھی۔ مادہ اور اُس کے ”لگے بندھی“ اصول و قوانین اِنسان کی رسائی میں کیا آنا شروع ہوئے کہ اُس نے ہر ایک عمل اور کام کے لگے بندھے ضوابط مقرر کرنا شروع کردیے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ اِن ضوابط اور طور طریقوں میں تبدیلی و ترقی آتی گئی، لیکن ہر تبدیلی کسی نئے میکانکی طریقے پر منتج ہوتی۔ ”میکانکیت“ ہی اب ان کے تعامل اور تفاعل کی جان تھی۔ اب لوگ گویا مشینوں کی مانند تھے جن کے اندرتعلیمی عمل کے ذریعے ”ہدایات“ کی پروگرامنگ کی جاتی تھیں اور پھر اُنہوں نے ایک لگے بندھے انداز سے اپنی دنیا اور معاشرے میں تعامل کرنا، اور دنیا کو مادی نقطۂ نظر سے زیادہ سے زیادہ اِفادی بنانے میں اپنا کردار اَدا کرنا ہوتا تھا۔ تعلیمی اِدارے اب ایسے مشین نما اِنسانوں یا اِنسان نما مشینوں کی بڑی بڑی فیکٹریاں تھیں جہاں ایک مخصوص شعوری ساخت اور خصوصیات کے حامل اِنسانوں کی کھیپ کی کھیپ تیار کر کے معاشرے میں اُتاری جاتی تھیں۔ سب سے بڑی صنعت اب تعلیم کی صنعت تھی، جہاں دوسری تمام صنعتوں کو چلانے والی پروڈکٹ یعنی اِنسانوں کو ”تیار“ کیا جاتا تھا۔ اور اِس صنعت کی روحِ رواں وہ نظام ِ تعلیم تھاجس کی داغ بیل مادی ترقی کو جاری رکھنے اور مادی اِفادیت (utilitarianism) کے نقطۂ نظر سے ڈالی گئی تھی۔ زندگی کے ہر ایک شعبے میں ہونے والی تیز رفتار علمی ترقی ایک مشینی عمل کی مرہون ِ منّت تھی۔ مشینیں اِسی لیے تو ہوتی ہیں کہ ایک کام کو تیز کر دیں!! سائنس اور ٹیکنالوجی کا تو سوال ہی کیا، اب تو اِنسان کے جذبوں کا اظہار بھی مشینی تھا۔ فن کی ایک مہارت تھی کہ آرٹ کے سبھی شعبوں میں بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ اِس سے پہلے ایسی ہمہ گیر، تیز رفتار اور اِنقلاب آفریں ترقی اِنسان نے بھلا کب دیکھی تھی۔! بعد میں جب ترقی سے ان کا دماغ خراب ہونے لگا، اور یہ طاقت کے نشے میں چُور ہونے لگے، اور لذت اندوزی اِن کی رگ رگ اور نس نس میں سمانے لگی، تو باقی دنیا اور اُس کے وسائل پر قبضہ کرنے کا سودا اِن کے سر پہ سوار ہوا، اور یہ تیسری دنیا کے زرخیز اور وسائل سے مالامال ممالک کو فتح کرنے کی مہم پر چل نکلے۔ عشروں بلکہ صدیوں تک اِن ممالک کو اپنی بدمستیوں کی آماجگاہ بنائے رکھنے کے بعدجب یہ دو عالمی جنگوں میں مبتلا ہو کر اپنا بہت کچھ گنوا دینے کے سبب گھر واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے، تو اپنے پیچھے دیگر بہت سی ”یادگاروں“ کے ساتھ اپنے نظامِ تعلیم کی ”میراث“ بھی چھوڑ گئے۔ یہ نظامِ تعلیم کیا تھا، ایک غلام قوم کو آزادی کے نام پر مزید کئی صدیاں غلام بنائے رکھنے کا ایک زبردست انتظام تھا، اور گھر بیٹھے اُس سے ”خراج“ وصول کرتے رہنے کی ایک بہترین تدبیر۔ ویسے تو یہاں کا سیاسی اور معاشی نظام بھی غلامی ہی کی میراث ہے،لیکن اگر دیکھا جائے تو وہ اِس نظامِ تعلیم کا ہی ایک پھل ہے۔ اِن نظاموں کو رواں دواں رکھنے کے لیے جس خوئے غلامی اور ادائے بندگانہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اِن کے کار پردازوں کو یہاں کے نظامِ تعلیم سے فارغ التحصیل ہو نے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
یہ ہے وہ تعلیمی نظام جس کے مخصوص طریقۂ کار کی داغ بیل اس کے مقاصد کے ذریعے پڑی۔ ایک خالص مادی اپروچ سے ترتیب دیا جانے والا نظامِ تعلیم ہی صرف اسی نہج اور خطوط پر استوار ہو سکتا تھا، کہ جس کے ذریعے ایک مخصوص اور مطلوب ساخت کا حامل انسان حاصل ہو سکے۔ چنانچہ تعلیم کا مقصد اگر اس سے مختلف اور بلند ہو تو یقیناً اس سے متعلقہ نظامِ تعلیم بھی اسی لحاظ سے مختلف ہونا چاہیے۔ ایک مختلف معیار کا حامل انسان بھی تبھی حاصل ہو سکے گا۔ محض نصابوں کی تبدیلی سے نظامِ تعلیم تبدیل نہیں ہوجایا کرتا۔ نصاب تو اس نظام کا صرف ایک جزءہے۔ دیکھا یہ جانا چاہیے کہ اس نظام کا وہ مخصوص پروسیجر کیا ہے جو اس کے سب اجزاءکو ایک خاص ترتیب اور انداز میں لاکر ایک خاص قسم کے انسانوں کی پراڈکٹ تشکیل کرتا ہے۔ اور جب تعلیم کا مقصد ایسے انسانوں کی تیاری ہو جو اُمت ِ مسلمہ کو ایک وسیع تر معنوں میں قیادت فراہم کرنے کے اہل ہوں، تو اِس پروسیجر میں کیا جوہری تبدیلی کرنا ضروری ہوگی۔
حکومتی مشینری تو ظاہر ہے یہاں کے نظامِ تعلیم میں کوئی ایسی تبدیلی کیوں کرنے لگی جس سے اُمّت ِ مسلمہ کو قیادت فراہم کرنے کے لائق لوگ تیار ہو سکیں، جبکہ اسلام اور اُمت ِ مسلمہ سرے سے اُس کاکوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اندریں حالات یہ کام یہاں کی دینی تحریکوں اور انقلابی جماعتوں نے ہی کرنا ہے،کیونکہ اسلام اور امت کا مسئلہ انہی سے تعلق رکھتا ہے۔ بلکہ ان کا مسئلہ تو ہے ہی یہی۔
٭٭٭٭٭
بڑے عرصے سے یہاں کے نظامِ تعلیم میں ”اسلامی تجربات“ کیے جا رہے ہیں۔ نصاب کی ”اسلامائزیشن“ سے لے کر اساتذہ کی ”ذہن سازی“ تک سبھی کچھ برسوں سے یہاں ہوتا رہا ہے۔ جدید تعلیمی نفسیات کے سبھی طور طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اُمّت تو چھوڑیے، محض ملک کی سطح پر ہی رہنمائی فراہم کرنے کے اہل چند لوگ بھی کیا ہم ایسے تیار کر پائے جو خاص اِسی نظامِ تعلیم کا ثمرہ ہوں؟ یہ نظامِ تعلیم لاکھ اہل لوگ پیدا کر سکتا ہو، اُن کی اہلیت بالآخر پہلے سے طے شدہ اور چلے آئے کاروبار ہائے زندگی میں ہی کہیں جا کر فٹ ہوتی ہے جن کو افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے یہ نظامِ تعلیم وضع کیا گیا ہے۔ حقیقتاً یہ نظام اِسی لیے بنایا گیا ہے کہ دنیا کا جو نقشہ اور جو رنگ و رُوپ اہل ِ مغرب نے صدیوں سے مرتّب کر رکھا ہے،چہار دانگ ِ عالم میں اُسی کی اور سے اور تزئین و آرائش کرنے والے لوگ پیدا ہوتے رہیں، اور یہ دنیا ایک سوچی سمجھی سمت میں یونہی رواں دواں رہے۔ یہ لوگ یہودی ہوں یا عیسائی، ہندو ہوں یا مُسلمان، اپنے عقائد، اپنے نظریات اور اپنا مذہب اپنے ساتھ رکھتے ہوئے، (بلکہ اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم بھی خود اِسی نظام کے ذریعے حاصل کرتے ہوئی) دنیا کے کسی بھی سسٹم میں اُس کے تقاضوں کے مطابق فِٹ ہو سکتے ہیں۔
سائنس، ریاضی، معاشرتی علوم اور لینگویجز وغیرہ کی اسلامائزیشن تو کیا، خود اِسلامیات کی تعلیم اِس نظام کی صحت کے لیے قطعاً مضر نہیں۔اِس لحاظ سے جدید اِسلامی اسکول اور ”غیر اِسلامی“ اسکولوں میں فرق یہ ہے کہ ایک ، دنیا کے نظاموں اور طور طریقوں میں کھپ جانے کے لیے ذرا ”اچھے مسلمان“ قسم کے پرزے فراہم کرتا ہے جبکہ دوسرا ذرا کم یا ”خراب مسلمان“ قسم کی! ویسے ”اسلامیات“ دونوں جگہ پڑھائی جاتی ہی!! البتہ اِسلامی اسکولوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں بچوں کو قرآن پڑھایا اور یاد کرایا جاتا ہے۔ دُعائیں اور اِسلامی آداب سکھائے جاتے ہیں۔ اور ایک غیر مخلوط اسلامی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔تاہم اِن اسکولوں میں عام طور پر یہ سب اِسلامی ماحول بچوں میں اعلیٰ اخلاقی صفات پیدا کرنے سے زیادہ، بُرے اخلاق اور رذائل سے دور رکھنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جب بچے باہر کے ماحول سے آشنا ہوتے ہیں تو اُس سے بچنے کے لیے اُن کے اندر اتنی قوت ِ مدافعت نہیں ہوتی جو اسکول کی تربیت سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
یہ بات ہو سکتا ہے کہ بہت سوں کے لیے ایک شدید اچنبھا ہو؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس تعلیمی نظام کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ یہ ایمانیات سے بحث کر ہی نہیں سکتا ۔ ایمان کوئی ایسی شے ہے ہی نہیں جس کا اِس نظام کے تعلیمی طریقۂ کار سے کوئی تعلق بنتا ہو۔یہ نظام کسی ایسے معاملے کے لیے اپنے اندر سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھتا جس کی خاطر اُصولی طور پر دنیا کی ہر شے قربان کی جاسکتی ہو بلکہ جس پر جان بھی نچھاور کی جا سکتی ہو۔یہ تو صرف مشاہدوں اور تجربوں پر مبنی اُصولوں اور مفروضوں سے ہی بحث کرتا ہے جن پر کبھی بھی کوئی سوال وارد کیا جا سکتا ہے،اور جن سے agree یا disagree کرنا کسی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہوا کرتا۔ چنانچہ یہ نظامِ تعلیم اِسلامیات میں بیان کردہ ایمانیات کو بھی اِسی تناظر میں لیتا ہے۔ بلکہ خود اِسلامیات کا الگ سے ایک مضمون کے طور پر رکھا جانا اِس نظامِ تعلیم کے اِسی تناظر کا نتیجہ ہے۔ اِس نظامِ تعلیم میں آپ کا بچہ ”اسلامیات “ میں بھی اُسی طرح ”پاس“ ہوتا ہے جس طرح دیگر مضامین میں؛ اور کبھی اپنی ”نالائقی“ کے سبب ”فیل“ بھی ہو سکتا ہی!بلکہ اگر چاہے تواُس کے ایک ”بور کُن سبجیکٹ“ ہونے کا بھی اظہار کر سکتا ہی!! یوں اسلام کے بنیادی علم میں بھی ”مسلمانوں“ کے لیے باقی مضامین کی طرح پاس یا فیل ہوا جانا اور حتی کہ اس علم کا بچوں کے لیے ایک ”فیورٹ“ یا ”اَ ن فیورٹ “ مضمون کے طور پر ہونا ایک روٹین کا قابل ِ گوارا معاملہ ہوتا ہی!!
ہمارے بہت سے ”اسلامی ماہرین ِ تعلیم“ اپنے اسکولوں میں اپنی مرضی کے مواد پر مبنی اسلامیات لگنے پر تو خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں، البتہ اِسلامیات کو دیگر مضامین کی طرح ایک الگ مضمون کے طور پر قبول و تسلیم کرلینے کے نتیجے میں عقیدہ کے اندر جو ایک بڑا شفٹ واقع ہوتا ہے اُس سے بالکل لاعلم رہتے ہیں۔ ایک طرف آپ پورا زور لگا رہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح اسلامیات کا علم قوم کے نونہالوں کے اندر گہرا اُتار دیا جائے، دوسری طرف اِس حقیقت سے بھی بے خبر رہتے ہیں کہ اِس نظامِ تعلیم کی اپنی ساخت اور اس کا مخصوص طریقۂ کار بچوں کو اِس مضمون سے بھی عین اُسی طرح گزرنے کی ہی اجازت دیتا ہے،جس طرح دیگر مضامین سے۔
یہ نظامِ تعلیم اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہر ایک شے کو دیکھنے کی ایک سیکولر نگاہ لوگوں کو ودیعت کرتا جاتا ہے۔ یوں یہ اپنی بنیادوں سے ہی ایک لا دین نظامِ تعلیم ٹھہرتا ہے،نہ کہ محض مواد کے اعتبار سے۔ عین جس طرح یہاں کا جمہوری سیاسی نظام اپنی بنیادوں سے ہی سیکولر اور لادین ہے جس کا اسلامی دفعات کی پیوند کاری اور اللہ کی حاکمیت ِ اعلیٰ کے اقرار سے کچھ نہیں بگڑتا، البتہ یہ اِن اِسلامی قوانین کے لیے خوب خوب ”گنجائش“ رکھتا ہے،بالکل اسی طرح یہ تعلیمی نظام بھی اپنے اندر اسلامیات اور مذہبی تعلیم کو اپنی لادین قدروں پر کوئی آنچ آنے دیے بغیر سمونے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اِس میں اسلامیات کے پیوند لگانے سے اِس نظام کی تصویر تو خیر کیا درست ہوگی، خود اِسلام کے تصور میں انحراف ضرور واقع ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اِس نظام میں کوئی ایسی جوہری تبدیلی کردی جائے جس سے اِس کا ضرر جاتا رہے،جبکہ اس کے فوائد اپنی جگہ باقی رہیں، جو کہ ظاہر ہے کہ اِس کی موجودہ حالت سے ایک کافی مختلف شکل ہوگی جس میں اسلامیات بہرحال ایک ”مضمون“ ہرگز نہیں ہوگی۔ بلکہ شاید اسلامیات نام کی کوئی شے ہوگی ہی نہیں۔ بلکہ ”عقیدہ“ ہوگا اور ”ایمان“، اور اِن کے سب متعلقات۔ باقی دین کی ہر شے اِن کی فرع کے طور پر آئے گی۔ اور یہ عقیدہ اور ایمان اُس تعلیمی نظام کی روح اور جان ہوں گے اور ایک جزوی شکل کے اندر، مسخ شدہ حالت میں پائے جانے کی بجائے پورے کُل کے اندر اپنی اصیل حالت میں سرایت کیے ہوئے ہوں گے۔
ویسے بھی جو چیز صحیح معنوں میں اسلامی عقیدہ کہلائے جانے کی مستحق ہے وہ یہاں کی”اسلامی اسکولوں“ کی اسلامیات کے نصاب میں شامل ہی کب رہی ہی؟؟ اور اگر کبھی ہو بھی جائے تو بھی عقیدہ اور اساسِ دین کی تلقّی کا جو طریقۂ کار ہے وہ اِسلامیات کے ”سبجیکٹ“ کے ذریعے اختیار کیا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسلامی عقیدہ جس چیز کا نام ہے وہ اصل میں ہی: کفر بالطاغوت اور ایمان باللہ۔ یعنی شرک سے برأت و بیزاری اورصرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی۔ بھلا ہمارا نظامِ تعلیم ابھی جس حالت میں ہے،اس کے ہوتے ہوئے ”اسلامیات“ کے ذریعے مسلمانوں کی نئی نسلوں کو کفر بالطاغوت کی تعلیم دی جا سکتی ہی؟؟ بلکہ کیا حقیقتاً اسلامیات کفر بالطاغوت کی تعلیم کا بوجھ سہار بھی سکتی ہی؟؟؟ اسلامی عقیدہ کی تلقین و تعلیم تو وہ چیز ہے جو عقیدہ کو اذہان کے راستے قلوب میں اُتارتی ہے اور پھر ایمان کی شکل میں برآمد کرواتی ہے۔ جبکہ جدید نظامِ تعلیم سے تو آپ ہر ایسے عقیدہ سے عاری اسلامیات ہی پڑھ اور پڑھا سکتے ہیں جو دنیا سے ٹکر مول لینے پر آمادہ کر سکتا ہو، اور وہی ایمانیات جو ایمان کی رمق بھی پیدا کرنے سے قطعاً قاصر ہو! جو دیگر مضامین کی طرح اُصولوں، مفروضوں اور نظریات کا ایک مجموعہ ہو، جس پر”ایمان“ رکھنا یا نہ رکھنا اِس نظام کی وسعتوں اور کارفرمائیوں سے قطعاً غیر متعلق ہو۔
یہ باور ہو کہ ہم یہاں اِسلامیات ”پڑھانے کے طریقۂ کار“ یا اُس کے مواد پر کلام نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ واضح کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خود اِسلامی تعلیمات کا اِس نظامِ تعلیم کے اندر ایک سبجیکٹ (یعنی اسلامیات) کے طور پر ہونا اپنے اندر کیا مضمرات رکھتا ہے۔
اسلامیات کا ایک ”مضمون“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک جزء(part) ہے جس نے بہرحال کسی کُل (whole) میں جا کر فٹ ہوناہے اور اُسی میں مدغم ہو کر اُس کے لحاظ سے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اب جو کُل ہے اُس کا اپنا ایک فلسفہ اور اپنی ایک بنیاد ہے جس کے تحت تمام اجزاءیک خاص ہی ترتیب میں آکر اُس کے ساتھ فِٹ ہوئے ہیں۔ سب اجزاءنے اسی فلاسفی کی بنیاد پر باہم عمل کرکے ایک مجموعی اثر پیدا کرنا ہے جو اُس کُل کی تشکیل کے مقاصد کے عین مطابق ہوگا۔ ہر ایک جزءکا انفرادی حیثیت میں جو اثر مرتب ہو سکتا تھا وہ اب ایک کُل کا حصہ بن جانے کے بعد اُسی کے تقاضوں کے مطابق ڈھل کر ایک بالکل مختلف انداز میں سامنے آنا ہے۔
کیمسٹری پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیسیں جب تعامل کرکے پانی بناتی ہیں تو پانی کے اندر دونوں گیسوں کی سب خصوصیات جاتی رہتی ہیں! یہ بات ہر کُل کے اندر مدغم ہوجانے والے اجزاءکے لیے درست ہے۔
وہ اسلام ہی کیا جو کسی کُل کا حصہ بن سکتا ہو؟ کسی نظام کے اندر فٹ ہو سکتا ہو؟ کسی سسٹم میں اپنا آپ گم کردینے کے لیے استعمال ہوسکتا ہو؟؟!!
اسلام کے نام پر ہونے والی ہرچیز جو اُسے کسی اسلام سے غیر متعلق یا لادین کُل کا حصہ بنانے کے لیے وجود میں لائی گئی ہو، درحقیقت خود ایک لادین اور سیکولر چیز ہے۔
کیا ہمارے اسلامی ماہرین ِ تعلیم اِس تلخ حقیقت کا اِدراک کرنے پر آسکتے ہیں کہ اِسلامیات بحیثیت مضمون دراصل ایک لادین شے ہی؟؟؟!!!
”اسلامیات“ کا سبجیکٹ اسی لیے تو وضع کیا گیا ہے کہ یہ بات پوری مسلم قوم کے قلب و شعور میں اُتار دی جائے کہ زندگی کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک دین دوسرا دنیا۔ اور دین بھی وہ جو محض فلسفوں اور اخلاقیات وغیرہ کا مجموعہ ہو۔ بچے جب اپنے پورے تعلیمی سسٹم کے اندر اِسلامیات کو دیگر مضامین کی طرح ایک مضمون کے طور پر پڑھتے ہیں تو یہ تأثر اُن کے شعور اور ضمیر کا حصہ بن جاتا ہے کہ ”اسلام ”بھی“ ایک اہم اور قابل ِ قدر شے ہی“۔ سیکولرازم بھلا اور کیا ہوتا ہی؟؟ سیکولرازم یہی تو کرتا ہے نا کہ دین و مذہب کی پوری قدر کرتا ہے مگر اُسے اُس کی ”جگہ“ پررکھتے ہوئے۔ یوں اسلام بڑے آرام سے تصورِ زندگی کا ایک ”حصہ“، صرف ایک حصہ بن کر اپنا تمام اثر کھو بیٹھتا ہے۔
خدانخواستہ یہاں کے مسلمانوں کا مسجد کے ساتھ ایک گہرا قلبی اور تاریخی رشتہ نہ ہوتا؛ ان کے گھروں میں نسل در نسل اللہ، رسول ﷺ، قرآن اور اسلام کا نام تازہ نہ کیا جا رہا ہوتا؛ اور دینی تحریکوں اور جماعتوں نے معاشرے میں اسلام کا نام زندہ رکھنے کی اپنی سی کوشش نہ کر رکھی ہوتی تو آج یہاں اسلام کی وہی حیثیت اور وہی شکل ہوتی ، جو ایک زمانے میں ترکی کے اندر مُصطفٰی کمال پاشا اتا ترک کے قاہرانہ تسلط کے نتیجے میں رائج ہو گئی تھی۔ اسلام پھر جیسا تیسا یہاں ”اسلامیات“ کے ذریعے ہی سیکھنے کو مل رہا ہوتا۔ ویسے یہاں کے ”اہل ِ سیاست“ نے ابھی بھی کوئی کسر تو نہیں چھوڑی ہوئی۔ بڑی خوبی سے انہوں نے تحریکی قیادتوں کو ابھی تک اسلامیات کے نصاب کی بحثوں ہی میں اُلجھا رکھا ہے۔ گویا تعلیم اور وہ بھی اسلامی تعلیم کے حوالے سے ہماری دینی تحریکوں کی سب توقعات اِن حکومتوں سے ہی وابستہ ہیں۔ جو کرنا ہے حکومت نے ہی کرنا ہے۔ ہم نے بس درخواستیں ہی کرتے جانا ہے۔ کبھی ”اوپر“ سے اشارہ ملنے پر ہماری حکومت جب اسلامیات کے نصاب میں کچھ تبدیلی کر دیتی ہے تو اِن کی طرف سے آسمان سر پر اُٹھا لینے سے ہی شاید ادائے فرض کی تکمیل ہو جاتی ہی! جبکہ توقعات کا شیش محل ہنوز سلامت رہتا ہے! جیسے اب تک ہماری قوم کی ساری دینی تعلیم و تربیت ایک ”اسلامیات“ ہی کی مرہون ِ منت تھی! یہ جو ہمارے پڑھے لکھے صالح نوجوانوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ صفیں بنا کر میدان ِ جہاد میں مئے حیات نوش کرتے برسوں دیکھے گئے ہیں، ان کا جذبۂ جہاد کس چیز کا مرہون ِ منت تھا؟؟ میٹرک و اِنٹر کی اِسلامیات کا؟؟؟یا دراصل کوئی تحریکی عمل تھا جو اس سب جذبۂ عمل کو انگیخت کرنے کا باعث بنا تھا؟
دشمن تو یہی چاہتا ہے کہ مسلم قوم کی دینی اقدار کو آخری حد تک مسخ کردے اور دنیا اُسی کے طے کردہ خطوط پر محو ِ خرام رہے۔ اسکے لیے وہ ہمارے دینی نشاط کے ہر امکان کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اُس کی طرف سے اسلامیات کے نصاب میں تبدیلی بس اسی رُخ سے ہو سکتی ہے۔ ورنہ ہماری اسلامیات نے معاشرے میں کتنے اچھے مسلمان پیدا کر لیے ہیں؟؟ (1)
البتہ یہاں کے بہت سے اسلامی فکر کے حامل تعلیمی اِداروں میں اُن کی ”اپنی اسلامیات“ کے علاوہ ایک اور”اسلامی“ چیز اضافی طور پر پائی جاتی ہے۔ اور وہ ہے؛ دیگر مضامین مثلاً سائنس، ریاضی، معاشرتی علوم اور لینگویجز وغیرہ کا اِسلامائزڈ ورژن۔! جس میں ہر مضمون کے اندر اِسلامی ماحول اور ہر چیز کا خدا کے ساتھ ایک ربط اور تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے۔ جو بلا شبہ ایک نہایت نیک اور مستحسن اقدام ہے۔ لیکن عقیدے کی اساس سے جوڑنے والے کسی پروگرام اور انتظام کے بغیر یہ سارا سلسلہ ایک خواہ مخواہ کا تکلف اور نری بھرتی کی چیز معلوم ہوتا ہے۔ یہاں کے فارغ شدہ نوجوانوں کو بالآخر اُسی کاروبارِ زندگی میں جا کر کھپ جانا ہوتاہے جو اُسے سموچا نگل جانے کے لیے پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ بلکہ شاید اِسی کام کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ اور جہاں پہنچ کر ”بندہ و صاحب و محتاج وغنی“ سبھی سوچ اور راہِ عمل کے حساب سے ایک ہوجاتے ہیں۔! جبکہ وہ چیز جو نوجوانوں کو ایک بصیرت، ایک نظر اور دنیا کو برتنے کا ایک بالکل مختلف انداز عطا کرتی ہے،وہ دراصل اسلام کا عقیدہ ہے،نہ کہ محض ہر چیز کا خدا سے ہونے کا تصور ۔ اسلام پر جینے اور اسلام پر ہی مرنے کا جذبہ اسی عقیدے اور اِس سے برآمد کردہ ایمان کے شجر سے ہی پھوٹ سکتا ہے،نہ کہ محض اسلامی تاریخ یا اسلامی ثقافت کے تذکروں سے۔ یہ اگر آپ کے تعلیمی نظام میں اپنی جگہ موجود ہے تب تو سائنس اور لینگویجز وغیرہ کی اسلامائزیشن کسی حد تک مفید ہو سکتی ہے ۔ بلکہ صرف تب ہی مُفید ہوسکتی ہے۔ تاہم اسلامی عقیدہ کی بھرپور تعلیم و تربیت کے ماحول میں ایسی کسی اسلامائزیشن کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ کیونکہ یہ عقیدہ آپ کو وہی نظر تو عطا کرتا ہے جس سے چیزیں آپ کو اُن کے اصل رنگ میں دکھائی دیں اور آپ اُن کو ان کی مناسب جگہ پر رکھنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔ اس نظر کے ساتھ اپنے نوجوانوں کو آپ بھلے دنیا بھر کا نصاب پڑھا دیں ، اس سے کوئی نقصان نہیں ہونے والا۔ اور اُس کے بغیر آپ لاکھ اپنی تعلیم کی اسلامائزیشن دَر اسلامائزیشن کا تکلّف کرتے چلے جائیں اس کا کوئی خاص فائدہ برآمد نہیں ہونے والا۔
آخر یہ کیوں نہیں ہوتا کہ یہاں کی دینی تحریکیں اور مذہبی قیادتیں خود ایک نظامِ تعلیم وضع کریں جس کا اول و آخر ٹھیٹ اسلامی عقیدہ اور اُس کی اقدار ہو، جو شرک کی تمام شکلوں سے برأت اور زندگی کے ہر میدان میں ایک اللہ کی بندگی پر مبنی ہوں، اور اِس ناتے اس نظام کے اندر اسلامیات اوراسلامائزیشن کی ضرورت تو کیا اُس کے ہونے کا سوال ہی نہ اُٹھتا ہو۔ یہاں عقیدہ محض deliver نہ کیا جاتا ہو بلکہ عقیدہ کی جڑوں سے ایمان کے شجر کو برآمد کرنے کا بھی ایک جامع پروگرام پایا جاتا ہو۔ ساتھ ہی ساتھ محض ”معلومات“ پر زور دینے کی بجائے انسانی شخصیت کی تمام پنہاں صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا مکمل اہتمام ہو، تاکہ دنیا کے ہر ایک رنگ کے ساتھ ایک بھرپور، فطری تفاعل کرنے والامسلمان دنیا کو نصیب ہو، اور تاکہ دنیا کے ہر میدان میں ایک صحیح ترین انسانی کردار تمام عالَم کے سامنے بطور نمونہ و برائے پیروی پیش کیا جا سکے۔
اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے او ر کلمہ کی شہادت دینے والوں کے ملک پاکستان میں لوگوں کے اندر آسمانی اور زمینی آفات کے بارے میں عجیب و غریب تصورات پائے جاتے ہیں۔ جن کے مطابق یہ آتی تو خدا کی طرف سے ہیں، البتہ ان آفات کو ”ہینڈل“ کرنے کی تمام تر ذمّہ داری کچھ فوت شدہ ”بابوں“ اور ”خواجوں“ نے اپنے مُردہ کاندھوں پہ اُٹھا رکھی ہے۔!!! طوفان آتا تو خدا کی مرضی سے ہے، لیکن جاتا اِن کی مرضی سے ہے!! سو کبھی طوفان کا اندیشہ ہو، اور بڑے پیمانے پر حفاظتی تدابیر اختیار کی جارہی ہوں، یہ اپنے مُردہ بزرگوں پر ”ایمان بالغیب“ رکھنے والے ”راسخ العقیدہ“ لوگ چنداں پریشان نہیں ہوتے۔ ان کے ایک بڑے ”بابے“ کا مزار عین ساحل ِ سمندر پر جو واقع ہے! اب ”بابا“ جانے اور اُس کے خدائی اختیارات! طوفان آئے گا تو اِسی راستے سے نا، آخر بابا سے بچ کر کہاں جائے گا! اب معتقدین (بلکہ ”مؤمنین“) ہیں کہ طوفان کے ٹلنے کی خبر سننے کے منتظر ہیں ، اور فکر کا کیا سوال کہ قریب پھٹکنے بھی پائے! طوفان قریب آتا جا رہا ہے، لیکن ایک بے نیازی ہے کہ ”حسب ِ سابق“ قائم و دائم ہے! ایک ”چشمِ بصیرت“ ہے کہ طوفان کو وقت سے پہلے ہی ٹلتا ہوا دیکھ چکی ہے! ایمان بھلا اور کس چیز کو کہتے ہیں؟؟؟!!!
لیکن اِس دفعہ جو طوفان آیا وہ کچھ نہ پوچھیے، بڑا ہی ”بے ادب“ نکلا۔ بابا بیچارے نے لاکھ پکارا ہوگا:” پرے ہٹ، گستاخ، بے ادب!“ لیکن طوفان نے سن کے نہ دی۔ وہ طوفان ہی کیا جو کسی مخلوق کی بات سن لے۔ اور وہ بھی مردہ مخلوق۔ جو ایک مکھی نہیں اُڑا سکتی، اور اگر مکھی اُس سے کچھ اُڑا لے جائے تو چھڑا نہیں سکتی۔ اِس بار تو طوفان ہر کسی کو اُس کی اوقات یاد دِلانے پر گویا تُلا ہوا تھا۔ چنانچہ وہ درّاتا ہوا اور دندناتا ہوا ”مزار شریف“ میں چڑھ آیا! آن کی آن میں اُس کی ایک معمولی سی لہر نے جو ذرا تھپکی دی تو مزار کی ایک دیوار اپنا بوجھ سہار نہ سکی اور ”بابا“ کی ”نگاہِ کرم“ کے منتظر چند زائرین پر اپنا ”کرم“ کر گئی۔ بھلا جس پر خدا کا غضب ہونا ہو اُسے کسی بابے یا خواجے یا ”گنج بخش“ کی نگاہِ مُردہ کیسے بچا سکتی ہے۔ جو ”بابا“ اپنے مزار کی دیوار گرنے سے نہیں روک سکتا وہ کسی کو اُس دیوار کے نیچے آنے سے کیسے بچا لے گا؟! جس ”گنج بخش“ کے پاس اپنے ہی مزار کے اندر اپنے ہی معتقدین کو تحفظ فراہم کرنے کی قوت نہ ہو وہ مزار سے باہر کی دُنیا میں کسی کا کیا بھلا یا بُرا کر لے گا؟؟!! یہ بیچارے فوت شدہ بندے خدا کی بھیجی ہوئی آفات سے کسی کو کیا بچائیں گے، یہ بے بس و لاچار لوگ تو انسانوں کی لائی ہوئی ”مصیبت“ سے خود اپنے مزاروں کو نہیں بچا سکتے۔ حقائق اور واقعات تو یہی کہتے ہیں۔ اَب کسی کو اگر قرآن کی بات سمجھ نہیں آتی تو کیا ایسے چشم کشا واقعات بھی عقلوں کو جھنجوڑنے کے لیے کافی نہیں ؟؟ ایسا بھی کیا اندھا ہونا؟! لیکن یہ ”ایمان“ بھی عجب چیز ہے بھئی۔ تمام دلیلوں سے کرتی ہے بے گانہ دِل کو۔ آپ لاکھ سمجھاتے رہیں کہ بزرگوں کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے، اُن سے اُمیدیں رکھنا فضول ہے۔ ہر چیز صرف اللہ کی مرضی سے ہوتی ہے اور اُسی کی مرضی سے ٹلتی ہے۔ اسی لیے صرف اُسی کو پُکارنا اور اُسی سے لو لگانا چاہیے۔ لیکن اِن ”ایمان والوں“ نے آگے سے یہی جواب دینا ہے کہ بابا کی یہی مرضی ہوگی!!! یہ ہوتا ہے ایمان!!! امام بری کا مزار جب دھماکے سے تباہ ہوا تھا تب بھی ایسی ”ایمان افروز“ باتیں سننے کو ملی تھیں۔ اَب ”داتا دربار“ میں ہونے والی تباہی کے بعد بھی لوگوں کے ”ایمان“ کا وہی عالَم ہے۔ کیا کہنے اِس یقین کی بلندی کے! ایسا ایمان یہاں والوں کو کبھی صرف خدا پر ہونے لگے تو چشمِ فلک شاید یہاں معجزے ہوتے ہوئے دیکھے! لیکن وائے نادانی، کہ آپ کا سمجھانا تو کیا دُنیا کے بڑے بڑے حقائق بھی کائنات کی سب سے بڑی سچائی اور توحید ایسی موٹی سی بات سمجھانے میں ناکام ہی رہتے ہیں۔آنکھیں اگر خود بند ہوں تو اِس میں سورج کا کیا قصور؟ وہ تو چہار سُو اپنی ضیاءپاشیاں کیے جا رہا ہے۔ توحید کا اعلان تو ربِّ کائنات ہر آن اپنی قدرتوں کے اِظہار کے ذریعے کیے جا رہا ہے۔ ہر لحظہ وہ اِک نئی شان میں ہے۔ لیکن سچ کہا ہے قرآن نے کہ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (دراصل آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ سینوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہو جاتے ہیں) اور وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ (اور جسے اللہ روشنی سے محروم کردے اُس کے لیے پھر کوئی روشنی نہیں)۔ مشرکین ِ مکہ تو پھر طوفان کے وقت ایک خدا کو خالص ہو کر پکارتے تھے۔ فرعون بھی ڈوبتے وقت ایک اِلٰہ کا اقرار کر رہا تھا۔ لیکن یہ ایسے ظالم، جاہل، اندھے اور بدبخت ہیں کہ عین ناگہانی آفت کے وقت بھی اپنے جھوٹے خداؤں کو ہی ”خالص ہوکر“ پکاریں گے۔ ایسوں کے لیے تو پھر طوفان سے بڑا ہی کوئی عذاب ہونا چاہیے۔
سکولوں سے لے کر کالجوں تک ”سیرت“ اور ”اسلامی تاریخ“ وغیرہ ایسے مضامین کا آغاز بالعموم ”زمانۂ جاہلیت“ کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ جس کے بعد طالبعلم کو ”زمانۂ نبوت“ اور ”قرونِ اولیٰ“ کے مطالعہ کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ اب یہ پہلا سبق جو ”جاہلیت“ کے مطالعہ سے متعلق ہوتا ہے، کس طرح پڑھایا جاتا ہے؟ سرکاری ادارے ہوں، یا پرائیویٹ یا کوئی اور قسم، بالعموم یہ سبق یہاں پر کچھ اِس طریقے سے شروع ہوتا ہے:
”عرب، جاہلیت میں بتوں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ لڑکیوں کو درگور کر دیتے۔ شراب پیتے۔ جوا کھیلتے۔ لوٹ مار کرتے۔ قبائل ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ اسلام نے آ کر لوگوں کو اِن سب برائیوں سے روکا“۔
”جاہلیت“ یا ”زمانۂ جاہلیت“ کا یہ جو وصف بیان ہوا، میں چاہوں گا ذرا میرے ساتھ آپ بھی اِس کا ایک تجزیہ کریں….
یہاں البتہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ سب وحشت ناکیاں اور ظلم و بربریت کی وہ سب داستانیں نظر سے اوجھل کرا دی جائیں جو استعمار کے ہاتھوں دنیا کے اندر سامنے آئیں۔ کس کس طرح استعمار نے ہر اُس سرزمین میں جہاں اس کے پیر لگے آگ اور خون کا بدترین اور بے رحم ترین کھیل کھیلا، خصوصاً عالم اسلام پر قبضہ کرتے وقت اور پھر اِس قبضہ کو مستحکم کرنے کیلئے کیا کیا ظلم ڈھائے گئے، سب کچھ ’ناقابل ذکر‘ ہو جاتا ہے۔ جنگوں میں یوں تو ہو ہی جاتا ہے‘! بارود کے اتنے بڑے بڑے ڈھیر، یک دم روپوش! یہ اوجھل کرا رکھنا بھی بے حد ضروری تھا کہ عالم اسلام کو قبضہ میں لانے کے پیچھے پیچھے کون کونسے صلیبی اغراض و مقاصد کار فرما تھے۔ اخلاق کے میدان میں یورپ کا وہ دیوالیہ پن جو اُس کو اُس وقت بھی لاحق تھا جب وہ ہمیں یہاں پر علم و معرفت کی تعلیم دینے بیٹھا تھا، نظر انداز کرا رکھنا ضروری تھا! ’مادے‘ کی اِس کثیر منزل ترقی کے ملبے تلے ’روح‘ کس بری طرح کراہ رہی تھی، نہایت ضروری تھا کہ اس کی سسکیاں بھی اپنے اِس شاگردِ رشید کو ہرگز نہ سننے پائیں!
اِس عبارت میں بظاہر کوئی غلط بیانی نہیں۔ مگر اِس کی تہہ میں جائیں تو یہ خباثت سے لب ریز ہے….
ظاہر ہے اِس عبارت میں کوئی غلط بیانی نہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عرب یقینا ایسے ہی تھے جیسے جاہلی مدارس میں پڑھائے جانے والے اِس سبق میں ذکر ہوا ہے۔ اور یقینا اسلام نے آ کر اِس صورتحال کو تبدیل بھی کیا۔
اِس عبارت میں خباثت کہاں پر ہے؟ خباثت یہ ہے کہ اِس میں جاہلیت کا وہ ”اصل جوہر“ بیان نہیں ہوا جس کو مٹانے اور تبدیل کرنے کیلئے اسلام دنیا میں آیا ہے۔ یہ عبارت محض اور محض جاہلیت کے چند ”مظاہر“ سے بحث کرتی ہے اور وہ بھی اُس جاہلیت کے مظاہر جو عربوں کی تاریخ کے ایک خاص حصے کے اندر پائی گئی اور جبکہ عین ممکن ہے ویسے ”مظاہر“ دوسری جاہلیتوں کے اندر نہ پائے جائیں۔ کیونکہ جاہلیت کا ”اصل جوہر“ ایک ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ ہاں ہر جاہلیت کے ”مظاہر“ اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے اسلام اِس لئے نہیں آیا تھا کہ یہ ”عرب جاہلیت کے مظاہر“ کو ختم کرے۔ اسلام اِس لئے آیا ہے کہ یہ جاہلیت کے ”اصل جوہر“ ہی کو نیست و نابود کرے۔ اسلام کسی ایک جاہلیت کو ختم کرنے بھی نہیں آیا۔ یہ ہر جاہلیت کو ختم کرنے آیا ہے اور اس کی جگہ خدا کی فرماں برداری پر قائم زندگی کا پورا ایک تصور دینے آیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں .. جب ہم طالبعلم کے ذہن میں اسلام کا کردار اِسی ایک بات کے اندر محصور کر دیں گے کہ اِسلام کو جاہلیت کے یہ خاص ”مظاہر“ ختم کرنا تھے، تو پھر اس طالبعلم کے اپنے زمانہ میں اسلام کاکیا کردار باقی رہ جاتا ہے اور وہ کونسی مہمات ہیں جو اسلام کو خود اِس کے دور میں سر کرنا ہیں؟
طالبعلم اب یہ سبق پڑھ کر باہر معاشرے میں آتا ہے تو اُس کو ”بتوں“ کی پرستش کہیں نظر نہیں آتی۔ اچھا تو اسلام دنیا میں جو مہات کو سر کرانے آیا ہے ان میں سے پہلا بند تو ساقط ہوا، ”بت“ تو یہاں دور دور تک کہیں نہیں پوجے جا رہے!!!
پھر وہ دیکھتا ہے، یہاں تو لڑکیاں بھی کہیں درگور نہیں ہوتیں! بلکہ معاملہ سراسر الٹا ہو چکا ہے۔ لڑکیاں تو یہاں ’دندناتی‘ پھر رہی ہیں!اِن لڑکیوں کو تو وہ ’آزادی‘ حاصل ہے کہ الامان والحفیظ!!! اچھا تو پھر اسلام کو جو مہمات سر کرنا تھیں، اُس کا دوسرا بند بھی ساقط ہوا!!!
ہاں کچھ لوگ، اور وہ بھی ظاہر ہے کچھ ہی ہیں، کہیں کہیں شراب پی لیتے ہوں گے۔ بعض جگہوں پر جوا بھی کھیل لیا جاتا ہے۔ بہر حال اسلام نے اِن لوگوں کو یہ بتا کر کہ شراب حرام ہے اورجوا کھیلنا کتنی بری بات ہے، اپنا ”اخلاقی فرض“ تو ادا کر ہی دیا ہے۔ اتنے سارے لوگ ہیں جو معاشرے میں شراب نہیں پیتے اور جوا کھیلنے ایسے واقعات بھی ان کی زندگی میں پیش نہیں آتے۔ آخر یہ بھی تو اسلام کی اِن ہدایات کو مانتے ہی ہیں۔ اب کچھ لوگ برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور اسلام کی بات ان پر بے اثر ہو رہی ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ ’گناہگار‘ تو بہرحال دنیا میں ہوتے ہی ہیں۔ زیادہ لوگ تو بہرحال ایسے ہیں جو اِن دونوں برائیوں میں نہیں پڑتے!…. یعنی یہ بند بھی سمجھو ختم ہی ہوا!
رہ گئی لوٹ مار اور قبائل میں آپس کی خونریزی…. تو مار دھاڑ اور قتل و خونریزی کی روک تھام کیلئے آج کے دور کے اندر ’سسٹم‘ وجود میں آ گئے ہیں۔ یہاں پولیس ہے۔ امن عامہ کے ادارے ہیں۔ سول حکومتیں ہیں۔ امن خراب کرنے والے عناصر کو پکڑنے کا پورا پورا بندوبست ہے۔ ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے انتظامات بھی خوب ہیں۔ کوئی بے قاعدگی ہو جاتی ہو گی تو یہ ’مس مینج منٹ‘ کا مسئلہ ہے، جوکہ لا ینحل نہیں….!
اچھا تو پھر اسلام کو اب دنیا میں کیا کرنا ہے؟؟؟ آج کے اِس دور میں وہ کونسا کردار ہے جو اسلام کو ہر حال میں ادا کرنا ہے اور وہ کونسی مہمات رہ جاتی ہیں جنہیں از روئے اسلام یہاں سر کرایا جانا ہے؟؟؟
سچ پوچھئے تو کچھ بھی نہیں!!!
اُم المؤمنین عائشہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں :”اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام میں مصروف ہو تو اسے خوب مہارت اور نہایت احسن طریق سے سر انجام دے “۔
یہ حدیث بہیقی نے شعیب الایمان میں بیان کی ہے (5081،5080 اور 5082) اور شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصحیح کی ہے۔
یہ حدیث اپنے مفہوم میں عام ہے اور تمام جائز وحلال نوعیت کے کاموں پر لاگو ہوتی ہے۔
ایک شخص کا تکمیل کردہ کام دوسروں کی توجہ اُسی وقت کھینچ سکتا ہے جب خود اُس شخص کی مناسب توجہ اور محنت اس کام کو حاصل رہی ہو۔!چنانچہ ایک مسلمان کا انجام دیا ہوا ہر کام اس کی عرق ریزی اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہونا چاہیے۔ دین اسلام نہ صرف اللہ کی بندگی میں احسان لانے سے عبارت ہے بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے تمام (جائز)کاموں کو بھی بطریق احسن و خوبی سر انجام دینے کا دوسرا نام ہے۔ اس حدیث کی تعلیم کے مطابق مسلمان کیلئے نہ صرف روحانی کامرانیاں ہیں بلکہ دنیاوی سربلندیاں بھی ہیں!بشرطیکہ محنت اسی قدر کی گئی ہو!!
محنت ، عرق ریزی اور جانفشانی مسلمان کے ہر کام کا خاصہ ہونا چاہیے۔یہ سب امورکسی ہنر مندانہ کام کی خوبیوں کو نہ صرف چار چاند لگا دیتے ہیں بلکہ دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سب سے نمایاں بھی کردیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس حدیث پر عمل کرنے کی تمام تر سعی کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو اور اس دنیا کی کامیابیاں اور کامرانیاں ہمارے قدم چومیں۔
اس حدیث کو سمجھنے کیلئے کو ئی دقیق تفصیل درکار نہیں، بلکہ روز مرہ کے معاملات اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ کسی طالب علم کی اسائنمنٹ ہو یا سائنس پروجیکٹ کے سلسلے کی کوئی پریزنٹیشن، وہ طالب علم بازی لے جاتا ہے جس نے اپنے کام میں ہر ہر مقام پر مہارت اور نفاست کا مظاہرہ کیا ہو۔ اسی طرح کسی دعوت میں پکائے جانے والے کھانوں میں محنت بھی اسی پر کی جاتی ہے جو اس موقع کاسب سے اہم پکوان ہو اور مہمانوں کی توجہ اور خصوصی ضیافت چاہتا ہو۔ ایک سنار کی دکان پر بھی سب سے قیمتی زیوروں کی نمائش پر زیادہ محنت کی جاتی ہے تاکہ وہ گاہکوں کو خریدنے پر مائل کردیں۔ یعنی جتنا زیادہ اہم کام اُتنی ہی زیادہ محنت، نفاست، توجہ، انہماک، تن دہی اور عرق ریزی۔!
محنت بہرحال اپنا آپ منوا لیتی ہے۔ مثالیں کئی ہیں اور سبق صرف ایک کہ جو کام بھی کیا جائے خوب ہنرمندی سے کیا جائے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو یہ بات اپنے بندوں کے حق میں نہایت محبوب ہے اور نہ صرف اللہ کی رضا کے سبب بلکہ اس محنت کے قدرتی نتیجہ میں بھی ایک مسلمان، دنیا میں باقیوں کی نسبت قبولیت و امتیاز حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کا دین میں ہی نہیں، دنیا میں بھی سُرخ رُو اور اور سر بلند ہونا حد درجہ پسند ہے۔ البتہ اِس میں محنت اور مہارت بندوں نے ہی دکھانی ہوتی ہے اور انجامِ کار تو بالآخر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
شیخ سلمان العودۃ۔۔اردو استفادہ: مریم عزیز
آپ کو اگر ڈاکٹر صاحب کی قیام گاہ جانے کا اتفاق ہو تو ایک چیز جو اس نابغۂ روزگار ہستی کے مکان کے درو دیوار سے چھلکتی ہو ئی آپ محسوس کریں گے وہ ہے سادگی۔ صاحب خانہ کے دل کی طرح ۔ جہاں ’سیٹ‘ نام کا کوئی تکلف نہیں ہو گا۔ فرانس کا واٹر سیٹ یہ ماربل کا ڈنر سیٹ یہ ٹی سیٹ یہ فلاں سیٹ ۔ ڈاکٹر صاحب کی ہستی ایک ہی انمول سیٹ سے عبارت تھی؛ بندگی رب؛دعوت و تبلیغ اور اقامت دین۔
عمر بھر جائیداد نہ بنائی۔کرشن نگر(انڈیا) میں ایک رہائشی مکان تھا جسے بیچ کر لاہور ماڈل ٹاؤن میں ایک مکان کل جائیداد تھی؛وہ بھی زندگی زندگی اولاد کے نام کر گئے؛نامہ اعمال میں ایک ہی چیز ساتھ لے گئے: ’اسلام دین کامل‘!بینک والے ہمیشہ کڑھتے ہی رہے کہ چند روپوں کے لیے وہ اس اکاؤنٹ کو آخر کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ روپیہ نہ پیسہ جائیداد نہ بینک بیلنس شئیر نہ کاروباری شراکت؛ کہنے کو ڈاکٹر تھے۔ عام کالج کے نہیں ’کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج‘ کے؛ پریکٹس بھی کی مگر دل کو قرار نہ آیا۔ فرماتے تھے جس خدا کے دین کی عبادت اور دعوت کے لیے انسان پیدا ہوا ہے یہ اس میں مانع ہے۔پریکٹس سے تھک ہار کر میں خدا کے کلام سے کیا اخذ کر پاؤں گا ۔ کتاب اللہ کو ہاتھ لگانا ہے تو بھر پور توانائی کے ساتھ لگاؤ۔ قرآن کے ساتھ یہی عقیدت تنظیم کے وابستگان میں آپ کو نظر آئے گی۔ ایک نہیں دسیوں نے خدا کے دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا۔
رائج سیاست میں کبھی حصہ نہ لیا۔سیاست کو جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا کھیل سمجھتے تھے اور اسلامی انقلاب میں بڑی رکاوٹ اس لیے ہمیشہ سیاست سے کنارہ کش رہے۔ سوائے دو ماہ کے جوجنرل ضیاءالحق مرحوم کی مجلس شوریٰ میں بطور رکن گزارے۔ اگر چہ انہیں مرکزی وزارت کی پیش کش کی گئی تھی۔ ضیاءالحق کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا حسن ظن تھا جو جلد ہی غلط ثابت ہوا کہ وہ نیک نیت ہیں اور دین اسلام کے لیے کام کرنے میں سنجیدہ ہیں۔میٹرک کے طالب علم کی ہستی ہی کیا ہوتی ہے۔کھلنڈرا پن ؛لا پرواہی؛ہنسی مذاق؛ مگر یہاں بلا کی سنجیدگی؛ڈسپلن اور اسلامی بنیادی علوم کا گھر میں والد صاحب کی زیر نگرانی اہتمام۔میٹرک میں ہی پاکستان کا مطلب کیا کے ایسے کارکن بنے کہ عمر بھر پھراسی کے لیے ورک کرتے رہے۔مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن کی رکنیت اختیار کی تو اسی لیے؛مگر یہاں تو صرف وڈیرہ شاہی تھی۔اقبال کے بعد مولانا مودودی کی آواز نے بہت جلد اس ہونہار طالب علم کو اپنی طرف مائل کر لیا۔فیڈریشن چھوڑاسلامی جمعیت کی رکنیت اختیار کر لی۔تقسیم ہند کے بعد اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے محاورتاً نہیں حقیقتاً آگ اور خون کا دریا پار کر کے اپنے پیارے پاکستان پہنچے۔بیس دن مسلسل پیدل؛خوف و ہراس اور 170 میل کی مسافت۔
خواب تو یہاں چکنا چور ہوئے لیکن نوجوانوں کو ایک ان تھک قائد ضرور میسر آ گیا تھا۔ساری قیادت تو ہند میں تھی پاکستان کا مطلب کیا فریب ہی سہی بڑی قیادت اس زمین کی طرف ہجرت کر کے آ تو گئی۔ یہاں جو نا امیدی دیکھی گئی اس کا اثر آپ کی زندگی میں بہت نمایاں تھا خصوصاً آخری ایام میں۔
پاکستان کا مسئلہ کیا ہے۔کرپشن ؛ بد عنوانی؛ اقربا پروری؛ نوکر شاہی ؛ اشرافیہ کی اجارہ داری؛مارشل لاء…. مگر ڈاکٹر صاحب کا ایک ہی جواب تھا ؛ قرآن سے دوری! یہاں تک فرماتے تھے کہ اپنی بد اعمالیوں اور خدا سے کیے گئے عہد سے بے اعتنائی برتنے کی وجہ سے مغضوب علیہم کا مصداق یہودیوں کی بجائے مسلمان ہیں۔انہوں نے دین اسلام کے احیاءکے لیے اپنی جوانی تج دی تھی۔ جلسے جلوسوں میں لاٹھیاں کھائیں۔ ہجرت کی ۔ پریکٹس چھوڑی؛شب و روز کا مشغلہ قرآن ؛ قرآن فہمی رہا ؛سینکڑوں کو قرآن کے ساتھ شعوری طور پر جوڑا۔صاحب علم و فکر اور انجمن۔دوسروں کو قائل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت۔جب خطاب کریں تو عامی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سب یکساں سمجھ لیں ۔ پنڈال میں ایسی خاموشی اور سنجیدگی جیسے سروں پر پرند ہوں۔رعب دار اور گرجدار آواز ؛کوئی ابہام نہیں کوئی پیچیدگی نہیں؛الفاظ کا بہترین چناؤ ؛اشعار کا بر محل انتخاب؛بے ساختگی؛تصنع اور بناوٹ سے پاک؛الفاظ کی روانی؛زیر و بم مناسب اورموزوں ۔آخری دموں تک گلا صاف رہا اگر چہ کمر کا عارضہ کمر توڑ ثابت ہوا۔
ڈاکٹر اسرار’خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے‘ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔خواہ اسلامی جمعیت طلبہ کی نظامت کی ذمہ داری ہو یا تنظیم اسلامی کی امارت یا آخری ایام میں تنظیم کی سرپرستی کا زمانہ ہو ان کی ایک ہی لگن اور جستجو تھی کہ ہر مسلمان رب کی عبادت کرنے والا ہو جائے۔دین اسلام کا داعی اور مبلغ بنے اور اقامت دین کا فریضہ انجام دے۔پاکستان کی تاریخ میں معدودے چند ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے جوانی تا ادھیڑ عمراور پھر پیرانہ سالی میں اپنے نصب العین سے یک سرِ مو انحراف نہ کیا ہو۔کون ہے جس پر بدلتے حالات اثر انداز نہ ہوئے ہوں۔ پھر بیسوی صدی اور اس سے کہیں بڑھ کر اکیسوی صدی جو ہے ہی بنیادی تصورات اور عقائد میں تبدیلیوں کا زمانہ۔ایسے بے وفا دور میں ایسے وفادار!
ڈاکٹر اسرار کی مولانا مودودی سے جس قدر شدید محبت اور عقیدت تھی وہ سب کو معلوم ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت سے لے کر ماچھی گوٹھ(1957ء)میں مولانا سے اختلاف تک ان کی ساری جوانی اسلامی جمعیت اور جماعت اسلامی کے لیے وقف تھی۔جن ایام میں طالب علم سے کہا جاتا ہے کہ اپنا ’کیرئیر‘ بنا لو؛ اُن دنوں ڈاکٹر اسرار آخرت میں کیرئیر بنانے کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔جمعیت کے لیے دن رات کام کرتے تھے۔آج ہم جب میڈیکل کے طالب علم کو دیکھتے ہیں کہ ایم بی بی ایس کرنے کے لیے کتنا’پڑھاکو‘ہونا پڑتا ہے تو ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ ایک طالب علم جو اسلامی جمعیت طلبہ کے لیے ہی جیتا ہے اور صرف تنظیم کے لیے سوچتا ہے اپنی ڈگری بھی مکمل کر لیتا ہے۔مولانا مودودی نے ہندوستان سے کیسے کیسے ہیرے نکال لیے تھے؛ ڈاکٹر اسرار اس کی ایک مثال ہیں۔ڈاکٹر اسرار نے ملازمت کی نہ کلینک کیا۔ان کے من میں ایک ہی لگن سمائی رہی کہ دعوت و تبلیغ اور اقامت دین کی جد و جہد برابر جاری رہے۔اقبال اگر اس نوجوان مسلم کو دیکھتے تو ضرور اسے اپنی شاعری کی تعبیر سمجھتے۔
مولانا مودودی سے ان کی شدید محبت اور جماعت کے لیے ان کی لازوال خدمات اس میں مانع نہ ہوئیں کہ جسے وہ حق سمجھیں اس کے لیے پھر انسانی رشتوں کو قربان نہ کر سکیں۔جماعت اسلامی کا پاکستان کے انتخابات میں شمولیت کا فیصلہ صرف ڈاکٹر اسرار کے لیے ہی نا قابل فہم نہ تھا بلکہ جماعت کی اور بھی اہم شخصیات اس فیصلے کے بعدجماعت سے الگ ہو گئی تھیں لیکن جتنا صدمہ ڈاکٹر اسرار کو تھا شاید کسی کو ہوا ہو۔
جماعت سے علیحدگی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے1965ءسے لے کر 1972ءتک تن تنہا کام کیا۔حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے (1971ء)اپنے آپ سے عہد کیا کہ دین کے کام کے لیے ہمہ وقت فراغت حاصل کر لیں گے۔فرماتے ہیں کہ اس دن سے میرے وقت کا ایک ایک لمحہ اور میری قوت و صلاحیت کا ایک ایک شمہ دین کی خدمت کے لیے صرف ہوا ہے۔1972ءمیں انجمن خدام القرآن کی بنیاد رکھی۔1975ءمیں تنظیم اسلامی قائم ہوئی اُس اعلیٰ مقصد کے لیے جسے وہ سمجھتے تھے کہ انتخابی طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔بلا شبہ جماعت اسلامی کے انتخابی سیاست میں شمولیت کے فیصلے کے بعد اس بات کا امکان تھا کہ دعوتی اور تحریکی عمل کے لیے وہ توجہ اور وقت میسر نہیں آ پائے گا جو صدیوں سے منتشر الخیال قوم کو علم و عمل پر مجتمع کرنے کے لیے چاہیے۔اس زاویے سے دیکھا جائے تو تنظیم اسلامی جماعت ہی کے مشن کو لے کر آگے بڑھی۔پاکستان اور بنگلہ دیش میں اسلامی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی انتخابی طریقے کو واحد حل کے طور پر نہیں لیتی ہے ۔البتہ یہ درست ہے کہ انتخابات جماعتوں کو بہت مصروف کر دیتے ہیں اور دعوت و تحریک پر اس کا اثر پڑتا ہے۔
برصغیر میں مدتوں قرآن مجید طاق نسیان کی زینت رہا؛ خوش نما غلافوں میں لپٹا لپٹایا؛ یا پھر گلے کا تعویذ۔خانقاہی ملاؤں نے عام آدمی کے لیے قرآن فہمی کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے جب قرآن پر ملاؤں کی اجارہ داری ختم کرنے کے کٹھن کام کا آغاز کیا تو ان کی شدید مخالفت ہوئی مگر وہ یکسوئی سے اپنے مشن پر کار بند رہے۔آج تنظیم کے نو جوان بڑی بے ساختگی سے قرآن مجید پڑھنے پڑھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ایک تحریک ہے جو پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ قرآن سے فہم لینے سے اب ہمارا نوجوان نہیں گھبراتا۔
ڈاکٹر صاحب نے جس نقطہ نظر کو درست سمجھا اس پر تندہی سے کام کیا اپنی ذات اور اپنے خاندان کو اس میں شامل کیا اور ہر فورم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
پچھلی نصف صدی عالم اسلام میں تحریکوں کے جنم لینے کی صدی ہے۔ہندوستانی تحریکوں میں جماعت اسلامی؛تبلیغی جماعت اور دیوبند کی تحریکیں ہمہ گیر اور دور رس ثابت ہوئی ہیں۔ان پیرنٹ(parent)جماعتوں سے پھر اور تحریکوں نے جنم لیا جن کا مقصد اُس خلا کو پُر کرنا تھا جو کہیں نہ کہیں رہ ہی جاتا تھا۔اگر جماعتیں بنتی رہی ہیں تو ہندوستان کو چیلنج بھی ایک قسم کا نہیں تھا۔عقائد کی خرابیاں؛ایمان کے مفہوم میں اجنبی فلسفے ؛بدعات؛خرافات؛بدعملی؛منہج اہل سنت میں ابہام؛ منہج تلقی کا فقدان اوروحدتِ امت کے تصور سے دور تو ہماری اپنی اندر کی خرابیاں تھیں اس پر مستزاد استعمار کے لائے ہوئے نئے نئے ازم ۔ہندوستان میں ان سب سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک یا چند تحریکیں نا کافی تھیں۔ اس لیے اگر یہاں متعدد تحریکیں پائیں گئی ہیں تو یہ برصغیر کے فکری اور منہج کے الجھاؤ کی وجہ سے ایک طبعی عمل ہے۔تنظیم اسلامی کو ہم اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔شیطان کی البتہ یہ چال ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے کام کرنے والی تحریکوں کو باہم متصادم کر دے ۔
ڈاکٹر اسرار نے جس اعلیٰ مقصد کے لیے تنظیم بنائی تھی اس کی بھی بر صغیر میں ضرورت ہے۔تبھی تو ڈاکٹر اسرار نے پاکستان سے باہر خصوصاً ہند وستان میں بے حد مقبولیت پائی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں اہل سنت و الجماعت کی پائی جانی والی مختلف تحریکیں اور تنظیمیں ایک ہی کام کو مکمل کر رہی ہیں اور وہ ہے یہاں کے مسلمانوں کو شعوری طور پر بیدار کرناتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کوموجودہ زمانے کے مطابق ڈھال سکیں۔اس قاعدے کی رو سے کسی عام مسلمان کا اسلامی تنظیموں میں شامل ہونااسلامی عمل کو آگے بڑھانے کا باعث ہے۔ تاہم کسی خاص جماعت میں ہونا یا اختلاف کی صورت میں یا بلا اختلاف کسی اور جماعت کے طریقے کو اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے زیادہ مناسب سمجھ کر اس کی رکنیت اختیار کرنابالکل درست رویہ ہے۔
تنظیم اسلامی بھی اہل سنت و الجماعت کی ایک نمائندہ تنظیم ہے۔تنظیم جاہلی رسم و رواج کا رد کرتی ہے؛عام مسلمان کو قرآن مجید سے جوڑتی ہے؛پاکستان میں اللہ کی شریعت نافذ کرنے اور خلافت کے قیام کی شبانہ روز محنت کرتی ہے؛افراد میں انکساری اور ڈسپلن پیدا کرتی ہے؛دین کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کرناسکھاتی ہے؛خلافت اگر پاکستان کے علاوہ کہیں اورقائم ہوتی ہے تو تنظیم وہاں ہجرت کرنے کو واجب سمجھتی ہے اس طرح تنظیم نظریاتی طور پر کسی قطر یا خطے تک اپنے آپ کو محدود نہیں سمجھتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی رحلت کے ساتھ اُس کہانی کا ایک اور باب اپنے اختتام کو پہنچا جس کے پہلے سر خیل شاہ ولی اللہ دہلوی تھے۔خانقاہوں سے نکال کر دین کو معاشرے کی حقیقت بنانے کا مبارک کام جن شخصیات نے کیاتھا اس کی اب تک کی آخری کڑی ڈاکٹر اسرار تھے۔اس سلسلۂ فکر کی یہ کڑی اپنا فرض نبھا کرباقی کا کام آنے والوں کے لیے چھوڑ کراپنے ساتھیوں سے جا ملی ہے۔ناتوانی میں بھی اس قافلہ خیر و برکت کو کیا ہی اچھے حدی خواں ملے تھے۔اب اس قافلے کو اور بھی سبک رفتاری سے چلنا ہے۔ ایک نئے جذبے اور نئے آہنگ کے ساتھ۔عمل کو علم سے اور تحریک کو دعوت سے بر آمد کرتے ہوئے ۔
ڈاکٹر اسرار کی زندگی ہمارے نوجوانوں کے لیے نمونہ ہے۔ایک ایسا کردار جو تعلیم کے ساتھ تحریک کے تقاضوں کو نبھانا جانتا تھا۔جو حق کے لیے جیا حق پر رہا حق پر مرا۔(و لا نزکّی علی اللہ احداً)
خدایا ان کی قبر کو روضۃ من ریاض الجنۃ بنا۔ان کے اہل خانہ کو صبر کی توفیق عطا فرما۔ تنظیم کی قیادت کو توفیق دے کہ وہ تنظیم کو اس کے نصب العین کے مطابق چلاسکیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اقامت دین کی جو کوشش کی اسے قبول فرما ؛ اس کی تکمیل فرما۔تمام مسلمانوں کو عمل بالمعروف میں متحد فرما۔نہی عن المنکر کے خاتمے کے لیے قوت عطا فرما۔آمین
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقت ِدُعا ہے
ایک بار پھر گستاخانہ خاکے…. اور توہین ِ رسالت….
(معاذاللہ) ہمارے نبیﷺ کے مضحکہ خیز خاکے بنانے میں ہزاروں شقی اور تیرہ بخت افراد کی شمولیت….!!
ہر بار کے احتجاج اور لعنت ملامت کے باوجود، دو بارہ پہلے سے کہیں بڑھ کر جسارت، بدبختی، غلاظت ِ قلبی اور جہنم رسید ہونے کی خواہش کا برملا اظہار….
ان کی دنیا بھی عنقریب ان کے لیے جہنم بن جانے والی ہے….
ایک بڑی جنگ عنقریب چھڑ جانے والی ہے….
یہ جنگ ہم نے نہیں، خود انہوں نے ہی چھیڑی ہے….
یہ جنگ ہوکے رہے گی….
یہ وہ جنگ نہیں جو محض دلیل سے جیتی جاتی ہو….
یہ وہ کارزار نہیں جس کا حل ڈائیلاگ میں ڈھونڈا جاتا ہو….
شاعر: عدیل احمد عدیل (کراچی)
تبصرہ :
0